Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
چین دورے کے بعد ٹرمپ کا تائیوان کو سخت انتباہ، آزادی کے اعلان سے باز رہنے کی تاکید

چین دورے کے بعد ٹرمپ کا تائیوان کو سخت انتباہ، آزادی کے اعلان سے باز رہنے کی تاکید

واشنگٹن،16مئی(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز تائیوان کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی آزادی کے اعلان کی طرف نہ بڑھے۔یہ بیان انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے بیجنگ میں ملاقات کے بعد دیا، جو دو روزہ دورے کا حصہ تھا اور جس میں دونوں رہنماو¿ں کے درمیان کشیدگی کم کرنے پر بات چیت ہوئی۔ٹرمپ نے اس ملاقات میں تجارتی معاہدوں کو ''بہترین'' قرار دیا اور کہا کہ شی جن پنگ نے سمندری گزرگاہوں سے متعلق تعاون کی پیشکش بھی کی ہے۔فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو کے اقتباسات کے مطابق، جو ان کے بیجنگ سے روانگی سے قبل ریکارڈ کیا گیا اور جمعے کو نشر ہوا، ٹرمپ نے کہا:''میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی آزادی کا اعلان کرے۔انہوں نے مزید کہا:ہم نہیں چاہتے کہ کوئی یہ کہے کہ چونکہ امریکا ہماری حمایت کرتا ہے، اس لیے ہم آزادی کا اعلان کرتے ہیں۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ تائیوان کو اس وقت امریکی اسلحہ فروخت کرنے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا:میں چاہتا ہوں کہ تائیوان کشیدگی کم کرے اور میں چاہتا ہوں کہ چین بھی کشیدگی کم کرے۔شی جن پنگ کی جانب سے واضح تنبیہ پر گزشتہ روز ہونے والی گرمجوش مصافحوں اور تقاریب کا اثر غالب نظر آیا، جب انہوں نے اشارہ دیا کہ تائیوان کے معاملے کو غلط انداز میں سنبھالنا واشنگٹن اور بیجنگ کو ''تنازع'' تک پہنچا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تائیوان کا مسئلہ چین-امریکا تعلقات میں سب سے اہم ہے۔ ان کے مطابق اگر اس مسئلے کو درست طریقے سے سنبھالا جائے تو دونوں ممالک کے تعلقات مجموعی طور پر مستحکم رہ سکتے ہیں، لیکن غلطی کی صورت میں دونوں طاقتیں ٹکراو ¿ یا حتیٰ کہ ''تنازع'' میں داخل ہو سکتی ہیں۔چین تائیوان کو اپنی علیحدہ ہونے والی ایک صوبائی اکائی سمجھتا ہے اور اسے دوبارہ اپنے ساتھ شامل کرنا اپنا لازمی ہدف قرار دیتا ہے۔

اگرچہ بیجنگ پرامن حل کی بات کرتا ہے، تاہم وہ اس مقصد کے لیے طاقت کے استعمال کو بھی خارج از امکان نہیں سمجھتا۔تائیوان کے معاملے پر دونوں رہنماو ¿ں کے بیانات کو ٹرمپ کے دورہ بیجنگ کا سب سے اہم پہلو قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی تھنک ٹینک ''نیو امریکن سیکیورٹی'' کے ماہر جیکب اسٹوکس کے مطابق ٹرمپ کو وہ منظرنامہ ملا، جس کی وہ توقع رکھتے تھے، جبکہ چینی قیادت بھی تعلقات کو بہتر بنانے کا تاثر دینے میں کامیاب رہی۔ان کے مطابق یہ دورہ زیادہ تر تعلقات کو مستحکم دکھانے کی کوشش تھا، نہ کہ ٹھوس نتائج حاصل کرنے کا۔اسی دوران چینی وزارت خارجہ کے حوالے سے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ شی جن پنگ خزاں میں واشنگٹن کا دورہ کریں گے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے ایک اہم امتحان ہوگا۔مارشل فنڈ کی ماہر بونی گلاسر کے مطابق چین اس دوران ٹرمپ پر دباو ¿ ڈال سکتا ہے کہ وہ تائیوان کو اسلحے کی فروخت سے متعلق کوئی بھی فیصلہ مو ¿خر کریں۔

دورے کے بعد چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ بیجنگ اور واشنگٹن اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ پہلے سے طے شدہ تمام معاہدوں پر عملدرآمد جاری رکھا جائے گا اور تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے دو نئے کونسلز قائم کیے جائیں گے۔اسی دوران ٹرمپ نے تجارتی معاہدوں کو ''شاندار'' قرار دیا اور کہا کہ بوئنگ طیاروں کی 200 کی ایک بڑی خریداری کا آرڈر دیا گیا ہے، جو بعد میں مزید بڑھ بھی سکتا ہے۔بعد ازاں بوئنگ کمپنی نے بھی 200 طیاروں کے ابتدائی معاہدے کی تصدیق کی، جبکہ امکان ظاہر کیا گیا کہ مستقبل میں مزید آرڈرز بھی دیے جا سکتے ہیں۔دوسری جانب ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں چینی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے میں مدد کی یقین دہانی ملی ہے اور یہ بھی کہ شی جن پنگ نے ایران کو فوجی ساز و سامان فراہم نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔تاہم سرکاری چینی بیانات میں ان تفصیلات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ بیجنگ نے صرف پہلے سے جاری موقف دہراتے ہوئے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور سمندری راستوں کو جلد از جلد کھولنے پر زور دیا ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں۔

چینی وزارت خارجہ نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا کہ فوری اور مکمل جنگ بندی ضروری ہے اور عالمی مطالبات کے مطابق بحری راستوں کو کھولا جانا چاہیے۔شی جن پنگ نے اس موقع پر ٹرمپ کے دورہ چین کو ''تاریخی'' قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک نے اسٹریٹجک استحکام پر مبنی ایک نئے تعلق کی بنیاد رکھی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu