DW (Urdu)
DW (Urdu)

ایشیا کی تاریخ میں منشیات کی سب سے بڑی برآمدگی

  • 33d
  • 0 views
  • 1 shares

لاؤس میں حکام نے براعظم ایشیا کی تاریخ میں منشیات کی آج تک کی سب سے بڑی مقدار ضبط کر لی۔ اقوام متحدہ کے مطابق پولیس نے تقریباﹰ چھپن ملین نشہ آور میتھ گولیوں اور ڈیڑھ ٹن سے زائد کرسٹل میتھ کو قبضے میں لے لیا۔تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے جمعرات اٹھائیس اکتوبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ ایشیا میں کسی بھی کارروائی میں آج تک قبضے میں لیے گئے غیر قانونی نشہ آور مادوں کی سب سے بڑی مقدار ہے۔ اس امر کی اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بھی تصدیق کر دی۔ ڈارک نیٹ پر غیر قانونی تجارت: کئی ممالک میں چھاپے، گرفتاریاں یہ منشیات جنوبی مشرقی ایشیا کے مقابلتاﹰ بہت تھوڑی آبادی والے ملک لاؤس میں برآمد کی گئیں، جنہیں بیئر ٹرانسپورٹ کرنے والے ایک ٹرک میں چھپایا گیا تھا۔ ایشیا میں منشیات کی اسمگلنگ کا گیٹ وے لاؤس اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم کی روک تھام کے دفتر یو این او ڈی سی کے علاقائی نمائندے جیریمی ڈگلس نے بنکاک میں بتایا کہ یہ منشیات لاؤس میں بدھ ستائیس اکتوبر کو رات گئے پکڑی گئیں۔ ان میں 55.6 ملین میتھ گولیاں اور 1537 کلو گرام کرسٹل میتھ شامل ہیں۔ جرمنی میں گانجے اور کوکین کے استعمال میں اضافہ طالبان کے افغانستان میں، افیون کی قیمتیں آسمان پر جیریمی ڈگلس نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں لاؤس ایشیا بالخصوص جنوب مشرقی ایشیا میں منشیات کی اسمگلنگ کے لیے گیٹ وے بن چکا ہے۔ خاص طور پر میانمار کی بدامنی کی شکار ریاست شان سے تھائی لینڈ اور اس سے بھی آگے دیگر ممالک تک منشیات کی اسمگلنگ کے لیے لاؤس کلیدی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں مالیت کروڑوں ڈالر منشیات کی بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں قبضے میں لے لیے گئے ان نشہ آور مادوں کی مجموعی مالیت کروڑوں ڈالر بنتی ہے۔ لاؤس پولیس نے یہ منشیات ملک کے شمالی صوبے بوکیو میں ایک ایسے ٹرک سے برآمد کیں، جس پر بظاہر بیئر کے کریٹ لدے ہوئے تھے۔ لاؤس کے اس صوبے کی سرحدیں میانمار اور تھائی لینڈ دونوں سے ملتی ہیں۔ منشیات کی تیاری: ڈچ پولیس نے سب سے بڑی فیکٹری کا پتہ چلا لیا اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم کی روک تھام کے دفتر کے علاقائی نمائندے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان منشیات کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ یہ پچھلے پورے سال کے دوران لاؤس میں پکڑی گئی میتھ گولیوں کی تعداد کا تین گنا بنتی ہے۔ منشیات کا کاروبار: یونانی پادری کا سات بشپس پر تیزاب سے حملہ اس کے علاوہ جس تقریباﹰ 1540 کلو گرام کرسٹل میتھ کو بھی پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا، وہ لاؤس میں گزشتہ برس ضبط کی گئی کرسٹل میتھ کی مقدار کے تقریباﹰ ایک تہائی کے برابر ہے۔ پولیس نے ان منشیات کو قبضے میں لینے کے علاوہ دو افراد کو گرفتار بھی کر لیا۔ منشیات کی 'سنہری مثلث‘ لاؤس میں جس علاقے سے پولیس نے یہ منشیات برآمد کیں، وہ اس خطے میں تین ممالک کی سرحدیں آپس میں ملنے اور منشیات کی بہت زیادہ اسمگلنگ کی وجہ سے 'سنہری مثلث‘ کہلاتا ہے۔ اسی 'گولڈن ٹرائی اینگل‘ کے راستے ہر سال مجموعی طور پر کیمیائی طور پر تیار کردہ اربوں ڈالر مالیت کی منشیات اسمگل کی جاتی ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں میں کرسٹل میتھ کے استعمال میں اضافہ کیوں؟ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ لاؤس میں اتنی بڑی مقدار میں منشیات پکڑے جانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے فوری بعد بنکاک اور کئی دیگر بڑے ایشیائی شہروں میں ان نشہ آور گولیوں اور کرسٹل میتھ کی قیمتیں بہت زیادہ ہو گئیں۔ م م / ع ب (اے ایف پی)

Dailyhunt

مزید پڑھیں
معيشت
معيشت

بے حسی تو عام بات ہے ،اب تو شکوہ بھی گناہ ہے

بے حسی تو عام بات ہے ،اب تو شکوہ بھی گناہ ہے
  • 54m
  • 0 views
  • 1 shares

دانش ریاض، معیشت،ممبئی

یہ کوئی پندرہ برس پرانی بات ہے۔ نوجوانوں کے ایک گروپ پر غلبہ دین کا سودا سمایا ہوا تھا۔وہ اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو نافذ کرنا چاہتے تھے اور اس کے لئے خود بھی ان لوگوں کے نقش قدم پر چلنا چاہتے تھے جو اسلاف کہلاتے ہیں۔انہوں نے ملک بھر میں اس کی تحریک چلائی اور ابلیسی ٹولوں میں کہرام مچادیا ۔اسی دوران کچھ لوگوں کو ایسا محسوس ہوا کہ کہیں یہ ملت کے اجارہ دار نہ بن جائیں لہذا رقیب بن کر تھانے میں رپٹ لکھوانا شروع کردیا اور یہ شکایت درج کروائی کہ اس دور میں بھی کچھ لوگ خدا کا نام لینا چاہتے ہیں لہذا ان پرکارروائی لازم ہے۔ابلیس کے نمائندے پہلے سےگھات لگائے بیٹھے تھے ،انہوں نے آناً فاناً ایسی کارروائی کی کہ سیکڑوں گھر آہ و بکا کا نظارہ پیش کرنے لگے۔جب ظلم کا ٹانڈو تھوڑا کم ہوا تو سیکڑوں نوجوان جو سلاخوں کے پیچھے بھیج دئے گئے تھے۔ ان کی ضمانتیں منظور ہونی شروع ہوئیں اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ جس ملت کے نام پر وہ سنت یوسفی ادا کرنے گئے تھے وہی ملت ان کی ضمانت لینے کو تیار نہ تھی اور پھر غیر مسلموں نے ان کی ضمانتیں کروائیں اور پھر وہ رہائی کی دہلیز تک پہنچے۔
دوتین روز قبل جب میں نے مولانا عمر گوتم کی بیٹی کا دردچھلکتے دیکھا تو محسوس ہواکہ اس معصوم بہن نے بےجا ہی شکوہ کیا ہے یہ ملت توآرین خان کی ماں(Gauri Chhibber) گوری چھبر کا درد محسوس کرتی ہےاسے ملت کی اس بیٹی کا درد کیونکر محسوس ہوگا جو دین کے نام پر ظلم و ستم برداشت کررہی ہو ۔ اس ملت کے بزرگان تو اپنی امارت قائم کرنے میں کروڑوں روپیہ بریانی پر صرف کرتے ہیں لیکن انہیں اس بات سے کیا خبر کہ کوئی دین کے نام پر سوکھی روٹی سے بھی محروم ہورہا ہے۔ اس ملت کے ذی ہوش تو جلسے جلوس،ویبی نار اور سیمینار پر لاکھوں روپیہ خرچ کرسکتے ہیں لیکن انہیں کسی ایسے جلسے کی کیا حاجت جہاں دین کے نام پر لوگوں کو پریشان کرنے والوں کے خلاف لام بندی کی گئی ہو۔
ہاں دین کے نام پر ایک کاروبار میں برسوں سے دیکھ رہا ہوںوہ یہ کہ
مہاراشٹر کا مسلمان آسام اور تریپورہ میں ہورہے ظلم پر تومچل جاتا ہے لیکن مہاراشٹر میں ہی مسلمان کسی مسلمان پر ظلم کررہا ہو تو اس پر جوں تک نہیں رینگتی۔
بہار کا مسلمان دین و شریعت بچانے میں لاٹھی ڈنڈے کے ساتھ سڑکوں پر نکل آتا ہے لیکن جب اسی بہار میں کسی مسلمان کی ہندتوا وادی لنچنگ کردیتے ہیں تو اس کا خون جوش نہیں مارتا۔
اترپردیش کا مسلمان لال ٹوپی پہن کر سلامی مارنا تو فخر سمجھتا ہے لیکن جب کسی رامپوری ٹوپی کی عزت اترتی ہے تو خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔
دراصل ہمارے لیڈران کشمیر میں امن کی بحالی کے لئے جنیوا تو چلے جاتے ہیں لیکن معصوم بلکتے بچوں کے قتل عام پر وہ پارلیمنٹ اسٹریٹ پر بھی جمع ہونا توہین سمجھتے ہیں۔
ہمارے لیڈران چار مینار سے نکل کر قطب مینار پر دھرنا دینے تو چلے آتے ہیں لیکن مینار کے کونے میں روزبروز اٹھتی عمارت کو منہدم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
وہ ملت کو لکھنوی بھول بھلیوں کےاندر تو لے جاتے ہیں جو ایک دروازے سے دوسرے دروازے کا سفر طے کراتا رہے لیکن اس راستے کی طرف رہنمائی نہیں کرتے جو قلعے سے باہر نکالتاہو۔
چونکہ اس وقت ہندوستان میںاسلام کاروباریوں کے حصار میں ایسا گرفتار ہوگیا ہےکہ اقراری اور انکاری دونوں اس سے مستفید ہورہے ہیں۔
اقراری جبہ و دستار کے حصار میں استفادہ کررہا ہے جبکہ انکاری جبہ ودستار کے اشتراک سے استفادہ کررہا ہے ۔
پریشان تو وہ لوگ ہیں جو اسلام کے پرستار ہیں لہذا انہیں نہ انکاری پسند کررہے ہیں اور نہ ہی اقراری ۔
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے ،آپ اقراری بننا چاہتے ہیں یا انکاریوں کےساتھ صف بستہ ہونا چاہتے ہیں ۔کیونکہ فائدہ دونوں جانب ہے۔
لیکن اگر غلطی سے آپ پرستاران مصطفیﷺ ہیں تو یاد رکھیں موجودہ دور میں آپ کا شکوہ کرنا بھی اقراری و انکاریوں کو پریشان کرسکتا ہے۔کیونکہ ان کے پاس علامہ اقبال کا بہترین شعر ہے
شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور

Dailyhunt

مزید پڑھیں
News18 اردو

FIFA Arab Cup 2021 : جانئے کون کون سی ٹیمیں ہورہی ہیں شریک اور کیا ہے ٹورنامنٹ کا فارمیٹ اور شیڈیول

FIFA Arab Cup 2021 : جانئے کون کون سی ٹیمیں ہورہی ہیں شریک اور کیا ہے ٹورنامنٹ کا فارمیٹ اور شیڈیول
  • 1hr
  • 0 views
  • 1 shares

دوحہ : قطر میں فیفا عرب کپ 2021 کا آغاز ہوگیا ہے ۔ یہ ٹورنامنٹ ایسے وقت میں منعقد ہورہا ہے جبکہ فیفا ورلڈ کپ 2022 کو صرف ایک سال کا ہی وقت باقی رہ گیا ہے ۔ فیفا عرب کپ کے ایک میچ میں قطر نے بحرین کو ایک صفر سے ہرادیا جبکہ ایک دوسرے میچ میں تیونیسا نے موریطانیہ کو پانچ ایک سے شکست دی ۔ وہیں ایک دیگر مقابلہ میں عراق اور عمان کے درمیان میچ ایک ایک سے ڈرا پر ختم ہوا ۔

ٹورنامنٹ میں کتنی ٹیمیں شرکت کررہی ہیں ۔

فیفا عرب کپ 2021 میں کل سولہ ٹیمیں شرکت کررہی ہیں ، جن کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

گروپ اے : قطر ، عراق ، عمان ، بحرین

گروپ بی : تیونیسیا ، متحدہ عرب امارات ، شام ، موریطانیہ

گروپ سی : مراقش ، سعودی عربیہ ، جورڈن اور فلسطین

گروپ ڈی : الجیریا ، مصرف ، لبنان اور سوڈان



ٹورنامنٹ کا فارمیٹ کیا ہے ؟

ہر ایک ٹیم تین گروپ میچیز کھیلے گی اور ہر گروپ سے ٹاپ کی دو ٹیمیں کوارٹر فائنل میں جائیں گی ۔ کوارٹر فائنل کے میچیز دس اور گیارہ دسمبر کو کھیلے جائیں گے ۔

کوارٹر فائنل کی چار فاتح ٹیمیں سیمی فائنل کھیلیں گی ، جہاں سے دو ٹیمیں فائنل میں جگہ بنائیں گی ۔ سیمی فائنل کے میچیز 18 دسمبر کو کھیلے جائیں گے ۔

کن کن اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے میچیز

ٹورنامنٹ کے سبھی میچیز ملک کے چھ اسٹیڈیموں میں کھیلے جائیں گے ۔ ان میں سے چار اسٹیڈیمس ایسے ہیں ، جہاں پہلے بھی فٹ بال کے میچ کھیلے جاچکے ہیں ۔ راس ابو عبید اسٹیڈیم اور البیت اسٹیڈیم میں افتتاحی میچ کھیلے گئے ۔


قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔

Dailyhunt

مزید پڑھیں

No Internet connection