
غزہ،16مئی (ہ س)۔اسرائیل کی جانب سے زیر محاصرہ اور جنگ زدہ غزہ میں خوراک و دیگر اشیائے ضروریہ کی منتقلی و ترسیل روکنے میں طویل عرصے سے قدغنوں نے غزہ میں ایک بار پھر غذائی قلت اور قحط جیسی صورت حال کے خوفناک مناظر جاری ہیں۔اس غذائی قلت کے اثرات بطور خاص ان خواتین پر جو ماں بننے والی ہیں اور جو شیر خوار بچے ماو¿ں کی گود میں ہیں وہ واضح نظر آتے ہیں۔ یہ حالات ڈاکٹروں کی بین الاقوامی رضاکار تنظیم 'ڈاکٹرز ود آو¿ٹ بارڈرز' کی تازہ رپورٹ میں بیان کیے گئے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر ڈاکٹروں کی یہ خیراتی تنظیم ایک عرصے سے غزہ کی صورت حال کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ اب ایک بار پھر اس کے مرتب کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ رپورٹ غزہ میں غذائی قلت کے مسئلے کی شدت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ رپورٹ زیادہ تر سال 2025 کے دوران زچہ و بچہ کی صحت اور ان کے لیے خوراک و ادویات سے متعلق حالات کی ابتری کو ظاہر کرتی ہے۔خیراتی تنظیم کے جیک لیتور نے غزہ میں 'ڈاکٹرز ود آو ¿ٹ بارڈرز' کے ایک عہدے دار کے طور پر کام کیا ہے۔ وہ غزہ میں جاری اس بحران سے انتباہ کررہے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس بحران سے کیونکر بچا جا سکتا ہے۔انہوں نے غزہ کے حوالے سے اپنے مشاہدات اور تجربات بیان کرتے ہوئے کہا رات کے وقت اپنے گیسٹ ہاو ¿س میں موجود ہوتے ہوئے رفح کو روشنی کی وجہ سے دیکھ سکتے ہیں کہ رفح کہاں ہے۔ وہ جگہ جہاں ان تمام ٹرکوں کو 'اسرائیلی فوج' نے روک رکھا ہے۔ جو جنگ زدہ غزہ کے لیے خوارک، ادویات اور انتہائی ضرورت کی دوسری اشیا لائے ہیں۔اس دوران جب میں ہر روز اپنے کلینک پر جاتا تھا تو ہر روز نئے مریض میرے پاس آتے جنہیں میں کلینک میں رجسٹر کرتا، وہ غذائی قلت کا بری طرح شکار ہوتے۔ ان میں مائیں بھی ہوتیں اور شیر خوار بچے بھی۔ ان میں ایسی خواتین بھی آئیں جن کا وزن خوراک کی قلت کی وجہ سے انتہائی کم ہو کر صرف 35 کلو کے قریب رہ گیا تھا۔ یہ سب کچھ ناقابل برداشت تھا۔ڈاکتروں کی اس بین الاقوامی تنظیم 'ایم ایس ایف' کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس کلینک پر 201 ایسی ماوں کا جون 2025 سے جنوری 2026 کے دوران علاج کیا گیا، جن میں سے نصف سے زائد کا علاج خان یونس کے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں کیا گیا۔ ان کی چوتھائی تعداد نے بچوں کو اس وقت جنم دیا جب وہ خود انتہائی طور پر غذائی قلت کا شکار تھیں۔اس دروان 90 فیصد بچے خوراک کی اسی قلت کی وجہ سے قبل از وقت دنیا میں آئے اور ان کی حالت انتہائی قابل رحم تھی۔ 'ایم ایس ایف' کے مطابق غزہ میں شیر خوار بچوں میں غذائی قلت کے شکار بچوں کے ابتدائی کیس جنوری 2024 میں سامنے آئے تھے۔ جبکہ مارچ 2026 میں ان بچوں کی تعداد 5000 لےقریب تھی جو سب اسی غذائی قلت کا شکار تھے۔ان بچوں میں زیادہ تر تعداد ان بچوں کی تھی جن کی عمریں پانچ سال سے کم تھیں۔ ان بچوں کے ساتھ ساتھ 3400 سےزائد ایسی حاملہ حواتین بھی ہمارے ہاں علاج کے لیے آئیں جو ماں بننے والی تھیں لیکن انہیں سخت غذائی قلت کا سامنا تھا۔ یہ قلت ان کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہو چکی تھی۔جیک لیتور کے بقول اب اس صورت حال میں بظاہر استحکام ہے مگر 'ایم ایس ایف' نے مزید 400 ایسے بچوں کو اپنے کلینک میں داخل کیا جنہیں پچھلے تین سے چار ماہ سے اسی غذائی قلت کا سامنا ہے اور وہ اسی وجہ سے عوارض کا شکار ہوئے ہیں۔'ایم ایس ایف' کے اس عہدے دار رہ چکے ذمہ دار نے کہا یہ صورت حال انتہائی بری ہے۔ خوراک لے کر رفح کے باہر کھڑے سینکروں ٹرکوں میں سے صرف چند ایک کو ہی غزہ میں داخل ہونے دیا جاتا ہے۔ ان میں سے بھی زیادہ تر ٹرک کاروباری لوگوں کے ہوتے ہیں، انسانی بنیادوں پر خوراک اور ادویات لانے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کے نہیں۔جب جنگ نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔ 80 فیصد سے زیادہ لوگوں کے پاس کوئی بھی روزگار دستیاب نہیں۔ تو ان کاروباری لوگوں کے ٹرکوں سے آنے والی خوراک عام آدمی کے لیے کیونکر دستیاب ہو گی۔ یہ وہ حالات ہیں جن میں ہر آنے والا دن بچوں اور ماو ¿ں کے لیے خطرناک تر ہوتا جا رہا ہے۔ کہ ان کے لیے غذائی قلت کا مسئلہ سنگین سے سنگین ہو رہا ہے۔ ڈر ہے کہ جلد غزہ میں قحط کا سامنا ہوگا۔ جیسا کہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

