


دھار، 16 مئی (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے دھار ضلع ہیڈ کوارٹر پر واقع کمال مولا مسجد اوربھوج شالا مندر کے سلسلے میں ریاستی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ہفتہ کی صبح ہندو عقیدت مندوں پر درشن اور پوجا ارچنا کی۔ لوگوں نے ہنومان چالیسا کا پاٹھ بھی کیا۔حالانکہ اس مسئلے پر مسجد فریق کی جانب سے اعتراض اور فیصلے میں نقص کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بھوج شالا تنازعہ کیس میں ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد جمعہ سے ہی شہر میں سیکورٹی کے پختہ انتظامات کیے گئے ہیں۔ پورے شہر میں جگہ جگہ پولیس فورس تعینات ہے۔ ہفتہ کی صبح سیکورٹی کے سخت انتظامات کے درمیان ہندوؤں کی جانب سے پوجا کا اہتمام کیا گیا۔ ۔ ان میں نگراں وشواس پانڈے، بھوج شالا مکتی یگیہ کے کنوینر گوپال شرما، شریش دوبے، کیشو شرما اور اشوک جین شامل تھے۔
درشن کے بعد عقیدت مندوں نے کہا کہ برسوں بعد انہیں بغیر کسی روک ٹوک کے پوجا کرنے کا موقع ملا ہے۔ بھوج شالا مکتی یگیہ کے کنوینر گوپال شرما نے کہا کہ بھوج شالا کا ذرہ ذرہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک مندر ہے۔ مسلم فریق کی جانب سے آئندہ کی قانونی کارروائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انہیں سپریم کورٹ جانے کی مکمل آزادی ہے، لیکن بھوج شالا مندر تھا، مندر ہے اور ہمیشہ مندر ہی رہے گا۔ فی الحال پورے دھار شہر اور بھوج شالا احاطے کی صورتحال پر کڑی نگرانی رکھی جا رہی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے دھار میں واقع بھوج شالا کی مذہبی نوعیت کے حوالے سے برسوں سے چلے آ رہے متنازعہ معاملے میں جمعہ کو تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے بھوج شالا کو راجہ بھوج کے وقت کا واگ دیوی (دیوی سرسوتی) کا مندر مانا اور ہندو فریق کو یہاں پوجا کا حق دے دیا ہے۔ فیصلے کے بعد ہفتہ کی صبح بڑی تعداد میں عقیدت مند بھوج شالا پہنچے اور درشن و پوجا ارچنا کی۔ لوگوں نے ہنومان چالیسا کا پاٹھ بھی کیا۔
ہندو فریق کے سینئر وکیل وشنو شنکر جین نے بتایا کہ ہائی کورٹ نے 7 اپریل 2003 کے اے ایس آئی کے حکم کو جزوی طور پر منسوخ کر دیا ہے۔ اس حکم میں مسلم سماج کو جمعہ کے روز مقررہ مدت کے لیے نماز کی اجازت دی گئی تھی۔ مسلم فریق کے سپریم کورٹ جانے کے امکان کے پیشِ نظر ہندو فریق نے دو کیویٹ درخواستیں دائر کی ہیں۔ وکیل جین نے بتایا کہ ہائی کورٹ نے لندن کے ایک میوزیم میں رکھی واگ دیوی کی اصل مورتی واپس لانے کے مطالبے پر بھی غور کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن

