بیجنگ: چین میں کورونا کی وبا کے بعد سانس کی پراسرار بیماری کے پھیلنے پر ایک بار پھر عالمی برادری کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ چین میں اس بیماری کے پھیلنے سے COVID-19 وبائی امراض کے ابتدائی دنوں کی یادیں عالمی سطح پر تازہ ہوگئیں۔ بیجنگ کی جانب سے ماضی میں شفافیت کے فقدان اور ابتدائی مراحل کے دوران معلومات کے تبادلے میں تاخیر کی وجہ سے عدم اعتماد کا احساس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ مانا جارہا ہے کہ اگر چین نے کووِڈ کی وبا کو نہ چھپایا ہوتا اور وقت پر ضروری معلومات شیئر کی ہوتیں تو دنیا کووڈ کی وجہ سے ہونے والی تباہی سے بچ سکتی تھی۔ اب لوگ پریشان ہیں کہ چین میں سانس کی نئی بیماری ایک نئی وبا لا سکتی ہے۔سنگاپور میں قائم Saw Swee Hock School of Public Health کے وائس ڈین سو لی یانگ( Su Lee Yang )نے کہا، Covid-19 وبائی امراض کے ابتدائی دنوں کے دوران، ڈبلیو ایچ او کو جانکاری جاری کرنے میں چین کی رازداری اور تاخیر بدقسمتی سے آنے والے کچھ عرصے کے لیے ملک کی شفافیت کے تاثرات پر اثر ڈالے گی۔اب، چین میں ہسپتال ماسک والی بھیڑ بھرے پڑے ہیں کیونکہ نمونیا اور اسی طرح کی سنگین بیماریوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے ۔ بیجنگ چلڈرن ہسپتال روزانہ 7000 سے زیادہ مریضوں کو داخل کر رہا ہے جو کہ گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔ایک عملے کے ایک رکن نے کہا کہ ابھی ہمارے یہاں بہت سارے بچے ہیں ۔ جن لوگوں نے کل ایمرجنسی اپوا ئنٹمنٹ بک کرائی تھی وہ آج صبح بھی ڈاکٹر سے نہیں مل سکے۔ چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے دعوی کیا ہے کہ سانس کی بیماری کا علم روگ ( پیدا کرنے والی )پیتھوجینزکی وجہ سے ہوتی ہے، نہ کہ کسی وائرس کی وجہ سے ۔ حالانکہ شکوک و شبہات برقرار ہیں کیونکہ دوسرے ممالک میں سانس کی بیماریوں کے اسی طرح کے کیس رپورٹ ہو رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے چین میں بے قابو نمونیا کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چھ یورپی ممالک، خاص طور پر نیدرلینڈز اور ڈنمارک میں نمونیا کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور ماہرین یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ان کا تعلق چین میں جاری صحت کے بحران سے ہے۔ یوکے ہیلتھ پروٹیکشن ایجنسی (یو کے ایچ ایس اے)نے کہا کہ وہ چین کی صورتحال پر "قریب سے نگرانی" کر رہی ہے۔ اس نے کہا کہ ہمیں اس بارے میں کھلا ذہن رکھنے کی ضرورت ہے کہ چینی بچوں میں اس بیماری سمیت بیماریوں کے گروپ کی بڑھتی ہوئی رپورٹنگ کی وجہ کیا ہے۔

