
برلن،16مئی (ہ س)۔امریکہ اور یورپی ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج میں مزید اضافے کے اشارے بڑھ رہے ہیں۔ جرمنی کے چانسلر فریڈرک میرز نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کبھی بھی مشورہ نہیں دیں گے کہ وہ امریکہ میں رہائش اختیار کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا وہ اپنے بچوں کو امریکہ جا کر پڑھنے کا بھی مشورہ نہیں دیں گے۔یورپی ملکوں اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی رنجشیں صدر ٹرمپ کے دور صدارت میں یہ معاملہ زیادہ وسعت پکڑ گیا ہے۔ جرمن چانسلر کے یہ تازہ خیالات نے اس پیدا شدہ خیلیج کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ان دو طرفہ اختلافات کی وجہ ان ملکوں کے تجارتی معاملات بھی ہیں مگر اس سے زیادہ وجہ یوکرین جنگ، نیٹو اتحاد کے سلسلے میں امریکی صدر کی سوچ اور ایران پر امریکہ کا اسرائیل کے ساتھ مل کر کیے گئے حملے کے معاشی اثرات کا یورپ تک پھینے کا خطرہ ہے۔فریڈرک میرز نے پچھلے ماہ کہا تھا امریکہ کی ایران جنگ امریکی توہین کا ذریعہ بن گئی ہے۔ ان کے اس بیان نے صدر ٹرمپ کو ناراض کر دیا ہے۔ میرز کے اس بیان کے کچھ روز بعد امریکہ کا جرمنی سے اپنے فوجی دستوں کو جزوی طور پر واپس بلانے کا اعلان سامنے آیا۔
اب جرمن چانسلر نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ، یہ نوجوان کیتھولک کنوینشن میں جمع تھے۔ انہوں نے کہا اس وقت عالمی سطح پر جاری صورت حال میں لوگ تباہی کی علامات دیکھتے ہوئے تشویش میں مبتلا ہیں۔ لیکن میں اپنے جرمن شہریوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے عوام اپنے ملک کے بارے میں مثبت سوچ رکھیں اور پر امید رہیں۔انہوں نے کہا میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ دنیا میں صرف چند ملک ہیں جو ان حالات میں بھی مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ان میں ایک جرمنی ہے۔ 70 سالہ جرمن چانسلر نے کہا میں اپنے بچوں کو یہ مشورہ نہیں دوں گا کہ وہ امریکہ پڑھنے کے لیے جائیں یا وہاں رہنے کے لیے ، کیونک امریکہ میں سماجی سطح پر بہت تبدیلی آگئی ہے۔ جس سے امریکی ماحول بدل کر رہ گیا ہے۔میرز نے امریکہ میں حالات کی خرابی کا اظہار اس طرح کیا کہ آج انتہائی پڑھے لکھے افراد کو بھی امریکہ میں ملازمت نہیں مل سکتی۔ جرمن چانسلر کے ان خیالات کا جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ میرز اپنے ٹوٹے ہوئے ملک کی فکر کریں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

