
کولکاتا، 16 مئی (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی بڑی کارروائی کے بعد کولکاتا پولیس کے ڈپٹی کمشنر شانتنو سنہا وشواس کی خدمات ریاستی حکومت نے ختم کر دی ہیں۔ جمعہ کی رات یہ کارروائی کی گئی ہے۔ شانتنو سنہا وشواس پر منی لانڈرنگ، جبری وصولی اور زمین قبضے سے متعلق پپو سونا کے مجرمانہ سنڈیکیٹ میں شامل ہونے کے الزامات ہیں۔ اس معاملے میں ای ڈی نے انہیں گرفتار کیا تھا۔ معاملے کی جانچ کے دائرے میں اب کولکاتا پولیس کے 12 دیگر پولیس اہلکار بھی آ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، شانتنو سنہا وشواس پہلے کولکاتا پولیس کے سکیورٹی کنٹرول ڈویژن میں تعینات تھے اور کالی گھاٹ تھانے کے انچارج بھی رہ چکے ہیں۔ وہ سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے بیحد قریبی رہے ہیں۔ ای ڈی نے انہیں کولکاتا میں واقع سی جی او کمپلیکس میں 10 گھنٹے سے زیادہ پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کیا تھا۔
ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں ان کی خدمات ختم کرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔ وشواس 60 برس کی عمر پوری کر چکے تھے، لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے دی گئی دو سال کی توسیع کی وجہ سے وہ اب تک عہدے پر برقرار تھے۔ گرفتاری کے بعد حکومت نے ان کی خدمات ختم کر دی ہیں۔
ای ڈی کا الزام ہے کہ شانتنو سنہا وشواس مجرم وشواجیت پودار عرف 'سونا پپو' اور تاجر جوائے کامدار کے ساتھ مل کر جبری وصولی، دھوکہ دہی اور زمین قبضے والے گروہ کا آپریشن چلا رہے تھے۔ جانچ ایجنسی کو مبینہ طور پر واٹس ایپ چیٹ، مالی لین دین سے متعلق دستاویزات اور دیگر ڈیجیٹل شواہد ملے ہیں، جن سے اس نیٹ ورک میں ان کے کردار کی تصدیق ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
مرکزی جانچ ایجنسیوں نے اب جانچ کا دائرہ مزید بڑھا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، کولکاتا پولیس کے 12 دیگر افسران اور اہلکاروں کا کردار بھی جانچ کے دائرے میں ہے۔ ان پر سنڈیکیٹ کی سرگرمیوں اور مالی لین دین میں مبینہ ملوث ہونے یا تعاون کا شبہ ہے۔
اس کے علاوہ شانتنو سنہا وشواس کا نام غیر قانونی ریت کی اسمگلنگ، کوئلہ اسمگلنگ اور نجی میڈیکل کالجوں میں داخلوں سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ میں بھی سامنے آیا ہے۔ فی الحال ای ڈی اور دیگر مرکزی ایجنسیاں معاملے کی تفصیلی جانچ کر رہی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن

