
جموں، 05 مئی (ہ س)۔
جموں کی ایک مقامی عدالت نے سال 2017 کے مبینہ جعلی وصیت اور دھوکہ دہی کے ایک اہم معاملے میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے پولیس اسٹیشن ڈومانہ کی جانب سے پیش کی گئی کلوزر رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے اور کیس کی غیر جانبدارانہ اور تفصیلی تحقیقات کے لیے اسے کرائم برانچ جموں کے حوالے کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ حکم اسپیشل موبائل مجسٹریٹ (الیکٹرسٹی) جموں آرتی دیوی کوشل نے یو ٹی بنام نیمو مقدمہ میں جاری کیا۔ عدالت نے شکایت کنندہ راج کمار کے دلائل سننے اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد پایا کہ ابتدائی تحقیقات میں کئی سنگین خامیاں موجود ہیں اور اہم حقائق کی آزادانہ جانچ نہیں کی گئی۔
شکایت کے مطابق ملزمان اشونی کمار، بنسی لال، وجے کمار اور دیگر نے مبینہ طور پر سازش کے تحت مرحومہ سوما دیوی کے نام پر ایک جعلی وصیت تیار کی۔ بتایا گیا ہے کہ سوما دیوی کا انتقال 1996 میں ہو چکا تھا، جبکہ ان کے نام پر 2001 میں وصیت درج کروا کر جائیداد ہتھیانے کی کوشش کی گئی۔ مزید ایک شخص کو سوما دیوی کا گود لیا ہوا بیٹا ظاہر کر کے زمین اپنے نام کرائی گئی اور بعد ازاں اس کا کچھ حصہ فروخت بھی کیا گیا۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ تفتیش کے دوران گود لینے سے متعلق دستاویزات، تعلیمی ریکارڈ، شناختی کارڈ، پین کارڈ، ووٹر کارڈ اور دیگر اہم دستاویزات کی مناسب جانچ نہیں کی گئی۔
دستاویزات میں عمر سے متعلق تضادات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عدالت نے کلوزر رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کرائم برانچ جموں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس کیس کی مکمل تحقیقات کر کے دس ماہ کے اندر اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر

