DW (Urdu)
DW (Urdu)

عراق سے بیلاروس تک کا روٹ، مہاجرین یورپ کیسے پہنچ رہے ہیں؟

عراق سے بیلاروس تک کا روٹ، مہاجرین یورپ کیسے پہنچ رہے ہیں؟
  • 33d
  • 0 views
  • 2 shares

مشرق وسطیٰ میں عراق سے ان دنوں ہزاروں تارکین وطن غیر قانونی طور پر یورپی یونین میں داخلے کے لیے اسمگلروں کی مدد سے بیلاروس کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سفر میں موت کے خطرات تک کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔یورپی یونین میں اپنے لیے بہتر اقتصادی مستقبل کی تلاش میں اب مختلف بحران زدہ اور ترقی پذیر ممالک سے مہاجرین اور تارکین مشرقی یورپ کے راستے کتنی بڑی تعداد میں یورپ پہنچنے لگے ہیں، اس کا اندازہ اس ایک بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رواں ماہ کے شروع سے اب تک ایسے تارکین وطن بیلاروس سے پولینڈ کے ریاستی علاقے میں داخلے کی 11 ہزار 300 کوششیں کر چکے ہیں۔ افغان مہاجرین کی آباد کاری، یورپی یونین فیصلہ نہیں کر سکی سال رواں کے دوران ایسے مہاجرین کی بیلاروس سے پولینڈ میں غیر قانونی داخلے کی مجموعی طور پر 23 ہزار کوششیں رجسٹر کی جا چکی ہیں۔ پولینڈ میں ایسے تارکین وطن جرمنی کے ساتھ سرحد تک پہنچ جاتے ہیں۔ جرمنی کے 16 میں سے تین صوبوں کی سرحدیں پولینڈ سے ملتی ہیں۔ یہ وفاقی جرمن صوبے برانڈن برگ، میکلن برگ مغربی پومیرانیا اور سیکسنی ہیں۔ جرمن سرحدی پولیس کے مطابق اس سال اب تک پولینڈ سے تقریباﹰ چھ ہزار تارکین وطن غیر قانونی طور پر جرمنی میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایسے تارکین وطن کا تعلق کن ممالک سے؟ عراق سے ایسے جن تارکین وطن کو بیلاروس کے راستے یورپ اسمگل کیا جاتا ہے، ان کی اکثریت کا تعلق تو عراق ہی سے ہوتا ہے مگر ان میں خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے شہریوں کے علاوہ افریقہ میں کانگو اور کیمرون جیسے ممالک کے باشندے بھی شامل ہوتے ہیں۔ مہاجرین کے لیے امیر یورپی ممالک تک پہنچنے کا نیا راستہ ان تارکین وطن کے لیے ان کے سفر کے آغاز کے مرکزی مقام تین ہیں۔ یہ تینوں عراقی کردستان کے علاقے کے شہر ہیں، جن کے نام اربیل، شیلادزی اور سلیمانیہ ہیں۔ اس سال اگست میں یورپی یونین کی طرف سے دباؤ کے نتیجے میں بغداد سے بیلاروس کے لیے براہ راست پروازیں بند کر دیے جانے کے بعد کئی ٹریول ایجنٹوں کے مطابق اب زیادہ تر تارکین وطن دبئی، ترکی، لبنان اور یوکرائن سے ہوتے ہوئے یورپی یونین میں داخلے کی کوشش کرتے ہیں۔ موریا کیمپ: آگ لگنے کے ایک سال بعد بھی مہاجرین مشکلات کا شکار اس نئی پیش رفت کا ایک ثبوت گزشتہ ہفتے جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان کی طرف سے دیا جانے والا یہ بیان بھی ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں بیروت، دمشق اور عمان سے براہ راست منسک آنے والی پروازوں کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ ویزوں کا انتطام اور سفری اخراجات کئی مختلف رپورٹوں کے مطابق ایسے تارکین وطن کے مشرق وسطیٰ سے یورپی یونین تک سفر پر فی کس 12 ہزار سے 15 ہزار یورو (14 ہزار سے 17 ہزار امریکی ڈالر) تک لاگت آتی ہے۔ اس میں ان تارکین وطن کے لیے ویزوں کا انتظام، فضائی سفر کے اخراجات اور یورپ پہنچنے کے بعد یورپی یونین میں اسمگل کیے جانے کا معاوضہ بھی شامل ہوتا ہے۔ یورپ کو افغان مہاجرین کے باعث ممکنہ بحران سے خوف انسانوں کی اسمگلنگ: اٹلی میں پاکستانیوں سمیت 19 ملزم گرفتار ایسے مسافروں کے لیے بیلاروس کے ویزے عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل میں واقع بیلاروس کا سفارت خانہ جاری کرتا ہے۔ عراقی دارالحکومت بغداد میں ایک ٹریول ایجنٹ نے اپنا اور اپنے کاروباری ادارے کا نام ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بیلاروس کے سفارت خانے نے ویزوں کے اجراء کا کام کئی مختلف ٹریول ایجنسیوں کو سونپ رکھا ہے۔ ماضی میں بلیک لسٹ کی گئی ویزا سروس کمپنیاں اس عراقی ٹریول ایجنٹ نے بتایا کہ پہلے وہ بھی اپنے گاہکوں کے لیے بیلاروس کے ویزوں کا انتظام کرتا تھا لیکن جب سے یہ کام بہت مشکوک ہوا ہے، اس نے اپنی اور اپنے بزنس کی ساکھ بچانے کے لیے ایسا کرنا بند کر دیا ہے۔ اس عراقی بزنس مین نے بتایا کہ عراق میں بیلاروس کے ویزے پانچ دن سے لے کر دو ہفتے تک کے عرصے میں مل جاتے ہیں۔ افغان مہاجرین کو فی الحال واپس بھیجنا ممکن نہیں، یورپی یونین بیلاروس کے ایک آزاد نشریاتی ادارے Belsat.eu کے مطابق سابق سوویت یونین کی اس جمہوریہ میں 12 ٹریول ایجنسیوں کو درپردہ یہ اجازت دی جا چکی ہے کہ وہ غیر ملکیوں کے لیے بیلاروس کے ویزوں کا اہتمام کر سکتی ہیں۔ ان میں سے کچھ کمپنیاں ماضی میں بلیک لسٹ بھی کر دی گئی تھیں مگر پھر انہیں دوبارہ کام کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ یورپ پہنچانے کے خوش نما کاروباری وعدے ترکی کے شہر استنبول میں پاسپورٹ اور ویزا سروس کا کام کرنے والی ایک کمپنی کا نام VIP Grub ہے۔ اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ عام لوگوں کی روایتی طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے یورپ پہنچنے میں مدد کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یورپ کو تو دراصل غیر ملکی اور تارک وطن کارکنوں کی ضرورت ہے۔ یورپ بھر میں سب سے زیادہ پناہ کی درخواستیں جرمنی میں اس ترک کمپنی نے اپنے اشتہارات میں جو تصاویر شائع کی ہیں، ان کے ساتھ یہ مختصر لیکن تارکین وطن کے لیے پرکشش تحریر بھی لکھی ہوئی ہوتی ہے: ''صرف یورپی فضائی کمپنیوں کے ذریعے، یورپ کو 1.2 ملین مہاجرین کی ضرورت۔ موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ہمیں ادائیگی اپنی منزل پر پہنچنے کے بعد کریں۔‘‘ فضائی کمپنیاں کون کون سی؟ یورپی یونین میں رجسٹرڈ کئی کمپنیاں اس وقت بیلاروس کی قومی ایئر لائن بیلاویا کو اضافی ہوائی جہاز لیز پر دے رہی ہیں۔ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے اس رجحان کے خلاف تنبیہ کی ہے اور متعلقہ اداروں پر پابندیاں عائد کر دینے کی دھمکی بھی دی ہے۔ لیبیا کے حراستی مراکز میں 'ہولناک تشدد‘ میں یورپی ملکوں کی ساز باز بیلاروس پہنچنے والے اکثر تارکین وطن بیلاویا ایئر لائنز کی استنبول، دبئی یا دیگر شہروں سے براہ راست آنے والی مسافر پروازوں کے ذریعے منسک پہنچتے ہیں۔ یورپی یونین میں مسافر ہوائی جہاز کرائے پر دینے کے کاروبار کا مرکز آئرلینڈ ہے۔ دنیا میں جتنے بھی مسافر طیارے لیز پر لیے جاتے ہیں، ان میں سے نصف سے زائد کی لیزنگ آئرش کمپنیوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ آئرلینڈ کے کچھ اداروں نے آج بھی Belavia کو کرائے پر ایسے ہوائی جہاز دے رکھے ہیں، جن کے ذریعے تارکین وطن کو یورپ کی دہلیز تک پہنچایا جاتا ہے۔ نو سالہ لڑکا کشتی میں مر گیا تو لاش سمندر میں پھینک دی گئی اس کے برعکس قطر ایئر ویز اور ٹرکش ایئر لائنز جیسی فضائی کمپنیاں اپنے منسک جانے والے مسافروں کی بہت سخت اسکریننگ کرتی ہیں۔ تاہم بغداد میں ایک ٹریول ایجنٹ کے مطابق، ''عراق سے ہر روز بہت سے مسافر ترکی اور دبئی جاتے ہیں۔ کسی بھی ایئر لائن کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ یہ پتہ چلا سکے کہ ان مسافروں میں سے کون بالآخر بیلاروس جانا چاہتا ہے اور کون نہیں۔‘‘ م م / ع ب (روب مج، منیر غائدی)

Dailyhunt

مزید پڑھیں
معيشت
معيشت

بے حسی تو عام بات ہے ،اب تو شکوہ بھی گناہ ہے

بے حسی تو عام بات ہے ،اب تو شکوہ بھی گناہ ہے
  • 1hr
  • 0 views
  • 2 shares

دانش ریاض، معیشت،ممبئی

یہ کوئی پندرہ برس پرانی بات ہے۔ نوجوانوں کے ایک گروپ پر غلبہ دین کا سودا سمایا ہوا تھا۔وہ اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو نافذ کرنا چاہتے تھے اور اس کے لئے خود بھی ان لوگوں کے نقش قدم پر چلنا چاہتے تھے جو اسلاف کہلاتے ہیں۔انہوں نے ملک بھر میں اس کی تحریک چلائی اور ابلیسی ٹولوں میں کہرام مچادیا ۔اسی دوران کچھ لوگوں کو ایسا محسوس ہوا کہ کہیں یہ ملت کے اجارہ دار نہ بن جائیں لہذا رقیب بن کر تھانے میں رپٹ لکھوانا شروع کردیا اور یہ شکایت درج کروائی کہ اس دور میں بھی کچھ لوگ خدا کا نام لینا چاہتے ہیں لہذا ان پرکارروائی لازم ہے۔ابلیس کے نمائندے پہلے سےگھات لگائے بیٹھے تھے ،انہوں نے آناً فاناً ایسی کارروائی کی کہ سیکڑوں گھر آہ و بکا کا نظارہ پیش کرنے لگے۔جب ظلم کا ٹانڈو تھوڑا کم ہوا تو سیکڑوں نوجوان جو سلاخوں کے پیچھے بھیج دئے گئے تھے۔ ان کی ضمانتیں منظور ہونی شروع ہوئیں اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ جس ملت کے نام پر وہ سنت یوسفی ادا کرنے گئے تھے وہی ملت ان کی ضمانت لینے کو تیار نہ تھی اور پھر غیر مسلموں نے ان کی ضمانتیں کروائیں اور پھر وہ رہائی کی دہلیز تک پہنچے۔
دوتین روز قبل جب میں نے مولانا عمر گوتم کی بیٹی کا دردچھلکتے دیکھا تو محسوس ہواکہ اس معصوم بہن نے بےجا ہی شکوہ کیا ہے یہ ملت توآرین خان کی ماں(Gauri Chhibber) گوری چھبر کا درد محسوس کرتی ہےاسے ملت کی اس بیٹی کا درد کیونکر محسوس ہوگا جو دین کے نام پر ظلم و ستم برداشت کررہی ہو ۔ اس ملت کے بزرگان تو اپنی امارت قائم کرنے میں کروڑوں روپیہ بریانی پر صرف کرتے ہیں لیکن انہیں اس بات سے کیا خبر کہ کوئی دین کے نام پر سوکھی روٹی سے بھی محروم ہورہا ہے۔ اس ملت کے ذی ہوش تو جلسے جلوس،ویبی نار اور سیمینار پر لاکھوں روپیہ خرچ کرسکتے ہیں لیکن انہیں کسی ایسے جلسے کی کیا حاجت جہاں دین کے نام پر لوگوں کو پریشان کرنے والوں کے خلاف لام بندی کی گئی ہو۔
ہاں دین کے نام پر ایک کاروبار میں برسوں سے دیکھ رہا ہوںوہ یہ کہ
مہاراشٹر کا مسلمان آسام اور تریپورہ میں ہورہے ظلم پر تومچل جاتا ہے لیکن مہاراشٹر میں ہی مسلمان کسی مسلمان پر ظلم کررہا ہو تو اس پر جوں تک نہیں رینگتی۔
بہار کا مسلمان دین و شریعت بچانے میں لاٹھی ڈنڈے کے ساتھ سڑکوں پر نکل آتا ہے لیکن جب اسی بہار میں کسی مسلمان کی ہندتوا وادی لنچنگ کردیتے ہیں تو اس کا خون جوش نہیں مارتا۔
اترپردیش کا مسلمان لال ٹوپی پہن کر سلامی مارنا تو فخر سمجھتا ہے لیکن جب کسی رامپوری ٹوپی کی عزت اترتی ہے تو خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔
دراصل ہمارے لیڈران کشمیر میں امن کی بحالی کے لئے جنیوا تو چلے جاتے ہیں لیکن معصوم بلکتے بچوں کے قتل عام پر وہ پارلیمنٹ اسٹریٹ پر بھی جمع ہونا توہین سمجھتے ہیں۔
ہمارے لیڈران چار مینار سے نکل کر قطب مینار پر دھرنا دینے تو چلے آتے ہیں لیکن مینار کے کونے میں روزبروز اٹھتی عمارت کو منہدم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
وہ ملت کو لکھنوی بھول بھلیوں کےاندر تو لے جاتے ہیں جو ایک دروازے سے دوسرے دروازے کا سفر طے کراتا رہے لیکن اس راستے کی طرف رہنمائی نہیں کرتے جو قلعے سے باہر نکالتاہو۔
چونکہ اس وقت ہندوستان میںاسلام کاروباریوں کے حصار میں ایسا گرفتار ہوگیا ہےکہ اقراری اور انکاری دونوں اس سے مستفید ہورہے ہیں۔
اقراری جبہ و دستار کے حصار میں استفادہ کررہا ہے جبکہ انکاری جبہ ودستار کے اشتراک سے استفادہ کررہا ہے ۔
پریشان تو وہ لوگ ہیں جو اسلام کے پرستار ہیں لہذا انہیں نہ انکاری پسند کررہے ہیں اور نہ ہی اقراری ۔
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے ،آپ اقراری بننا چاہتے ہیں یا انکاریوں کےساتھ صف بستہ ہونا چاہتے ہیں ۔کیونکہ فائدہ دونوں جانب ہے۔
لیکن اگر غلطی سے آپ پرستاران مصطفیﷺ ہیں تو یاد رکھیں موجودہ دور میں آپ کا شکوہ کرنا بھی اقراری و انکاریوں کو پریشان کرسکتا ہے۔کیونکہ ان کے پاس علامہ اقبال کا بہترین شعر ہے
شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور

Dailyhunt

مزید پڑھیں
News18 اردو

FIFA Arab Cup 2021 : جانئے کون کون سی ٹیمیں ہورہی ہیں شریک اور کیا ہے ٹورنامنٹ کا فارمیٹ اور شیڈیول

FIFA Arab Cup 2021 : جانئے کون کون سی ٹیمیں ہورہی ہیں شریک اور کیا ہے ٹورنامنٹ کا فارمیٹ اور شیڈیول
  • 1hr
  • 0 views
  • 1 shares

دوحہ : قطر میں فیفا عرب کپ 2021 کا آغاز ہوگیا ہے ۔ یہ ٹورنامنٹ ایسے وقت میں منعقد ہورہا ہے جبکہ فیفا ورلڈ کپ 2022 کو صرف ایک سال کا ہی وقت باقی رہ گیا ہے ۔ فیفا عرب کپ کے ایک میچ میں قطر نے بحرین کو ایک صفر سے ہرادیا جبکہ ایک دوسرے میچ میں تیونیسا نے موریطانیہ کو پانچ ایک سے شکست دی ۔ وہیں ایک دیگر مقابلہ میں عراق اور عمان کے درمیان میچ ایک ایک سے ڈرا پر ختم ہوا ۔

ٹورنامنٹ میں کتنی ٹیمیں شرکت کررہی ہیں ۔

فیفا عرب کپ 2021 میں کل سولہ ٹیمیں شرکت کررہی ہیں ، جن کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

گروپ اے : قطر ، عراق ، عمان ، بحرین

گروپ بی : تیونیسیا ، متحدہ عرب امارات ، شام ، موریطانیہ

گروپ سی : مراقش ، سعودی عربیہ ، جورڈن اور فلسطین

گروپ ڈی : الجیریا ، مصرف ، لبنان اور سوڈان



ٹورنامنٹ کا فارمیٹ کیا ہے ؟

ہر ایک ٹیم تین گروپ میچیز کھیلے گی اور ہر گروپ سے ٹاپ کی دو ٹیمیں کوارٹر فائنل میں جائیں گی ۔ کوارٹر فائنل کے میچیز دس اور گیارہ دسمبر کو کھیلے جائیں گے ۔

کوارٹر فائنل کی چار فاتح ٹیمیں سیمی فائنل کھیلیں گی ، جہاں سے دو ٹیمیں فائنل میں جگہ بنائیں گی ۔ سیمی فائنل کے میچیز 18 دسمبر کو کھیلے جائیں گے ۔

کن کن اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے میچیز

ٹورنامنٹ کے سبھی میچیز ملک کے چھ اسٹیڈیموں میں کھیلے جائیں گے ۔ ان میں سے چار اسٹیڈیمس ایسے ہیں ، جہاں پہلے بھی فٹ بال کے میچ کھیلے جاچکے ہیں ۔ راس ابو عبید اسٹیڈیم اور البیت اسٹیڈیم میں افتتاحی میچ کھیلے گئے ۔


قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں

No Internet connection