
نئی دہلی، 16 مئی (ہ س)۔
عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے ہفتہ کو لال باغ میں نیٹ (یو جی) امتحان کی منسوخی کے بعد خودکشی کرنے والے امیدوار کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ متاثرہ لڑکی کئی سالوں سے ایم بی بی ایس میں داخلے کی تیاری کر رہی تھی، اور یہ اس کے لیے آخری موقع تھا۔ پیپر لیک ہونے کی خبر کے بعد وہ بہت پریشان اور بے حد ذہنی دباو¿ میں تھی۔ بالآخر اس نے گھر میں پھانسی لگا لی۔
بھاردواج نے کہا کہ اب ملک کے مختلف حصوں سے اسی طرح کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے سخت اور ٹھوس کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ ایک ادنیٰ پروفیسر کو گرفتار کرنا اور اسے پورے کیس کا "ماسٹر مائنڈ" قرار دینا سراسر غلط ہے۔ اصل ماسٹر مائنڈ پردے کے پیچھے کام کرنے والے طاقتور اور بااثر لوگ ہیں۔
اے اے پی لیڈر نے کہا کہ مرکزی حکومت کو ہمارے نوجوانوں کو یقین دلانا چاہئے کہ اب سے امتحانی پرچے لیک نہیں ہوں گے۔
سوربھ بھاردواج نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت نوجوانوں سے اپیل کرے کہ وہ ایسے سخت اور جان لیوا اقدامات نہ کریں۔
اے اے پی لیڈر نے معاملے کی منصفانہ اور تیز رفتار تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ

