
ایم پی نے نوزائیدہ اور زچگی کی صحت کے شعبے میں نمایاں ترقی کی، شرحِ اموات قومی اوسط سے کم
۔ نوزائیدہ بچوں کے ڈسچارج ہونے کی شرح 82.3 فیصد تک پہنچ گئی، آئی سی یو کیئر یونٹ میں بیڈز کی گنجائش 1770 ہوئی
بھوپال، 16 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں نوزائیدہ اور زچگی کی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے ایس این سی یو، ایم این سی یو اور ای-شیشو جیسے جدید صحت کے منصوبوں کو وسعت دی جا رہی ہے۔ ان کوششوں سے نوزائیدہ بچوں کے علاج اور ڈسچارج کی شرح میں نمایاں بہتری درج کی گئی ہے، جبکہ شرحِ اموات قومی اوسط سے کم رہی ہے۔
پبلک ریلیشن آفیسر انکش مشرا نے ہفتہ کو بتایا کہ وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں ریاست میں صحت کی خدمات کو مسلسل بااختیار اور جدید بنایا جا رہا ہے۔ ریاست کے ہر علاقے میں صحت کی خدمات کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مسلسل اور موثر نگرانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، تاکہ عام لوگوں کو معیاری علاج کی سہولیات بروقت دستیاب ہو سکیں۔ خواتین اور بچوں کی صحت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ریاستی حکومت جدید طبی ڈھانچے، ماہرانہ طبی خدمات اور موثر مانیٹرنگ کے نظام کو مضبوط کر رہی ہے۔ ان کوششوں سے ریاست میں نوزائیدہ اور زچگی کی صحت کے اشاریوں میں مسلسل بہتری درج کی جا رہی ہے۔
ریاست میں پیدائش کے وقت کم وزن، وقت سے پہلے پیدا ہونے والے اور پیدائش کے وقت شدید بیمار نوزائیدہ بچوں کے بہتر علاج اور نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات میں کمی لانے کے مقصد سے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے یونٹس (ایس این سی یو) موثر طریقے سے چلائے جا رہے ہیں۔ ان یونٹوں کے ذریعے نوزائیدہ بچوں کو ماہرانہ علاج، جدید طبی آلات اور تربیت یافتہ طبی عملے کی نگرانی فراہم کی جا رہی ہے۔
سال 25-2024 کے مقابلے مالی سال 26-2025 میں نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے یونٹوں کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ سال 25-24 میں جہاں 1 لاکھ 29 ہزار 212 نوزائیدہ بچوں کو علاج فراہم کیا گیا تھا، وہیں سال 26-25 میں یہ تعداد بڑھ کر 1 لاکھ 34 ہزار 410 تک پہنچ گئی ہے۔ ساتھ ہی نوزائیدہ بچوں کے کامیابی سے ڈسچارج ہونے کی شرح بھی اب تک کی بہترین سطح 82.3 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ ریاست میں کام کرنے والے 62 ایس این سی یو میں اس سال 1 اپریل سے 15 مئی 2026 تک کل 15 ہزار 54 نوزائیدہ بچوں کا علاج کیا گیا، جن میں سے 12 ہزار 818 بچوں کو کامیابی کے ساتھ ڈسچارج کیا گیا۔ ایس این سی یو میں 85.2 فیصد ڈسچارج ریٹ قومی اوسط سے زیادہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لاما کی شرح صرف 2.12 فیصد، ریفرل کی شرح 4.2 فیصد اور شرحِ اموات 8.29 فیصد رہی، جو قومی اوسط سے کم ہے۔ یہ کامیابی ریاست میں معیاری نوزائیدہ طبی خدمات اور موثر علاج کے انتظام کی عکاسی کرتی ہے۔
ریاستی حکومت کی جانب سے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے یونٹوں میں دستیاب بستروں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ سال 25-24 میں جہاں کل 1654 بستر دستیاب تھے، وہ اب بڑھ کر 1770 ہو گئے ہیں۔ اس سے زیادہ تعداد میں شدید بیمار نوزائیدہ بچوں کو بروقت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔
ریاستی حکومت شدید بیمار نوزائیدہ بچوں کے علاج کے لیے جدید ترین اور وقف طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ریاست کے ایس این سی یو یونٹوں میں پیچیدہ اور شدید بیمار نوزائیدہ بچوں کے علاج کے لیے وینٹی لیٹر، سی-پیپ، بلاتعطل آکسیجن اور فوٹو تھراپی سمیت جدید طبی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ ساتھ ہی، فیسیلٹی بیسڈ نیوبورن کیئر میں تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور نرسنگ افسران کے ذریعے سائنسی اور معیاری علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان یونٹوں میں داخل نوزائیدہ بچوں کو ضرورت کے مطابق وینٹی لیٹر سپورٹ، سی-پیپ، فوٹو تھراپی اور آکسیجن سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے اور اینٹی بائیوٹک کے منطقی استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ نیز سرفیکٹنٹ اور کیفین سائٹریٹ جیسی جدید ادویات کے استعمال سے وقت سے پہلے پیدا ہونے والے نوزائیدہ بچوں کا علاج کر کے زندگی کو محفوظ بنایا جا رہا ہے۔ ان یونٹوں میں داخل تقریباً 8 فیصد نوزائیدہ بچوں کو وینٹی لیٹر سپورٹ، 37 فیصد کو فوٹو تھراپی، 49 فیصد کو منطقی آکسیجن اور 47 فیصد نوزائیدہ بچوں کو منطقی اینٹی بائیوٹک علاج فراہم کیا گیا۔
ریاست میں کام کرنے والے 200 این بی ایس یو (نیوبورن اسٹیبلائزیشن یونٹ) کے ذریعے بھی نوزائیدہ بچوں کو موثر علاج اور اسٹیبلائزیشن کی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس سال 1 اپریل سے 15 مئی 2026 تک 2 ہزار 241 نوزائیدہ بچوں کا علاج کر کے انہیں کامیابی کے ساتھ ڈسچارج کیا گیا ہے۔ این بی ایس یو یونٹوں کے ذریعے ہائی رسک نوزائیدہ بچوں کو اسٹیبلائزیشن خدمات کے ساتھ ساتھ آکسیجن سپورٹ اور فوٹو تھیریپی جیسی ضروری علاج کی سہولیات سب ڈسٹرکٹ سطح پر فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس سے سنگین حالت والے نوزائیدہ بچوں کو ابتدائی سطح پر ہی بروقت اور معیاری علاج مل رہا ہے، جس سے ان کی زندگی کی حفاظت اور بہتر صحت کے نتائج یقینی ہو رہے ہیں۔
ماں اور نوزائیدہ بچے کو ایک ساتھ معیاری علاج فراہم کرنے کے مقصد سے حکومتِ ہند کے نئے رہنما خطوط کے مطابق ریاست میں ایم این سی یو (مدر اینڈ نیو بورن کیئر یونٹ) کے تصور کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔ یہ نظام ''زیرو سیپریشن'' اصول پر مبنی ہے، جس میں ماں اور نوزائیدہ بچے کو الگ نہیں کیا جاتا۔ اس سے دودھ پلانے، کنگارو مدر کیئر اور نوزائیدہ کی مناسب دیکھ بھال کو فروغ ملتا ہے۔ یہ پہل خاص طور پر کم وزن اور وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کی صحت کے بہتر نتائج کو یقینی بنانے میں بیحد مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
ریاست میں فی الحال 23 ایم این سی یو شروع کیے جا چکے ہیں، جن کے ذریعے ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کو حساس، محفوظ اور ہمہ گیر طبی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ریاستی حکومت کا ہدف ہے کہ ریاست کے ہر علاقے میں جدید اور معیاری طبی خدمات کی رسائی کو یقینی بنایا جائے اور زچگی و نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات میں موثر کمی لائی جا سکے۔
ریاستی حکومت نوزائیدہ بچوں کو بروقت محفوظ اور معیاری غذائیت فراہم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ کم وزن اور بیمار نوزائیدہ بچوں کو بہتر غذائیت اور محفوظ علاج فراہم کرنے کے لیے مدر ملک یونٹ سے نوزائیدہ بچوں کو زندگی بخش غذائیت دی جا رہی ہے۔ سال 26-2025 میں اندور اور بھوپال میں واقع 2 فعال سی ایل ایم سی (کمپری ہینسو لیکٹیشن مینجمنٹ سینٹر) یونٹوں کے ذریعے 1031 رضاکار ماؤں نے 241.6 لیٹر ماں کا دودھ عطیہ کیا۔ عطیہ کیے گئے اس دودھ کو سائنسی عمل کے تحت محفوظ طریقے سے پاسچرائز کر کے 1159 کمزور اور بیمار نوزائیدہ بچوں کو کل 282.11 لیٹر محفوظ عطیہ کردہ انسانی دودھ (ڈونر ہیومن ملک) فراہم کیا گیا۔ یہ پہل ان نوزائیدہ بچوں کے لیے بیحد فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے جنہیں پیدائش کے فوراً بعد کافی مقدار میں ماں کا دودھ میسر نہیں ہو پاتا۔ کمپری ہینسو لیکٹیشن مینجمنٹ سینٹر کا یہ نظام نوزائیدہ بچوں کو انفیکشن سے تحفظ، بہتر غذائیت اور صحت مند نشوونما یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
پبلک ریلیشن آفیسر نے بتایا کہ ریاست میں نوزائیدہ بچوں کی صحت کی خدمات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ڈیجیٹل اختراع کے طور پر ای-شیشو پروجیکٹ بھی موثر طریقے سے چلایا جا رہا ہے۔ دسمبر 2025 سے اب تک اس منصوبے کے ذریعے کل 9889 نوزائیدہ بچے مستفید ہوئے ہیں۔ اندور اور اجین ڈویژن کے 16 ایس این سی یو اسپوک یونٹوں میں اس پروجیکٹ کے مثبت نتائج واضح طور پر سامنے آئے ہیں، جہاں اوسط ریفرل کی شرح 5 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد اور شرحِ اموات 8 فیصد سے کم ہو کر 6 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ منصوبہ نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کی خدمات کے معیار میں بہتری، ماہرانہ رہنمائی اور بروقت علاج یقینی بنانے میں موثر ثابت ہو رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن

