
نئی دہلی، 5 مئی (ہ س)۔
دہلی ہائی کورٹ نے ٹیرر فنڈنگ کیس کے ملزم ایم پی انجینئر رشید کو دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں اپنے بیمار والد سے ملنے کی اجازت دے دی ہے۔ جسٹس پرتیبھا سنگھ کی سربراہی والی بنچ نے انہیں 10 مئی تک ایمس میں اپنے والد کے ساتھ روزانہ 12 گھنٹے گزارنے کی اجازت دی۔ عدالت نے کہا کہ رشید ایمس میں اپنے والد سے ملنے کے بعد جیل واپس آئیں گے۔ ہائی کورٹ نے یہ حکم انجینئر رشید کی عبوری ضمانت میں ردوبدل کرتے ہوئے جاری کیا۔
انجینئر رشید نے عبوری ضمانت کے سابقہ حکم میں ترمیم کی درخواست کی تھی۔ 28 اپریل کو ہائی کورٹ نے انجینئر رشید کو سری نگر میں اپنے بیمار والد سے ملنے کے لیے ایک ہفتے کی عبوری ضمانت دی تھی۔ ان کے والد کو اب دہلی کے ایمس اسپتال لایا گیا ہے۔ انجینئر رشید کی درخواست میں کہا گیا کہ وہ سری نگر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ رشیدنے اپنی عبوری ضمانت میں ترمیم کی درخواست کی تھی تاکہ انہیں دہلی کے ایمس میں اپنے والد سے ملنے کی اجازت دی جا سکے۔ اس سے قبل پٹیالہ ہاوس کورٹ نے 24 اپریل کو انجینئر رشید کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔انجینئر رشید نے درخواست میں کہا تھا کہ ان کے والد بیمار ہیں اور وینٹی لیٹر پر ہیں۔
اس سے قبل پٹیالہ ہاو¿س کورٹ نے انجینئر رشید کو حراست میں رہتے ہوئے پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دی تھی۔ عدالت نے انجینئر رشید کو 28 جنوری سے 2 اپریل تک پارلیمنٹ کے پورے اجلاس میں شرکت کی اجازت دی، نومبر 2025 میں بھی عدالت نے رشید کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دی تھی۔ انجینئر رشید کو ستمبر 2025 میں ہونے والے نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب میں ووٹ ڈالنے کی بھی اجازت دی تھی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی

