Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story

جموں و کشمیر میں گزشتہ تین برسوں کے دوران جرائم کی شرح میں کمی درج۔

جموں, 08 مئی (ہ س)جموں و کشمیر میں گزشتہ تین برسوں کے دوران مجموعی جرائم کی شرح میں کمی درج کی گئی ہے، تاہم خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم اب بھی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی سال 2024 کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 26 ہزار 362 جرائم درج کیے گئے، جبکہ سال 2023 میں یہ تعداد 29 ہزار 595 اور 2022 میں 30 ہزار 197 تھی۔ اس طرح مسلسل تیسرے سال جرائم میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ خطے میں جرائم کی شرح 192 فی لاکھ آبادی رہی، جبکہ پولیس کی جانب سے چارج شیٹ داخل کرنے کی شرح 79.9 فیصد درج کی گئی۔

اگرچہ مجموعی جرائم کم ہوئے ہیں، لیکن خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے 2 ہزار 570 معاملات درج کیے گئے، جو تشویش کا باعث ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ 1 ہزار 344 معاملات خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور عصمت دری سے متعلق رہے۔ اس کے علاوہ شادی کے مقصد سے خواتین کے اغوا کے 400 اور شوہر یا سسرالی افراد کی جانب سے ہراسانی و تشدد کے 380 معاملات سامنے آئے۔

رپورٹ میں عصمت دری کے 261، عصمت دری کی کوشش کے 9، جہیز قتل کے 7، خواتین کا پیچھا کرنے کے 13 اور جنسی ہراسانی کے 39 معاملات بھی درج کیے گئے ہیں۔ خواتین کے کپڑے اتارنے کی کوشش سے متعلق 78 کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

این سی آر بی کے مطابق بھارتی تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی جگہ بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) نافذ ہونے کے باعث کئی مقدمات نئی دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں۔

انسانی جانوں کے خلاف جرائم کے 5 ہزار 165 معاملات بھی رپورٹ میں شامل ہیں، جن میں قتل کے 89 کیس درج کیے گئے۔ تاہم سب سے زیادہ تشویش سڑک حادثات میں ہونے والی اموات پر ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاپرواہی سے اموات کے 705 معاملات میں 1 ہزار 324 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں 681 سڑک حادثات کے کیس شامل تھے اور ان حادثات میں 1 ہزار 300 افراد ہلاک ہوئے۔ ہٹ اینڈ رن کے 208 واقعات میں 299 لوگوں کی موت واقع ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق اغوا کے 2 ہزار 772 معاملات درج کیے گئے، جن میں بڑی تعداد لاپتہ بچوں سے متعلق تھی، جبکہ قتل کی کوشش کے 407 کیس بھی سامنے آئے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu