DW (Urdu)
DW (Urdu)

عراق سے بیلاروس تک کا روٹ، مہاجرین یورپ کیسے پہنچ رہے ہیں؟

عراق سے بیلاروس تک کا روٹ، مہاجرین یورپ کیسے پہنچ رہے ہیں؟
  • 92d
  • 2 shares

مشرق وسطیٰ میں عراق سے ان دنوں ہزاروں تارکین وطن غیر قانونی طور پر یورپی یونین میں داخلے کے لیے اسمگلروں کی مدد سے بیلاروس کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس سفر میں موت کے خطرات تک کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔یورپی یونین میں اپنے لیے بہتر اقتصادی مستقبل کی تلاش میں اب مختلف بحران زدہ اور ترقی پذیر ممالک سے مہاجرین اور تارکین مشرقی یورپ کے راستے کتنی بڑی تعداد میں یورپ پہنچنے لگے ہیں، اس کا اندازہ اس ایک بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رواں ماہ کے شروع سے اب تک ایسے تارکین وطن بیلاروس سے پولینڈ کے ریاستی علاقے میں داخلے کی 11 ہزار 300 کوششیں کر چکے ہیں۔ افغان مہاجرین کی آباد کاری، یورپی یونین فیصلہ نہیں کر سکی سال رواں کے دوران ایسے مہاجرین کی بیلاروس سے پولینڈ میں غیر قانونی داخلے کی مجموعی طور پر 23 ہزار کوششیں رجسٹر کی جا چکی ہیں۔ پولینڈ میں ایسے تارکین وطن جرمنی کے ساتھ سرحد تک پہنچ جاتے ہیں۔ جرمنی کے 16 میں سے تین صوبوں کی سرحدیں پولینڈ سے ملتی ہیں۔ یہ وفاقی جرمن صوبے برانڈن برگ، میکلن برگ مغربی پومیرانیا اور سیکسنی ہیں۔ جرمن سرحدی پولیس کے مطابق اس سال اب تک پولینڈ سے تقریباﹰ چھ ہزار تارکین وطن غیر قانونی طور پر جرمنی میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایسے تارکین وطن کا تعلق کن ممالک سے؟ عراق سے ایسے جن تارکین وطن کو بیلاروس کے راستے یورپ اسمگل کیا جاتا ہے، ان کی اکثریت کا تعلق تو عراق ہی سے ہوتا ہے مگر ان میں خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے شہریوں کے علاوہ افریقہ میں کانگو اور کیمرون جیسے ممالک کے باشندے بھی شامل ہوتے ہیں۔ مہاجرین کے لیے امیر یورپی ممالک تک پہنچنے کا نیا راستہ ان تارکین وطن کے لیے ان کے سفر کے آغاز کے مرکزی مقام تین ہیں۔ یہ تینوں عراقی کردستان کے علاقے کے شہر ہیں، جن کے نام اربیل، شیلادزی اور سلیمانیہ ہیں۔ اس سال اگست میں یورپی یونین کی طرف سے دباؤ کے نتیجے میں بغداد سے بیلاروس کے لیے براہ راست پروازیں بند کر دیے جانے کے بعد کئی ٹریول ایجنٹوں کے مطابق اب زیادہ تر تارکین وطن دبئی، ترکی، لبنان اور یوکرائن سے ہوتے ہوئے یورپی یونین میں داخلے کی کوشش کرتے ہیں۔ موریا کیمپ: آگ لگنے کے ایک سال بعد بھی مہاجرین مشکلات کا شکار اس نئی پیش رفت کا ایک ثبوت گزشتہ ہفتے جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان کی طرف سے دیا جانے والا یہ بیان بھی ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں بیروت، دمشق اور عمان سے براہ راست منسک آنے والی پروازوں کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ ویزوں کا انتطام اور سفری اخراجات کئی مختلف رپورٹوں کے مطابق ایسے تارکین وطن کے مشرق وسطیٰ سے یورپی یونین تک سفر پر فی کس 12 ہزار سے 15 ہزار یورو (14 ہزار سے 17 ہزار امریکی ڈالر) تک لاگت آتی ہے۔ اس میں ان تارکین وطن کے لیے ویزوں کا انتظام، فضائی سفر کے اخراجات اور یورپ پہنچنے کے بعد یورپی یونین میں اسمگل کیے جانے کا معاوضہ بھی شامل ہوتا ہے۔ یورپ کو افغان مہاجرین کے باعث ممکنہ بحران سے خوف انسانوں کی اسمگلنگ: اٹلی میں پاکستانیوں سمیت 19 ملزم گرفتار ایسے مسافروں کے لیے بیلاروس کے ویزے عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل میں واقع بیلاروس کا سفارت خانہ جاری کرتا ہے۔ عراقی دارالحکومت بغداد میں ایک ٹریول ایجنٹ نے اپنا اور اپنے کاروباری ادارے کا نام ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بیلاروس کے سفارت خانے نے ویزوں کے اجراء کا کام کئی مختلف ٹریول ایجنسیوں کو سونپ رکھا ہے۔ ماضی میں بلیک لسٹ کی گئی ویزا سروس کمپنیاں اس عراقی ٹریول ایجنٹ نے بتایا کہ پہلے وہ بھی اپنے گاہکوں کے لیے بیلاروس کے ویزوں کا انتظام کرتا تھا لیکن جب سے یہ کام بہت مشکوک ہوا ہے، اس نے اپنی اور اپنے بزنس کی ساکھ بچانے کے لیے ایسا کرنا بند کر دیا ہے۔ اس عراقی بزنس مین نے بتایا کہ عراق میں بیلاروس کے ویزے پانچ دن سے لے کر دو ہفتے تک کے عرصے میں مل جاتے ہیں۔ افغان مہاجرین کو فی الحال واپس بھیجنا ممکن نہیں، یورپی یونین بیلاروس کے ایک آزاد نشریاتی ادارے Belsat.eu کے مطابق سابق سوویت یونین کی اس جمہوریہ میں 12 ٹریول ایجنسیوں کو درپردہ یہ اجازت دی جا چکی ہے کہ وہ غیر ملکیوں کے لیے بیلاروس کے ویزوں کا اہتمام کر سکتی ہیں۔ ان میں سے کچھ کمپنیاں ماضی میں بلیک لسٹ بھی کر دی گئی تھیں مگر پھر انہیں دوبارہ کام کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ یورپ پہنچانے کے خوش نما کاروباری وعدے ترکی کے شہر استنبول میں پاسپورٹ اور ویزا سروس کا کام کرنے والی ایک کمپنی کا نام VIP Grub ہے۔ اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ عام لوگوں کی روایتی طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے یورپ پہنچنے میں مدد کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یورپ کو تو دراصل غیر ملکی اور تارک وطن کارکنوں کی ضرورت ہے۔ یورپ بھر میں سب سے زیادہ پناہ کی درخواستیں جرمنی میں اس ترک کمپنی نے اپنے اشتہارات میں جو تصاویر شائع کی ہیں، ان کے ساتھ یہ مختصر لیکن تارکین وطن کے لیے پرکشش تحریر بھی لکھی ہوئی ہوتی ہے: ''صرف یورپی فضائی کمپنیوں کے ذریعے، یورپ کو 1.2 ملین مہاجرین کی ضرورت۔ موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ہمیں ادائیگی اپنی منزل پر پہنچنے کے بعد کریں۔‘‘ فضائی کمپنیاں کون کون سی؟ یورپی یونین میں رجسٹرڈ کئی کمپنیاں اس وقت بیلاروس کی قومی ایئر لائن بیلاویا کو اضافی ہوائی جہاز لیز پر دے رہی ہیں۔ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے اس رجحان کے خلاف تنبیہ کی ہے اور متعلقہ اداروں پر پابندیاں عائد کر دینے کی دھمکی بھی دی ہے۔ لیبیا کے حراستی مراکز میں 'ہولناک تشدد‘ میں یورپی ملکوں کی ساز باز بیلاروس پہنچنے والے اکثر تارکین وطن بیلاویا ایئر لائنز کی استنبول، دبئی یا دیگر شہروں سے براہ راست آنے والی مسافر پروازوں کے ذریعے منسک پہنچتے ہیں۔ یورپی یونین میں مسافر ہوائی جہاز کرائے پر دینے کے کاروبار کا مرکز آئرلینڈ ہے۔ دنیا میں جتنے بھی مسافر طیارے لیز پر لیے جاتے ہیں، ان میں سے نصف سے زائد کی لیزنگ آئرش کمپنیوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ آئرلینڈ کے کچھ اداروں نے آج بھی Belavia کو کرائے پر ایسے ہوائی جہاز دے رکھے ہیں، جن کے ذریعے تارکین وطن کو یورپ کی دہلیز تک پہنچایا جاتا ہے۔ نو سالہ لڑکا کشتی میں مر گیا تو لاش سمندر میں پھینک دی گئی اس کے برعکس قطر ایئر ویز اور ٹرکش ایئر لائنز جیسی فضائی کمپنیاں اپنے منسک جانے والے مسافروں کی بہت سخت اسکریننگ کرتی ہیں۔ تاہم بغداد میں ایک ٹریول ایجنٹ کے مطابق، ''عراق سے ہر روز بہت سے مسافر ترکی اور دبئی جاتے ہیں۔ کسی بھی ایئر لائن کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ یہ پتہ چلا سکے کہ ان مسافروں میں سے کون بالآخر بیلاروس جانا چاہتا ہے اور کون نہیں۔‘‘ م م / ع ب (روب مج، منیر غائدی)

مزید پڑھیں
Awaz The Voice
Awaz The Voice

ہفتےسے شروع ہو رہا ہے خواجہ غریب نوازؒ کا 810واں سالانہ عرس

  • 9m
  • 1 shares

ہفتےسے شروع ہو رہا ہے خواجہ غریب نوازؒ کا 810واں سالانہ عرس

آواز دی وائس،اجمیر

ریاست راجستھان کے ضلع اجمیر میں عالمی شہرت یافتہ صوفی بزرگ حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی ؒ کا 810 واں سالانہ عرس ہفتے کی شام کو باضابطہ طور پر شروع ہوگا۔

سالانہ عرس کا پرچم 29 جنوری2021 کو عصر کی نماز کے بعد لیکن روشنی سے قبل روایتی ڈھنگ سے درگاہ کے بلند دروازے پر نصب کیا (پھہرایا)جائے گا۔ بھیلواڑہ کا لال محمد غوری خاندان 1944 سے پرچم کشائی کی تقریب انجام دیتا آرہا ہے۔ غوری خاندان کے پوتے اجمیر پہنچ گئے ہیں اور درگاہ کمیٹی کے ساتھ مل کر پرچم کشائی کی تقریب کی تیاریاں کر رہے ہیں۔پرچم کشائی کی تقریب کے ساتھ ہی سالانہ عرس کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا اور زائرین کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہو جائے گا۔

عرس کے انعقاد کے لیے باہمی رضامندی کے باوجود کورونا گائیڈ لائن کے عمل درآمد میں خادموں کی تنظیموں نے انتظامیہ اور حکومت سے رات کی پابندی اور ہفتہ کی کرفیو میں نرمی کا مطالبہ کیا ہے۔ ملک میں ٹرانسپورٹ (نقل و حمل) کا نظام بہتر ہونے کی وجہ سے درگاہ کے فریقوں نے انتظامی اجلاس میں زائرین کو روک پانے سےلاچاری کا اظہار کر دیا ہے۔ دوران عرس، زیادہ تر رسومات رات میں ادا ہوتی ہیں اور درگاہ رات بھر بہر لحاظ گلزار رہتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ رجب کا چاند نظر آنے کے بعد سالانہ عرس کا باقاعدہ آغازدو یاتین فروری سے ہوگا۔

#Tags


مزید پڑھیں
بی بی سی اردو
بی بی سی اردو

بلاگر وقاص گورایہ کے قتل کی سازش کے مقدمے میں برطانوی شخص گوہر خان مجرم قرار

بلاگر وقاص گورایہ کے قتل کی سازش کے مقدمے میں برطانوی شخص گوہر خان مجرم قرار
  • 12m
  • 00

لندن میں ایک جیوری نے برطانوی شخص محمد گوہر خان کو نیدرلینڈز میں مقیم پاکستانی بلاگر احمد وقاص گورایہ کو قتل کرنے کی سازش میں شریک ہونے کے الزام میں مجرم قرار دے دیا ہے۔

جیوری نے متفقہ فیصلے میں گوہر خان کو مجرم قرار دیا ہے۔ مجرم کو سزا مارچ میں سنائی جائے گی۔

برطانوی شخص محمد گوہر خان پر الزام تھا کہ اس نے نیدرلینڈز میں مقیم بلاگر وقاص گورایہ کو قتل کرنے کی سازش میں بطور کرائے کے قاتل حصہ لیا اور اس مقصد کے لیے اس نے نیدرلینڈز کا سفر بھی کیا تھا۔

برطانوی شخص نے اپنے دفاع میں موقف اپنایا تھا کہ اس کا وقاص گورایہ کو قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور وہ صرف اس شخص سے کچھ رقم نکلوانے کی کوشش کر رہا تھا جس نے اس کے کارگو کے کامیابی سے چلتے ہوئے کاروبار کو تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

گوہر خان نے عدالت کو بتایا تھا کہ مزمل نامی جس شخص نے اس سے رابطہ کیا تھا وہ اس کے کارگو بزنس کے لیے پاکستان میں ڈلیوری ایجنٹ کے طور پر کام کرتا رہا تھا۔ اس مقدمے میں مسٹر مزمل کو مسٹر مڈز اور پاپا کے ناموں سے بھی پکارا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

استغاثہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ مسٹر مزمل، مسٹر زیڈ کے نام کے جس دوسرے شخص کو اپنا باس کہہ کر گوہر خان سے متعارف کراتا رہا تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ مسٹر مزمل نے ہی اپنی جعلی شناخت تیار کر رکھی تھی۔

گوہرخان نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اسے نہیں معلوم کہ ایک لاکھ برطانوی پاونڈ کی رقم کہاں سے آ رہی تھی اور نہ ہی اس نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کیونکہ اسے یقین تھا کہ پاکستان میں کسی کے پاس اتنی رقم نہیں ہے۔

برطانوی شخص محمد گوہر خان نے بھی مسٹر مزمل سے بات کرنے کے لیے تین مختلف نام گوہر، مش (مشتاق) اور مسٹر جی استعمال کیے تھے۔

محمد گوہر خان کا عدالت کے سامنے موقف تھا کہ وہ مزمل کو بتانا چاہتا تھا کہ اس کے پاس پراجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے ایک سکواڈ ہے جس کے ہمراہ وہ نیدرلینڈ گیا تھا۔ اس کا کہنا ہے تھا کہ اس جھوٹ کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ وہ مزمل سے زیادہ سے زیادہ رقم نکلوا سکے۔

برطانوی شخص محمد خان کا عدالت کے سامنے موقف تھا کہ اس کی پاکستان کی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں اور وہ احمد وقاص گورایہ کو جانتا تھا نہ ہی کبھی جاننے کی کوشش کی۔

استغاثہ کا موقف تھا کہ ملزم گوہر خان ایک 'عادی جھوٹا' اور قرضوں میں جکڑا ہوا شخص ہے جس نے ایک لاکھ برطانوی پاؤنڈ حاصل کرنے کے لالچ میں کرائے کا قاتل بننے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

استغاثہ کا موقف تھا کہ گوہر خان کو یہ لالچ دیا گیا تھا کہ اگر اس نے نیدرلینڈز میں بلاگر وقاص گورائیہ کو قتل کر دیا تو اسے یورپ میں مزید ایسے کام دیے جا سکتے ہیں۔ اس مقدمے کی کارروائی کے دوران کسی موقع پر بھی مزید ایسے 'پراجیکٹس' کی وضاحت نہیں کی گئی۔

البتہ گوہر خان کا موقف رہا ہے کہ اس نے مزید مواقعوں کے بارے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی کیونکہ وہ پہلے کام کو مکمل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔

source: bbc.com/urdu

مزید پڑھیں

No Internet connection