DW (Urdu)
DW (Urdu)

چین کے نئے سرحدی قانون سے بھارت پریشان کیوں؟

  • 38d
  • 0 views
  • 6 shares

مئی 2020 جاری فوجی تعطل دور کرنے میں ناکامی کے لیے بھارت اور چین ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ اس دوران بھارت نے چین کے نئے سرحدی قانون کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے باہمی سرحدی معاہدے متاثر ہو سکتے ہیں۔چین کے نئے سرحدی قانون 'لینڈ بارڈرز لاء‘ کے سلسلے میں نئی دہلی کا سخت ردعمل کچھ اسی طرح کا ہے جیسا ردعمل بیجنگ نے بھارت کی جانب سے اگست 2019ء میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے فیصلے پر کیا تھا۔ حالانکہ بھارتی وزارت خارجہ نے اس وقت کہا تھا، ”بھارت کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کرتا اور دیگر ملکوں سے بھی اسی طرح کی توقع رکھتا ہے۔" چین کی سرحدیں 14 ملکوں سے ملتی ہیں۔ اس نے بھارت اور بھوٹان کوچھوڑ کر بقیہ تمام ملکوں سے اپنے سرحدی تنازعات حل کر لیے ہیں۔ بھارت اور چین کے درمیان تقریباً 3500 کلومیٹر طویل سرحد تنازعہ ہے۔ جوہری ہتھیار رکھنے والے دونوں پڑوسی اس طویل سرحد اور اس کے اطراف کے علاقوں پر اپنے اپنے دعوے کرتے ہیں۔ دونوں ممالک میں 1962ء میں جنگ بھی ہو چکی ہے۔ چین کا فیصلہ یک طرفہ، بھارت بھارت نے بدھ کے روز بیجنگ سے کہا کہ وہ بھارت۔ چین سرحد کے متنازعہ علاقوں میں یک طرفہ تبدیلی کرنے کے لیے اپنے نئے سرحدی قانون کا استعمال کرنے سے گریز کرے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باگچی نے چین کے نئے سرحدی قانون کے حوالے سے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا،”چین کا نیا سرحدی قانون ہمارے لیے باعث ِ تشویش ہے۔ اس طرح کی قانون ساز ی کے متعلق چین کے یکطرفہ فیصلے کے بارڈر مینجمنٹ کے ہمارے موجودہ طریقہ کار پر مضمرات پڑسکتے ہیں۔کیونکہ اس میں سرحدی علاقوں میں اضلاع کی تشکیل نو کی گنجائش بھی موجود ہے۔" بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت او رچین کے درمیان سرحد کا سوال اب تک حل نہیں ہوسکا ہے،''دونوں فریق اس تنازعے کا بات چیت کے ذریعے منصفانہ، مناسب اور باہمی قابل قبول حل تلاش کرنے پر متفق ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے لائن آف ایکچوول کنٹرول (ایل اے سی) پر امن برقرار رکھنے کے لیے کئی عبوری باہمی معاہدوں، پروٹوکول اور انتظامات پر دستخط کررکھے ہیں۔ بھارتی ترجمان نے امید ظاہر کی کہ "چین نئے قانون کی آڑ لے کر بھارت۔ چین سرحدی علاقوں کی صورت حال میں کسی طرح کی یکطرفہ تبدیلی کی کوشش نہیں کرے گا۔" نیا قانون چین پاکستان سرحدی معاہدہ کا جواز نہیں بھارت نے کہا،''نئے قانون کی منظوری سے 1963ء کے نام نہاد چین پاکستان سرحدی معاہدہ کو ہماری نگاہ میں کوئی قانونی جواز حاصل نہیں ہوجاتا ہے۔ بھارت سرکار کا دیرینہ موقف ہے کہ یہ ایک غیر قانونی اور غلط معاہدہ ہے۔" بھارت کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان نے پاک مقبوضہ علاقے میں 5180 کلومیٹر بھارتی علاقے کو غیر قانونی طور پر چین کو دے دیا تھا۔ اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کیے جانے پر چین نے ”سخت تشویش" کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا،”متعلقہ فریقین کو تحمل اور احتیاط سے کام لینا چاہیے اور ایسی کسی یک طرفہ تبدیلی کرنے سے گریز کرنا چاہیے، جس سے موجودہ صورت حال میں فرق پڑے اور کشیدگی میں اضافہ ہو۔" بھارتی وزارت خارجہ نے اس کے جواب میں کہا تھا، ”بھارت کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کرتا اور دیگر ملکوں سے بھی اسی طرح کی توقع رکھتا ہے۔" چین کا نیا سرحدی قانون کیا ہے؟ چین کی نیشنل پیپلز کانگریس نے 23 اکتوبر کو ”ملک کے سرحدی علاقوں کے تحفظ اور استعمال" کے حوالے سے ”لینڈبارڈرز لاء‘‘ کے نام سے ایک نئے قانون کو منظوری دی ہے۔ اسے یکم جنوری سے نا فذ کردیا جائے گا۔ اسے چین کی جدید تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون میں ملک کی سرحدوں کے نظم و نسق کے حوالے سے تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں۔ اس قانون سے چینی فوج کے سرحدوں پر گشت کرنے یا انہیں بند کرنے کے سلسلے میں وسیع تر اختیارات مل گئے ہیں۔ یہ قانون سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں مثلاً بھارت، بھوٹان اور نیپال کے قریب کے گاؤں والوں کو ” پہلی ڈیفینس لائن'' کے طور پر اقدام کرنے کا اختیار بھی دیتا ہے۔ اس نئے قانون میں سرحدی علاقوں میں اقتصادی سرگرمیاں انجام دینے اور کام اور زندگی کے مواقع بہتر بنانے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت کو دراصل اس بات سے فکر لاحق ہے کہ چین کے اس نئے قانون سے سرحد پر فوجی پوزیشن پر کافی اثر پڑ سکتا ہے۔ چین قانون کی آڑ میں سرحدی علاقوں میں اپنی دفاعی پوزیشن اور انفرا اسٹرکچر کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔کیونکہ نئے قانون کے تحت چینی فوج کوملک کی کسی بھی سرحد پر پیش آنے والے کسی بھی طرح کے ”حملے، غیر قانونی قبضے، دراندازی یا اشتعال'' کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کی اجازت ہو گی۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں
Hind Samachar
Hind Samachar

کووڈ- 19 چیلنجز کے با جود ہندوستان- امریکہ کے تعلقات نئے مقام پر پہنچے: سندھو

کووڈ- 19 چیلنجز کے با جود ہندوستان- امریکہ کے تعلقات نئے مقام پر پہنچے: سندھو
  • 2m
  • 0 views
  • 0 shares

واشنگٹن: امریکہ میں ہندوستانی سفیر ترنجیت سنگھ سندھو نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان-امریکہ تعلقات نے کووڈ-19 سے جڑے چیلنجوں کے باوجود کئی بڑے مقام حاصل کئے ہیں۔ سندھو نے انڈیا - یو ایس فورم کے پانچویں ایڈیشن کے دوران جمعرات کو کہا کہ عالمی وبا کورونا وائرس سے در پیش چیلنجز کے باوجود کئی بڑے مقام حاصل کئے ہیں ۔ ہم دیکھا ہے کہ ستمبر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکہ کا تاریخی دورہ کیا،(امریکی) صدر جو بائیڈن کے ساتھ ان کی آمنے سامنے ون سربراہی ملاقات ہوئی اور کواڈ لیڈروں کی آمنے سامنے میٹنگ ہوئی ۔ سندھو نے کہا کہ امریکی انتظامیہ، پارلیمنٹ، صنعت، تارکین وطن اور امریکی عوام 2021 میں ہندوستان کی مدد کے لیے سامنے آئے، جب ہندوستان موسم گرما میں عالمی وبا کی دوسری لہر کا شکار ہوا تھا۔ صدر بائیڈن نے وزیر اعظم مودی سے بات کی اور اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ہندوستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جب گزشتہ سال امریکہ میں انفیکشن کے کیسز بڑھے تو ہندوستان نے کس طرح امریکہ کا ساتھ دیا تھا۔
سندھو نے کہا کہ پورے امریکہ سے ہمیں یہ حمایت ہمارے قریبی رشتو کی گواہی دہتا ہے۔ ہندوستان کی دوسری لہر سے ٹھیک پہلے، ہندوستان نے دنیا کے 90 سے زیادہ ممالک کو ویکسین بھیجی تھی اور یہ دیکھ کر دل خوش ہوا کہ ہمارے دوست اور امریکہ جیسے شراکت داروں نے ہندوستان کی ضرورت کے وقت اسی طرح مدد کی ۔ انہوں نے کہا کہ وبائی مرض میں، دونوں ممالک نے اپنی شراکت داری کو جاری رکھا۔ وزیر اعظم مودی نے صدر بائیڈن کے ذریعہ منعقدہ کئی سربراہی اجلاسوں میں حصہ لیا ہے، جیسے اپریل میں موسم پر آن لائن سمٹ، ستمبر میں COVID-19 پر آن لائن کانفرنس، اکتوبر میں روم میں G20 کے دوران گلوبل سپلائی چین سمٹ، نومبر میں گلاسگو میں COP-26 کے دوران بلڈ بیک بیٹر فرا دی ورلڈ سمت کانفرنس وغیرہ ۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں
Urdu Leaks
Urdu Leaks

ملعون وسیم رضوی ہندو بن گیا!

ملعون وسیم رضوی ہندو بن گیا!
  • 8m
  • 0 views
  • 0 shares

ملعون وسیم رضوی ہندو بن گیا

لکھنو_ شیعہ وقف بورڈ کا سابق چیئرمین ملعون وسیم رضوی آج (پیر کو) اسلام چھوڑ کر ہندو بن گیا ۔ قرآن پاک کی آیات حذف کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دینے والا ملعون وسیم رضوی نے ہندو مذہب قبول کرلیا۔ اتر پردیش کے غازی آباد میں داسنا دیوی مندر شیو شکتی دھام کے مہنت یتی نرسمہانند گری مہاراج نے ملعون وسیم رضوی کو سناتن دھرم میں شامل کرلیا۔ ہندو مذہبی رہنماؤں کی بڑی تعداد نے وسیم رضوی کے ہندو بننے کا خیرمقدم کیا ہے۔ملعون وسیم رضوی کی کتاب پر بھی کافی تنازعہ ہوا تھا

کچھ دن قبل ملعون وسیم رضوی نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ انہیں مرنے کے بعد دفنانے کے بجائے ہندو رسم و رواج کے مطابق سپرد خاک کیا جائے۔ قبل ملعون وسیم رضوی نے ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی، اس سے قبل ہی مذہبی رہنماؤں نے کہا تھا کہ انہیں قبرستان میں دفنانے کی جگہ نہیں دی جائے گی۔ اسی لیے انہوں نے کہا ہے کہ ان کی موت کے بعد ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں۔ صرف مہنت یاتی نرسمہانند گری مہاراج کو ہی اپنی چتا کو آگ دینا چاہیے۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں

No Internet connection