DW (Urdu)
DW (Urdu)

روسی باشندے کووڈ ویکسین کے خلاف کیوں ہیں؟

  • 29d
  • 0 views
  • 0 shares

روسی دارالحکومت ماسکو اور اس کے نواحی علاقوں میں نیا لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ روس کی مجموعی آبادی میں سے اب تک ایک تہائی نے ہی کورونا کے خلاف ویکسین لگوائی ہے۔روس میں ویکسین لگوانے کی شرح انتہائی کم ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی وجہ حکومت پر بداعتمادی ہے۔ کورونا کی نئی لہر کی وجہ سے ماسکو میں اسکول، دکانیں، ریستوراں، اسپورٹس کمپلیکس اور ہیئر سیلون ایک بار پھر بند کر دیے گئے ہیں۔ روزانہ استعمال کی اشیاء فروخت کرنے والی دکانوں اور میڈیکل اسٹورز کے ساتھ ساتھ میوزیم اور تھیٹر بھی بند نہیں کیے گئے۔ تاہم داخلے کے لیے لوگوں کو کووڈ ویکسینیشن یا اس بیماری سے مکمل صحت یابی کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ نیا لاک ڈاؤن سات نومبر تک نافذ العمل رہے گا۔ ماسکو کے میئر نے ان نئے اقدامات کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا تھا۔ اس سے ایک دن قبل روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ایک حکم نامے کے تحت نومبر کے پہلے ہفتے میں ملک بھر میں عوام کے لیے تنخواہ کے ساتھ ایک ہفتے کی چھٹی کا اعلان کر دیا تھا۔ ویکسینیشن کی کم شرح روس میں تقریباﹰ ایک برس قبل کووڈ انیس کے خلاف ویکسینیشن مہم کا آغاز ہوا تھا تاہم ابھی تک ایک تہائی عوام نے ہی کووڈ انیس کے خلاف ویکسین لگوائی ہے۔ روس میں ویکسین لگوانے کی شرح دیگر صنعتی ممالک کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ جرمنی میں ویکسین لگوانے کی شرح روس سے دوگنا ہے۔ ستائیس اکتوبر کو روس میں کورونا کے چھتیس ہزار نئے کیس رجسٹر ہوئے، جو اس وبا کے آغاز کے بعد کسی ایک دن میں نئی انفیکشنز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ روس میں اس عالمی وبا کی وجہ سے یومیہ تقریباﹰ ایک ہزار لوگ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ ماسکو کے میئر نے خبردار کیا ہے کہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو آئندہ دنوں میں صورت حال انتہائی ابتر ہو سکتی ہے۔ روسی حکومت کو امید ہے کہ لاک ڈاؤن اور لازمی ویکسین لگوانے کے قانون کو متعارف کرانے کے بعد حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ تاہم ایک نئے سروے کے مطابق روسی عوام اس اہم معاملے پر تقسیم رائے کا شکار ہیں۔ اس سروے کے نتائج کے مطابق سینتالیس فیصد عوام ویکسین کو لازمی بنانے کے حق میں جبکہ اتنی ہی تعداد اس کے خلاف بھی ہے۔ اس سروے سے یہ علم بھی ہوا کہ ساٹھ فیصد شہری سمجھتے ہیں کہ ویکسین ہی اس وبا سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے جبکہ تئیس فیصد عوام کا خیال ہے کہ کووڈ ویکسین غیر ضروری ہے۔ دوسری طرف غیر سرکاری ادارے لیواڈا سینٹر کے ڈائریکٹر ڈینس وولکوف کے مطابق موسم گرما کے آغاز کے بعد سے روس کی نصف آبادی اب ویکسین کے خلاف ہو چکی ہے جبکہ صرف تیس فیصد باشندے ویکیسن لگوانے کے حق میں ہیں۔ حکام پر بد اعتمادی لیواڈا سینٹر کے سروے کے نتائج کے مطابق عوام کو نہ تو حکام پر اعتماد ہے اور نہ ہی ویکسین کے فعال ہونے پر۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں ڈینس وولکوف نے کہا کہ پچاس فیصد عوام حکومت کی کارکردگی پر تحفظات رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں، جو حکومت کے سبھی اقدامات پر تنقید کرتے ہیں۔ رومیر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر آندرے ملیکین نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا کہ ان کے تحقیق بتاتی ہے کہ نصف آبادی کورونا سے مقابلے کے لیے بنائی گئی حکومتی پالیسی پر اعتبار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روسی معاشرہ پولرائزیشن کا شکار ہو رہا ہے اور اس میں آن لائن مباحثے بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، جہاں زیادہ تر غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔ ہر چیز پر پابندی ممکن نہیں آندرے ملیکین کے خیال میں اس وبا میں حکومت غلط طریقہ اختیار کرتے ہوئے پابندیاں لگا رہی ہے۔ مارچ سن دو ہزار بیس میں روسی پارلیمان نے ایک قانون منظور کیا تھا، جس میں ہنگامی صورت حال، آفات کے دوران اور وبائی امراض سے نمٹنے والی ریگولیشنز کی خلاف ورزی کو مجرمانہ عمل بنا دیا گیا تھا۔ آندرے ملیکین کہتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے کہ حکومت ہر چیز پر پابندی لگا دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورت حال میں جو قدم بھی اٹھایا جائے، وہ منصفانہ ہونا چاہیے اور اس بارے میں ماہرین کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔ وولکوف کے بقول ماسکو اور اس کے نواحی علاقوں میں نیا لاک ڈاؤن اور ایسے لوگوں پر پابندیاں لگانے کا عمل، جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی، دراصل اینٹی ویکسین تحریک کو مزید تقویت بخشے گا۔ وولکوف نے کہا کہ ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ زیادہ تر ایسے روسی جو ویکسین نہیں لگوانا چاہتے، دراصل ویکسین لگوانے کے عمل کو مؤخر کر رہے ہیں اور اگر حکومت نے زیادہ سختی کی، تو وہ اس سے متنفر بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ آرٹیکل پہلی مرتبہ روسی زبان میں شائع کیا تھا سرگئی سٹانوفسکی (ع ب ، م م )

Dailyhunt

مزید پڑھیں
Hind Samachar
Hind Samachar

کیجریوال، کیپٹن اور بادلوں پر برسے مکھیہ منتری چرنجیت سنگھ چنی، کہا-ہالے کاں مارکے ٹنگے نے، پکچر تاں باقی اے

کیجریوال، کیپٹن اور بادلوں پر برسے مکھیہ منتری چرنجیت سنگھ چنی، کہا-ہالے کاں مارکے ٹنگے نے، پکچر تاں باقی اے
  • 4m
  • 0 views
  • 0 shares

جالندھر : پنجاب کے نئے بنے مکھیہ منتری چرنجیت سنگھ چنی پنجاب کی سیاست کا مرکزی نقطہ بنے ہوئے ہیں۔ چنی کی طرف سے دھڑا دھڑ ایک کے بعد ایک کرکے کئے جارہے فیصلے اور دن رات لوگوں میں موجودگی جہاں انہیں سیاسی طور پر مضبوط بنارہی ہے-

وہیں مخالفین اس سب پر کئی طرح کے دلائل دیکر ان پر تنقید کرتے ہیں لیکن مکھیہ منتری چرنجیت سنگھ چنی کی سنیں تو ان کا ماننا ہے کہ ہر شخص کو اپنی چال چلتے رہنا چاہئے۔ ان کے مطابق دوسرے کی لائن چھوٹی کرنے کی بجائے خود کی لائن بڑی کر لینی چاہئے۔ چنی کے مطابق پبلک فگر کو ہمیشہ جنتا کے لئے کام کرنا چاہئے۔ میرا کام لوگوں کی ضروریات پوری کرنا ہے ۔ نہ کہ مخالفین کی فالتو باتوں میں الجھے رہنا ہے۔ ابھی تو 'ہالے تاں کاں مار کے ٹنگے نے پکچر باقی اے' (فی الحال تو ابھی کوے مار کر ٹانگے ہیں ، پکچر ابھی باقی ہے)۔
پنجاب کی موجودہ سیاسی صورتحال 2022کے چنائو کانگرس کے مستقبل اور اروند کیجریوال اور اکالیوں کے تمام سوالوں کو لے کر پنجاب کیسری کے پترکار رمن دیپ سنگھ سوڈھی نے مکھیہ منتری چرنجیت سنگھ چنی سے خصوصی بات چیت کی۔ اس ملاقات میں سی ایم چنی نے جہاں سیاسی مسائل پر تو بات کی ہے وہیں انہوں نے اپنے پریوارک پس منظر کو لے کر بھی کئی ان سنے قصے سنائے۔ پیش ہیں بات چیت کے اہم اقتباسات:
کیا دلت سی ایم کے ذریعے کانگرس ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے؟
بے شک میں پچھڑے طبقے سے تعلق رکھتا ہوں۔ لیکن میرے فیصلے سبھی طبقات کے لئے سانجھے ہیں۔ آج میں نے پانی کی موٹروں کے بل معاف کئے ہیں، پٹرول سستا کیا ہے، ریل سستی کی ہے، تو یہ پورے پنجاب کے لئے ہے نہ کہ کسی ایک طبقے کے لئے ہے۔ غریب تو آج بھی غریب ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے پنجاب میں راجواڑہ شاہی سیاست جو کیپٹن اور بادلوں کے ذریعے چلتی رہی ہے انہوں نے ہمیشہ میچ فکسنگ کرکے پنجاب کے لوگوں کے ساتھ کھیلا ہے۔ لیکن میں ایسا ہونے نہیں دوںگا۔یہ بدلائو سونیاجی اور راہل گاندھی جی کی سیکولر سوچ کے سبب ہی ممکن ہوپایا ہے۔ حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ جب فون پر راہل جی نے مجھے پنجاب سنبھالنے کا حکم دیا تو ایک وقت کے لئے میں جذباتی ہوگیا تھا لیکن آج پنجاب کا ہر شخص خود کو پنجاب کا سی ایم مانتا ہے۔

ٹکٹ دینا اور کاٹنا نہ میرے نہ سدھو کے ہاتھ میں- سدھو کی مجھے چنتا، ان کی جان داؤ پر نہیں لگنے دیں گے
چنی سے جب نوجوت سنگھ سدھو کی طرف سے خود کی سرکار کو مدعوں پر گھیرنے اور مرن برت رکھنے کی چیتاونی کا سوال کیا گیا تو سی ایم نے کہا کہ سدھو ہمارے پردھان ہیں ان کی مجھے چنتا ہے اس لئے ان کی جان کو دائو پر نہیں لگنے دیں گے رہی بات ڈرگ معاملے کی تو وہ ابھی کورٹ میں ہے۔ رہی بات مجیٹھیہ کی تو میں نے اسے صاف الفاظ میں کہا کہ اس کا روم روم کسی نہ کسی گندگی سے بھرا ہوا ہے۔ چاہے وہ ریل بجری کی گندگی ہے ۔ بھلے کرپشن اور ڈرگز کیوں نہ ہو۔ اگر پرماتما نے چاہا تو حساب برابر ضرور ہوگا۔ بکرم مجیٹھیہ کی کارروائی کرنے کی للکار پر چنی نے جواب دیا کہ آپ اس کے دل سے پوچھ کر دیکھو وہ عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہے۔ بھائی صاحب پانی پلوں کے نیچے سے ہی گزرنا ہے ۔ رہی بات بے ادبی کی تو اس معاملے میں جانچ ڈیرہ مکھی تک پہنچ چکی ہے ہم کورٹ کے معاملوں میں دخل اندازی نہیں کرسکتے۔
نوجوت کے ساتھ میرا پیار ہے وہ ہماری پارٹی کے پردھان ہیں اور میرے من میں ان کے لئے ستکار ہے۔ مجھے تنقید خوب پسند ہے اور خوشامد کرنے والے لوگ مجھے اچھے نہیں لگتے۔ تنقید کرنے والے کا میں ہمیشہ شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اگر آپ کے نقاد نہیں ہیں تو آپ کا سدھار کبھی نہیں ہوسکتا۔ مکھیہ منتری سے جب یہ پوچھا گیا کہ آپ کے پردھان نوجوت سدھو نے کہا ہے کہ اس بار کی الیکشن میں پنجاب کے کئی موجودہ ودھائیکوں کے ٹکٹ کاٹے جاسکتے ہیں تو اس پر چنی نے جواب دیا کہ ٹکٹ کاٹنا اور دینا نہ تو میرے ہاتھ میں ہے اور نہ ہی سدھو کے ہاتھ میں ہے۔
یہ فیصلہ ہماری ہائی کمان نے کرنا ہے۔ وہ ہم سے پوچھیں گے تو ہم اپنی رائے ضرور دیں گے۔ مگر میرا ماننا ہے کہ پنجاب میں ہماری ساری ٹیم اچھا کام کررہی ہے۔


این آر آئیز کیلئے لارہے ہیں نیا قانون
مکھیہ منتری چنی نے بتایا کہ جب بھی بدیش سے کوئی دوست فون کرتا ہے تو وہ بدیش میں ملنے والی سہولات کی بات کرتا ہے۔ جس سے میں وچلت ہوجاتاہوں کہ یہ سہولات پنجاب میں کیوں نہیں۔انہو ںنے بتایا کہ این آر آئی کیلئے ہم نیا قانون لانے جارہے ہیں۔ اب پنجاب میں کسی بھی این آر آئی کی پراپرٹی اس کی گرداوری بدلوانے کیلئے بھی کم از کم کمشنر یا ڈپٹی کمشنر سے رپورٹ لینی پڑے گی۔ جب تک متعلقہ این آر آئی سے تصدیق نہیں ہوجاتی تب تک گرداوری نہیں ہوگی۔ این آر آئی اگر پنجاب آتاہے تو اس پر کسی بھی طرح کا معاملہ درج کرنے سے پہلے آئی جی لیول کے افسر کی منظوری لینی پڑے گی۔ اب یہ نہیں ہوگا کہ مخالف رشتے دار کی طرف سے منشی کو پیسے دیئے اور پرچہ ہوگیا۔ این آر آئیز پر جھوٹے مقدمات درج نہیں ہونے دیںگے۔

بستہ اور بوری لے کر اسکول جاتے تھے چنی
میں اپنے گاؤں بھجولی کے پرائمری اسکول میں پڑھا ہوں، اس وقت سرکاری اسکول ایک گوردوارہ صاحب کی عمارت میں چلتا تھا۔ اوپر گوردوارہ تھ اور نیچے ہال میں کلاس لگتی تھی ۔ مجھے یاد ہے میں ناشتے کے ساتھ کھاد والی بوری لے کر جاتا تھا ، جس کو زمین پر بچھا کر بیٹھتا تھا۔ اس وقت ڈیسک کی ویوستھا تو نہیں ہوا کرتی تھی ۔ میرے پتا اس وقت ٹینٹ کا کام کرتے تھے، جو گاؤں سے کھرڑشہر شفٹ ہوگئے تو پھر میں نے وہاں کے خالصہ اسکول میں داخلہ لیا ، جہاں چھٹی کلاس سے لیکر 11 ویں تک کی پڑھائی پوری کی۔ 12 ویں میں نے خالصہ کالج چنڈی گڑھ سے پوری کی۔ اس میں بعد میں چنڈی گڑھ یونیورسٹی میں پڑھائی کی ۔

جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں سی ایم چنی
مکھیہ منتری چنی سمیت وہ چار بھائی ہیں۔ ان کے ایک بھائی اوور سیر رہے جو چیف انجینئرتک پہنچے۔ ایک بھائی ان کا ڈاکٹر ہے۔ ان کے پتا چاہتے تھے کہ ایک لڑکے کو ڈاکٹر ایک کو انجینئر ایک کو وکیل اور ایک لڑکے کو گھر کے کام کاج کیلئے رکھنا ہے۔وہ مجھے وکیل بنانا چاہتے تھے ا س لئے میں نے وکالت کی لیکن وکیل نہیں بن پایا۔ میرا تیسرا بھائی گھر کا کام کاج دیکھتا ہے۔ ہماری جوائنٹ فیملی ہے۔ دو میری بہنیں ہیں جو شادی شدہ ہیں ہمارا مشترکہ پریوار ہے۔


پتا کی محنت اور ماں کی پٹائی نے بنادیا سی ایم
چنی مانتے ہیں کہ ان کے پتا نے ٹینٹ کا کام کرتے ہوئے اتنی سخت محنت کی جس سے انہیں پورے پریوار کا پیٹ بھرا اور سبھی بچوں کو اچھی تعلیم فراہم کی۔ میں نے اپنی ماں سے بہت مار کھائی اور پیار بھی اتنا کیا۔ باقی بھائی سوچتے تھے کہ چنی ماں کے زیادہ قریب ہے۔ میرے باپ نے مجھے اخلاق اور دوسروں کیلئے جینا سکھایا۔ پتا جی کی تعلیم کے نتیجے میں آج تک 19بار خوان دان کرچکا ہوں۔ میں نے دسویں کلاس میں پہلا خون دان کیمپ لگایا تھا جس میں سب سے پہلے خود نے ہی خون دان کیا۔ اس کے بعد میں نے آنکھوں کے کیمپ لگانے شروع کئے اور وہ سلسلہ آج سی ایم بننے کے بعد بھی جاری ہے۔ یہ سب میرے ماتا پتا کی بدولت ہی ہورہا ہے۔

دوسروں کو مٹانے کی سوچ نہیں رکھنی چاہئے
سی ایم چنی سے جب ان کے فرش سے عرش تک آنے کے تجربے کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب تھا'آپ کی نیت صاف ہونی چاہئے ،ایمانداری رہنی چاہئے، سوچ صاف ہونی چاہئے ،اگر آپ کے پڑوسی اور دوست بڑے ہوںگے تو آپ بھی ترقی کریںگے۔ پنجاب آگے بڑھے گا تو آپ بھی آگے بڑھیںگے۔ میرے مطابق سوچ بڑی رکھنی چاہئے۔ پرماتما ہمیشہ آپ کا ساتھ دیتے ہیں'۔

اب چلے گی پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ
میں حیران ہوں کہ پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ کی حالت پر پچھلے وقت میں کسی نے دھیان ہی نہیں دیا۔ 150کروڑ روپے کا اس یونیورسٹی پر قرض تھا۔جس کی قسط موڑنی بھی مشکل ہورہی تھی۔ اب تک ہر مہینے ساڑھے 9کروڑ روپے سرکار انہیں دے رہی تھی جبکہ 20کروڑ روپے مہینے کا خرچ ہے۔ تو ایسے میں یونیورسٹی کیسے چل سکتی تھی۔ میں نے ان کا سارا خرچہ اٹھایا اور 20کروڑ روپے مہینہ دینا شروع کیا۔ اب سارا قرض سرکار چکائے گی اور یونیورسٹی کو چنتا مکت کردیاگیا ہے۔ میں نے ڈوبی ہوئی یونیورسٹی کو بچایا ہے۔ مجھے اس بات کا فخر ہے کیونکہ میں خود اس یونیورسٹی سے پڑھاہوں۔


سی ایم کا وعدہ زخمی کا علاج کراؤ نہیں پوچھے گی پولیس
سی ایم سے جب سوال کیاگیا کہ آج بھی اگر کسی شخص کو جھگڑے میں یا کسی وجہ سے گولی لگ جاتی ہے کسی شخص کا ایکسیڈنٹ ہوجاتاہے تو ڈاکٹر پہلے پولیس کا انتظار کرتے ہیں۔ اس کے بعد علاج شروع کیا جاتاہے۔ جس کے سبب کئی لوگوں کی جان چلی جاتی ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے سی ایم نے زبان دی کہ آپ زخمی کا علاج کراؤ پولیس تنگ نہیں کرے گی۔ باقاعدہ پولیس اور ہیلتھ سیکرٹری کو اس بارے میں احکامات دیئے جاچکے ہیں۔


کیجریوال کہتے ہیں آپ کے دائیں طرف ٹرانسپورٹ مافیا اور بائیں طرف ریت مافیا بیٹھاہوتاہے؟

کیجریوال ڈرامے باز آدمی ہے اس کی ہر بات اصلیت سے دور ہوتی ہے۔ آپ گاؤں میں جا کر پوچھئے ہمارا بجلی بل معافی کا فیصلہ لاگو ہوچکا ہے، بل معاف ہوچکے ہیں، اس سے 50لاکھ لوگوں کو فائدہ ہواہ ے۔ پٹرول سستا ہوچکا ہے ، جاکر پمپ سے پوچھ سکتے ہیں رہی بات ریت کی تو ایک دو جگہ سے خبریں آئی کہ ریت آج بھی 7روپے سے اوپر بک رہی ہے لیکن مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ کبھی22روپے پر بکنی والی ریت آج 7روپے پر آگئی ہے۔ جو بھی کمی رہ گئی ہے میں دور کر کے رہوںگا۔
کرمچاریوں کو پکا کرنے کیلئے ہم قانون لے کر آئے ہیں۔ جس میں 10سال تک کا م کرنے والے ملازمین کو ہم نے پکا کردیا ہے۔ اس طرح سے جس کے بھی نوکری کے 10سال مکمل ہوجائیںگے وہ اپنے آپ پکا کرمچاری بن جائے گا۔ میں پہلے کیبنٹ میں پاس کرتا ہوں پھر نوٹیفکیشن کرتا ہوں۔ میں چنوتی دیتا ہوں کہ وہ ثابت کریں میرا کونسا فیصلہ ابھی تک لاگو نہیں ہوا۔کیجریوال کی سبھی گارنٹیاں جھوٹی ہیں۔ اگر وہ سچے ہیں تو دہلی میں یہ سب لاگو کیوں نہیں کردیتے۔ جو آدمی اپنی پارٹی کو ہی نہیں بچا پایاوہ پنجاب کو کیسے بچاپائے گا؟


پہلے کہتے تھے اس نے کیا کرنا ہے اب کہتے ہیں اس کا کیا کریں
میں نے ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ایک بات سیکھی ہے کہ کام زیادہ کرنا ہے بولنا کم ہے۔ لیکن میں ٹکتا نہیں اور نہ ہی میں ٹکنے دیتا ہوں۔ پہلے لوگ کہتے تھے کہ سی ایم جاگتا کب ہے اور لوگوں سے ملتا کب ہے اب پوچھتے ہیں کہ یہ سی ایم سوتا کب ہے؟۔ جب میں سی ایم بنا تھا تو لوگ کہتے تھے کہ اس نے کیا کرنا ہے اب وہی لوگ کہتے ہیں کہ اس کا کیا کریں۔میں 24گھنٹے لوگوں کی سیوا میں حاضر ہوں ۔ میں خود لوگوں کو فون کر کے بلاتا ہوں کہ میرے پاس وقت کم ہے اس لئے زیادہ سے زیادہ کام کروالو۔ میری سوچ ہے کہ سرکار کا مکھیا ہونے کے ناطے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ دوں، مجھ سے پہلے صرف ایک پریوار کو سب کچھ جارہا تھا۔ لیکن آج ہم سرکاری پیسہ پبلک میں بانٹ رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ مخالفین کی چنتا بڑھ رہی ہے۔


کیپٹن پہلے سے ہی بھاجپا کے ساتھ ملے ہوئے تھے
چرنجیت سنگھ چنی سے جب کیپٹن امریندرسنگھ کے سیاسی سٹینڈ کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ کیپٹن پہلے سے ہی بھاجپا کے ساتھ ملے ہوئے تھے اور آج بھی انہیں کے ساتھ ہیں۔ وہ ہمارے لیڈر رہے ہیں اس لئے میں ان کے بارے میں زیادہ نہیں بولنا چاہوںگا۔ میرے پاس کام ہی اتنا ہے کہ دوسروں پر تنقید کیلئے وقت نہیں ہے۔ میرا فوکس لوگوں کو سہولات دینے پر ہے۔


آج پیسہ کہاں سے آرہا ہے ، کیونکہ آپ کے ایف ایم تو خزانہ خالی ہونے کی بات کرتے تھے
نہ تو کبھی خزانہ خالی ہوا اور نہ ہی میرے منسٹر نے کبھی یہ بات کہی ہے۔ خزانہ ہر سال خالی ہوتا ہے اور ہر سال بھرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ پیسہ دینے والے کی نیت کیسی ہے۔بادلوں کی لوگوں کو سہولیات دینے کی نیت نہیں تھی اور نہ ہی ہمارے سابق مکھیہ منتری کیپٹن کی نیت تھی لیکن میں تو آج خوب پیسہ بانٹ رہا ہوں۔لوگوں کا پیسہ ہے اور لوگوں کے لئے برتنا چاہئے۔


سی ایم چنی کے ٹارگیٹ

  • پنجاب کا پانی اور ماحول صاف بنانا
  • الیکٹرک وہیکل کو بڑھاوا دینا
  • آرگینک کھیتی کی نئی تکنیک لانا
  • سکولوں میں بہتر تعلیم
  • ہیلتھ سسٹم میں سدھار
  • بھرشٹاچار مکت پنجاب
  • این آر آئیز کیلئے نئی پالیسی


بادل اور کیجریوال شاید نہیں جانتے کہ چنی کا ناگپاش کبھی کھلتا نہیں

اروند کیجریوال کی طرف سے مکھیہ منتری چنی کو نقلی کیجریوال کہے جانے کے سوال پر سی ایم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے وہ کام کئے ہیں جن کا اسے نام بھی نہیں پتہ ہوگا۔ میں نے اپنے پتا کی پینٹ کی ٹینٹ کی دکان پر بے حد کام کیا ہے۔ کئی لوگوں کے گھر پر میں نے ٹینٹ لگایا ہے۔ مجھے یاد ہے میں رکشا پر سامان رکھ کر لے جایا کرتا تھا۔ میں نے خود اپنے ہاتھ سے دریاں بچھائیں اور ان کی دھلائی کی ہے۔ اپنی ماں کے ساتھ میں نے گائوں کے ٹوبے سے مٹی نکال کر گھر کی دیواروں کو پوچا پھیرا ہے۔ ٹینٹ کی کرسیوں کو صاف کیا اور ایک کپڑے کے ساتھ ان کا روغن کیا ہے۔ یہی نہیں ٹینٹ کا کام کرتے ہوئے میں نے رسیوں کے ساتھ بہت ناگ پاش ڈالے ہیں اور میرا ڈالا ہوا ناگ پاش آج بھی کبھی کھلتا نہیں ہے۔ شاید بادل اور کیجریوال اس بات سے واقف نہیں ہیں۔ آج میرے کاموں کی بدولت ہی کیجریوال کی دھڑکن بڑھی ہوئی ہے۔
آج بھی پڑھائی کررہے ہیں سی ایم
مکھیہ منتری جب پہلی بار ایم ایل اے بنے تو انہوں نے ایم اے پاس کی جب وہ دوسری بار ایم ایل اے بنے تو پھر انہوں نے دوسری ایم اے پالیٹیکل سائنس کی۔
آج کل وہ پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔ ان کے مطابق اس دسمبر مہینے میں اپنا تھیسس جمع کرانا تھا اور ایک مہینے کی ایکسٹینشن لے لی ہے۔ چناؤ کے بعد وہ اپنا تھیسس جمع کروائیںگے اور انہوں نے لگ بھگ اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرلی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ڈاکٹر امیبڈکر کی سوچ پر کام کرتے ہوئے وہ ایجوکیشن حاصل کررہے ہیں۔ امبیڈ کر کہتے تھے کہ پڑھو، جڑو اور سنگھرش کرو،۔
راج نیتی میں کیسے آئے؟
میرے باپ دادا تو راج نیتی میں تھے نہیں لیکن میں جب سکول پڑھتا تھا تو اس وقت سکول میں ہی پردھانگی کا چناؤ ہوتا تھا۔ ہمارے سکول میں اس وقت 1100بچے تھے مجھے میرے دوستوں نے پردھانگی کے چناؤ میں اتاردیا۔ پرچار کے پہلے دن جب مجھے صبح پرارتھنا کے دوران بچوں کو خطاب کرنا پڑا تو میری ٹانگیں کانپنے لگی اور زبان پھڑپھڑانے لگی۔ میں نے گھر آکر اپنے پتا جی کو بتایا تو وہ اس بات سے تو خوش ہوئے کہ میں چناؤ لڑرہا ہوں لیکن ساتھ ہی انہوں نے مجھے سجھاؤ دیا کہ تم کھیت میں جا کر بولنے کی پریکٹس کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا اور گیہوں کے کھیت میں گیہوں کو سپیچ دی اور اپنے سکول میں مدعے بتائے۔ اس طرح سے منوبل مضبوط ہوا اور میں نے ہر کلاس میں جا کر پرچار کیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت نئے نئے ٹیپ ریکارڈر چلے تھے جس میں میں نے محمد صدیق کا گانا ریکارڈ کیا اور ساتھ میں اپنی سپیچ لگائی۔ اس طرح سے پرچار چلتا رہا۔
میں بھنگڑے کا بھی شوقین تھا اور کھلاڑی بھی تھا۔ این سی سی میں بھی شامل تھا۔ جس کی وجہ سے مجھے سبھی بچوں نے اپنا سمرتھن دیا اور مجھے 475ووٹ پڑے۔ اس طرح سے میرے پالیٹیکل کیریئر کی شروعات سکول سے ہی ہوگئی تھی۔ اس کے بعد میں خالصہ کالج چلا گیا یہاں ہمنے اپنی جتھے بندی بنالی۔ اس وقت این ایس یو آئی اور اے بی وی پی سنگٹھن ہوا کرتے تھے۔لیکن ہم نے انڈیپینڈنٹ سٹوڈنٹ فیڈریشن(آئی ایس ایف ) بنالی۔ اس کے تحت میں نے کالج میں الیکشن لڑا اور جیت گیا۔ پھر پنجاب میں ایسے حالات آگئے کہ کوئی بھی الیکشن نہیں ہوا۔ پھر 1992میں ایم سی کا الیکشن ہوا جس میں میں نے جیت درج کی۔ حالانکہ اس وقت لوگ مجھے زیادہ نہیں جانتے تھے۔ لیکن میرے پتا جی کی پہچان کی بدولت چناؤ جیت گیا۔
میرے پتا جی ٹینٹ کا کام کرتے تھے۔ اور وہ اس وقت پر بھی لڑکی کی شادی پر بیحد کم پیسے لیا کرتے تھے۔ جس وجہ سے ان کے اچھے سوبھاؤ کی بدولت ان کو پسند کرتے تھے۔
پہلی بار ایم سی الیکشن جیتنے کے بعد ہی میں پردھانگی کا امیدوار بن گیا لیکن اس وقت کے ودھائیکوں نے مجھے پردھان نہیں بننے دیا۔ لیکن 3سال بعد پرانے پردھان کو اتارکر میں خود پردھان بنا۔ اس طرح سے میں تین بار ایم سی اور دو بار پردھان بنا۔ اس کے بعد میں نے کانگرس پارٹی سے ٹکٹ مانگی مگر نہ ملنے پر میں نے آزادچناؤ لڑا اور میں جیت گیا۔ مجھے یاد ہے کہ میرا چناؤ نشان جہاز تھا اور میں لوگوں سے کہتا تھا کہ یار میرا بھی جہاز چڑھادو ، لوگوں نے ایسا ساتھ دیا کہ آج خود جہازوں میں گھوم رہا ہوں۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں

No Internet connection