Thursday, 04 Mar, 9.10 pm Hind Samachar

ہند سماچار
ہریانہ میں لوجہاد قانون پر بی جے پی اور جے جے پی الگ الگ ، نائب وزیر اعلی نے دیا یہ بڑا بیان

نیشنل ڈیسک :ہریانہ کے نائب وزیراعلی دشینت چوٹالہ نے ریاست میں لوجہاد قانون بنانے کی مخالفت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لو جہاد نام سے ریاست میں کوئی قانون نہیں آئے گا ۔ اگر کسی بھی خاص مذہب کو لے کر کوئی قانون آئے تو ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے ۔

چوٹالہ نے کہا کہ اگر ایک مذہب سے دوسرے مذہب میں زبردستی تبدیلی مذہب روکنے کا قانون آئے گا تو ہم اس کی حمایت کریں گے ، لیکن کسی خاص مذہب کیلئے قانون کی حمایت نہیں کریں گے ۔ دشینت چوٹالہ نے چنڈی گڑھ میں پارٹی کی اقلیتی یونٹ کی میٹنگ میں یہ بڑا بیان دیا ۔ بتادیں کہ حال ہی میں ریاست کے وزیر داخلہ انل وج نے بجٹ سیشن میں لوجہاد قانون لانے کا اعلان کیا تھا ۔ اس کے بعد سے ہریانہ کی سیاست کو ایک اور مدعا ملتا ہوا نظر آرہا ہے ۔

اب تک ملک میں بی جے پی حکومت والی تین ریاستوں میں لو جہاد قانون لاگو ہوچکا ہے ۔ ان میں اترپردیش ، ہماچل پردیش اور مدھیہ پردیش شامل ہیں ۔ مدھیہ پردیش کی کابینہ نے مذہبی آزادی ایکٹ 2020 کو ایک آرڈیننس کے طور پر منظوری دی ہے ۔ مدھیہ پردیش میں اس قانون کے بنتے ہی وہ سبھی شادیاں ان ویلڈ ہوگئی ہیں ، جو تبدیلی مذہب کے مقصد سے کی گئی تھیں ۔

ہریانہ میں فریدآباد کے بلبھ گڑھ میں دوسرے مذہب کے لڑکے کے ذریعہ لڑکی کا اغوا کرنے کی کوشش اور اس کا قتل کرنے کے بعد یہ معاملہ میڈیا میں سرخیوں میں آیا تھا ۔ اس معاملہ کو لے کر ہریانہ حکومت کے وزیر داخلہ انل وج نے کہا تھا کہ بلبھ گڑھ معاملہ میں لڑکی کے والد نے کہا تھا کہ ان کی بیٹی لوجہاد کا شکار ہوئی ۔ اس کے بعد وج نے معاملہ کی جانچ کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی ، تبھی سے ہریانہ میں لوجہاد قانون کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔

Dailyhunt
Disclaimer: This story is auto-aggregated by a computer program and has not been created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hind Samachar Urdu
Top