Dailyhunt
مرکز نے مشن فار کاٹن پروڈکٹی ویٹی کو منظوری دی،کپاس کے شعبے کو تقویت ملے گی

مرکز نے مشن فار کاٹن پروڈکٹی ویٹی کو منظوری دی،کپاس کے شعبے کو تقویت ملے گی

نئی دہلی، 5 مئی (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے کپاس کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے ایک بڑا فیصلہ لیا ہے۔ منگل کو، مرکزی کابینہ نے"مشن فار کاٹن پروڈکٹی ویٹی"کو منظوری دے دی ہے ، جس کے لئے 5,659.22 کروڑ روپے کی تجویز کی گئی ہے ۔یہ مشن 2026-27 سے 2030-31 تک نافذ رہے گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کی میٹنگ میں اس پروجیکٹ کو منظوری دی گئی۔ حکومت کے مطابق، اس کا مقصد کپاس کی پیداوار میں اضافہ، معیار کو بہتر بنانا اور عالمی ٹیکسٹائل مارکیٹ میں ہندوستان کو مسابقتی بنانا ہے۔ کابینہ کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے بتایا کہ یہ مشن حکومت کے "5ایف وژن" (فارم سے فائبر سے فیکٹری تک فیشن سے فارن تک) کے تحت کام کرے گا۔ اس کے ذریعہ اعلی پیداوار والی ، کیڑوں اور بیماریوں سے محفوظ، اور آب و ہوا سے مزاحم بیج تیار کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہائی ڈنسٹی پلانٹنگ سسٹم اور جدید کاشتکاری تکنیک کو بڑے پیمانے پر اپنایا جائے گا۔

اسکیم کے تحت اعلیٰ معیار کے اور کیڑوں سے بچنے والے بیج کی تیاری ، کاشتکاری کی جدید تکنیکوں کی توسیع، کپاس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے جیننگ اور پروسیسنگ یونٹس کو جدید بنانے کے ساتھ ملک بھر میں جدید ٹیسٹنگ لیب قائم کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی ،"کستوری کاٹن بھارت" برانڈنگ اور ٹریس ایبلٹی کو فروغ دینے کے ساتھ کسانوں کو ڈیجیٹل مارکیٹوں سے جوڑکر بہتر قیمت ادا کروائی جائے گی۔ فلیکس، بانس ، کیلا جیسے قدرتی فائبر کو بھی فروغ ملے گا، جس کے لئے وزارت زراعت اور ٹیکسٹائل کی وزارت مشترکہ طور پر اس اقدام کو نافذ کرے گی۔ اس میں آئی سی اے آر اور سی ایس آئی آر جیسے ادارے بھی حصہ لیں گے۔ مرکزی وزیر ویشنو نے بتایا کہ یہ مشن ابتدائی طور پر 14 ریاستوں کے 140 اضلاع اور تقریباً 2,000 جیننگ اور پروسیسنگ یونٹوں کا احاطہ کرے گا۔ اس اسکیم سے تقریباً 32لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔

حکومت کا مقصد 2031 تک کپاس کی پیداوار کو 498 لاکھ گانٹھ کرنا اور پیداواری صلاحیت 440 کلوگرام فی ہیکٹیئر سے بڑھا کر 755 کلوگرام فی ہیکٹیئر کرنا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu