
ہریدوار، 16 مئی ( ہ س)۔ سلطان پور کے علاقے میں مساجد کے میناروں کو منہدم کرنے کی کاروائی ہفتہ کو شروع ہوئی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ میناریں سرکاری اجازت کے
بغیر تعمیر کی گئی تھیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق، تعمیر اجازت کے بغیر اور اکتوبر 2025 میں معیار کے خلاف پائی گئی۔ضلع مجسٹریٹ میور دکشت نے تعمیر پر پابندی کا نوٹس جاری کیا تھا۔
ضلع مجسٹریٹ میور دکشت نے کہا کہ ماضی میں مسجد کے منتظمین کو نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس پر نہ تو مساجد کی انتظامیہ نے جواب دیا اور نہ ہی ان کی طرف سے غیر قانونی تعمیر کو ہٹایا گیا۔ آج پھر ایس ڈی ایم کی قیادت میں ٹیم وہاں گئی اور منتظمین کو خبردار کیا کہ اگر غیر قانونی تعمیر کو نہیں ہٹایا گیا تو احاطے کو سیل کر دیا جائے گا۔ جس کے بعد مینار کو ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے سپریم کورٹ کی 2009 اور 2016 کی ہدایات کا حوالہ دیا کہ ضلعی اتھارٹی کی اجازت کے بغیر کوئی مذہبی عمارت یا ڈھانچہ تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے پیچھے دلیل یہ تھی کہ سرکاری زمین پر مذہبی ڈھانچہ نہیں بنایا جانا چاہیے اور اس کی تعمیر میں سلامتی کے ہر پہلو کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ لیکن اس مسجد کے تعمیراتی معیارات سے متعلق رہنما خطوط کا خیال نہیں رکھا گیا۔ نہ تو نقشہ منظور کیا گیا اور نہ ہی فائر سیفٹی سمیت کسی دوسرے محکمے سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ لیا گیا۔
واضح رہے کہ اتراکھنڈ میں 722 سے زیادہ مساجد تعمیر کی جا چکی ہیں، جن کا ڈیٹا اتراکھنڈ حکومت کے پاس بھی ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ مساجد ہریدوار ضلع میں ہیں،
جنکی تعداد 322 بتائی جاتی ہیں۔ دہرادون ضلع میں 155، ادھم سنگھ نگر میں 144 اور نینی تال ضلع میں 48 مساجد ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد

