
تہران،05مئی (ہ س)۔ایرانی میڈیا نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ دو مال بردار شہری کشتیوں پر امریکی فوج کی فائرنگ سے 5 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ ذریعے نے مزید کہا کہ یہ دونوں کشتیاں ایران جا رہی تھیں اور ان کا تعلق پاسدارانِ انقلاب سے نہیں تھا۔ تسنیم نیوز ایجنسی نے فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ یہ کشتیاں عمان کی بندرگاہ خصب سے ایرانی ساحلوں کی طرف شہری نوعیت کا سامان لے جا رہی تھیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایرانی بحری جہازوں کے ساتھ تصادم کے نئے ضوابط پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ان کی فوج ان جہازوں کو بچانے کے بجائے انہیں تباہ کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔
'ٹروتھ سوشل' پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس اب صرف چھوٹی کشتیاں رہ گئی ہیں، جن میں سے سات کو اس وقت ڈبو دیا گیا جب انہوں نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے ان ممالک پر بھی حملے کیے جن کا آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کی کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں، جن میں جنوبی کوریا کا ایک مال بردار جہاز بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جنوبی کوریا بھی آبنائے ہرمز آپریشن میں شامل ہو جائے۔امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے والی ایرانی کشتیوں کو تباہ کرنے کے لیے اپاچی اور'سی ہاک' ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق سی ہاک ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز اور اس کے گرد و نواح میں تجارتی جہاز رانی کو دھمکانے والی چھوٹی ایرانی کشتیوں کے خاتمے کے مشن میں مدد دے رہے ہیں۔نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے امریکی مندوب مائیک والٹز نے تصدیق کی کہ امریکہ اور خلیجی ممالک سلامتی کونسل کی ایک نئی قرارداد کا مسودہ تیار کر رہے ہیں، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کی بندش پر ایران کی مذمت کرنا ہے۔ والٹز نے کہا کہ توقع ہے کہ یہ قرارداد ایران کو تجارتی جہازوں پر حملے روکنے اور آبنائے میں جہاز رانی پر ٹیکس عائد کرنے کی کوششوں سے باز رہنے کا پابند کرے گی۔ امریکی مندوب نے مزید کہا کہ قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ سمندری بارودی سرنگیں بچھانا بند کرے اور ان کے مقامات ظاہر کرے، کیونکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش پوری دنیا کی معیشتوں کو متاثر کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

