
کولکاتا، 16 مئی (ہ س)۔ آسنسول کے ریل پار علاقے میں لاوڈ اسپیکر کے حوالے سے انتظامی پہل کے بعد جمعہ کی رات اچانک حالات خراب ہوگئے اور جہانگیری محلہ (ٹی او پی) پولیس چوکی کے علاقے میں پرتشدد تصادم کا واقعہ سامنے آیا۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے اور بھاری پولیس فورس تعینات کر کے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
معلومات کے مطابق، انتظامیہ کی جانب سے تیز آواز میں بجنے والے لاوڈ اسپیکر کے حوالے سے آگاہی پیغام دینے کے لیے پولیس ٹیم علاقے میں پہنچی تھی۔ اس کے بعد علاقے کے مختلف مذہبی مقامات پر اس مسئلے کے حوالے سے میٹنگ کا عمل بھی شروع ہو گیا تھا۔
اسی دوران رات تقریباً 9 بجے کے بعد ماحول اچانک کشیدہ ہو گیا۔ الزام ہے کہ کچھ لوگ بڑی تعداد میں جہانگیری محلہ پولیس چوکی پہنچ گئے اور وہاں ہنگامہ شروع کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے صورتحال بے قابو ہو گئی اور لوگوں نے پولیس چوکی کے احاطے میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔
لوگوں نے نہ صرف پولیس چوکی کو نقصان پہنچایا بلکہ آس پاس کے علاقے میں بھی جم کر ہنگامہ آرائی کی۔ کئی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں پولیس کی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ اس واقعے سے علاقے میں افراتفری مچ گئی اور لوگ خوفزدہ ہو گئے۔
صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور حالات بگڑتے دیکھ کر آنسو گیس کے گولے بھی چھوڑے گئے۔ اس کے بعد اضافی پولیس فورس موقع پر پہنچی اور علاقے کو محاصرے میں لے کر صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔
سابق کونسلر اور این جی او آپریٹر شاہنہ پروین نے بتایا کہ رات تقریباً 9 بجے جب وہ نماز پڑھنے جا رہی تھیں، تبھی باہر شور و غل کی آواز سنائی دی۔ باہر نکلنے پر انہوں نے دیکھا کہ جہانگیری محلہ پولیس چوکی کے سامنے کافی تعداد میں نوجوان جمع ہیں۔ پوچھنے پر جانکاری ملی کہ کچھ پولیس افسران اور اضافی فورس کے جوان مسجدوں میں لاوڈ اسپیکر کی آواز کم کرنے یا اسے ہٹانے کی ہدایت دینے گئے تھے، جس کے بعد کچھ نوجوان مشتعل ہوگئے اور پتھراو شروع کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ مکمل طور پر غلط ہے اور انہوں نے نوجوانوں کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہیں مانے۔ شاہنہ پروین نے الزام لگایا کہ بعد میں پولیس کارروائی کے دوران کچھ گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور کچھ گھروں کے دروازے کھلوانے کی کوشش بھی کی گئی۔ انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ قصورواروں کی شناخت کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے، لیکن بے قصور لوگوں کو ہراساں نہ کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ وہ اور ان کی تنظیم انتظامیہ کے ساتھ ہیں۔
وہیں، کونسلر ایس ایم مصطفیٰ نے بتایا کہ انہیں رات تقریباً 9.30 بجے پتھراو کی اطلاع ملی۔ موقع پر پہنچنے پر انہوں نے صورتحال کو کافی نازک پایا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کی طرف سے پولیس چوکی پر پتھراو کیا گیا، جو کہ سراسر غلط ہے اور وہ اس طرح کے واقعے کی حمایت نہیں کرتے۔
قریشی محلہ مسجد کے سکریٹری محمد حیدر نے بتایا کہ شام تقریباً 7 بجے پولیس کی جانب سے ان سے میٹنگ کے لیے رابطہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریل پار علاقے کی تمام مسجدوں کے علماء اور عہدیداران آپس میں تبادلۂ خیال کر کے ایک نمائندہ طے کرنے والے تھے، جو انتظامیہ کے ساتھ میٹنگ کرتا۔
لیکن رات تقریباً 9.30 بجے انہیں اطلاع ملی کہ جہانگیری محلہ پولیس چوکی میں صورتحال خراب ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کر کے قصورواروں کی شناخت کرنے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی بے قصور لوگوں کو پریشان نہ کرنے کی اپیل کی۔
محمد حیدر نے یہ بھی کہا کہ لاوڈ اسپیکر کا مسئلہ تنازعہ کا موضوع نہیں ہے اور اسے باہمی بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ علاقے کی تمام مسجدیں انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے آپس میں میٹنگ کر کے فیصلہ کریں گی۔
فی الحال پورے ریل پار اور جہانگیری محلہ علاقے میں بھاری پولیس فورس تعینات ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ واقعے میں ملوث لوگوں کی شناخت کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انتظامیہ اور مقامی نمائندوں نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے، تاکہ علاقے میں جلد از جلد معمولاتِ زندگی بحال ہو سکیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن

