
نئی دہلی، 5 مئی (ہ س)۔مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں آئی آئی ٹی مدراس کے پہلے ٹیکنالوجی سمٹ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر تعلیم اور فروغ ہنر مندی و صنعت سازی کے وزیر مملکت(آزادانہ چارج) جینت چودھری مہمانِ خصوصی کے طور پر موجود تھے۔یہ سمٹ "فرام آئی آئی ٹی، فور بھارت ،بلڈنگ ٹو گیدر" کے موضوع کے تحت منعقد کی گئی، جس کا مقصد صنعت، تعلیمی اداروں اور حکومت کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بنانا تھا تاکہ ایسی ٹیکنالوجیز تیار اور نافذ کی جا سکیں جو بھارت کو ترقی یافتہ بھارت کی طرف لے جانے میں مدد دیں۔
اس موقع پر وزارت تعلیم میں اسکولی تعلیم اور خواندگی کے سکریٹری جناب سنجے کمار ، اعلی تعلیم کے سکریٹری ڈاکٹر ونیت جوشی اور این ٹی پی سی ، بی پی سی ایل اور ایچ ایس بی سی کی لیڈرشپ ٹیمیں بھی موجود تھیں۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے جناب دھرمیندر پردھان نے کہا کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، مدراس تحقیق پر مبنی ، معاشرے سے منسلک اختراعاتی ماحولیاتی نظام کی قیادت جاری رکھے ہوئے ہے ، جس سے تعلیمی اداروں ، صنعت اور عوامی مقاصد کے درمیان تعاون کو تقویت ملتی ہے ، جبکہ ڈیپ ٹیک اور فرنٹیئر ریسرچ میں بھارت کی صلاحیتوں کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک میں تحقیق اور اختراع کی خاطر ایک نئے اور فعال ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے مضبوط عزم برقرار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق ، ترقی اور اختراع (آر ڈی آئی) کے لیے حکومت کا ایک لاکھ کروڑ روپے مختص کرنا واضح طور پر تحقیق کی صلاحیت کو نمایاں طور پر بڑھانے اور علم کو اختراع اور قابل پیمائش نتائج میں مضبوطی کےساتھ منتقلی کو یقینی بنانے کے ارادے کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس وقت تقریبا 70فیصد تحقیقی سرمایہ کاری حکومت کی طرف سے آتی ہے ، جو مضبوط عوامی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم ، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اختراع اور پیمانے کے اثرات کو تیز کرنے کے لیے پبلک سیکٹر اور صنعت کے درمیان زیادہ متوازن 50:50 شراکت داری کے طرف طویل مدتی عمل کو آگے بڑھانا چاہیے۔ اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے جناب پردھان نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ صرف حوالہ جات ، پیٹنٹ اور آئی پی اوز کے ذریعے پیش رفت کی پیمائش سے آگے بڑھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک پختہ اختراعی نظام کا حقیقی معیار تحقیق کو قابل استعمال مصنوعات ، قابل توسیع ٹیکنالوجیز اور بامعنی سماجی حل میں تبدیل کرنے کی صلاحیت میں مضمر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی تعمیر محض ایک مقصد نہیں بلکہ ایک قومی مشن ہے۔ انہوں نےکہا کہ 2047 تک عالمی آبادی کا ایک اہم حصہ ، خاص طور پر گلوبل ساو ¿تھ ، بھارتی ترقیاتی ماڈل کی طرف دیکھے گا ، جس سے بھارت کے تحقیقی اور تعلیمی اداروں پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوگی۔ اس تناظر میں ، انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک کے اختراعی ماحولیاتی نظام کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ نہ صرف مضبوط ہو بلکہ عالمی سطح پر انٹرآپریبل اور ادارہ جاتی طور پر اچھی طرح سے منسلک ہو۔ باہمی تعاون پر مبنی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت انوویٹس جیسے پروگرام اعلی تعلیمی اداروں (ایچ ای آئی) اور مرکزی فنڈ سے چلنے والے تکنیکی اداروں (سی ایف ٹی آئی) کو بڑے پیمانے پر ڈیپ ٹیک اختراعات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم پر لانے میں اہمیت رکھتے ہیں۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ،مدراس میں ہونے والا اجلاس اس بڑی اجتماعی کوشش کے لیے ایک قیمتی پیش خیمہ کے طور پر کام کرتا ہے۔سمٹ میں ایک نمائش کا انعقاد کیا گیا ، جس میں انسٹی ٹیوٹ آف ایمیننس (آئی او ای) فریم ورک کے تحت انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی مدراس کے ذریعہ قائم کردہ 15 سینٹرز آف ایکسی لینس کی تحقیق کی نمائش کرنے والے اسٹال لگائے گئے۔ نمائشوں میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کی نمائش کی گئی جو صحت کی دیکھ بھال ، پائیداری ، سیمی کنڈکٹرز ، توانائی اور جدید میٹریئلز میں اہم سماجی چیلنجوں سے نمٹتی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

