Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ایز آف لیونگ اور ایز آف جسٹس کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے ایم پی: ارجن میگھوال

ایز آف لیونگ اور ایز آف جسٹس کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے ایم پی: ارجن میگھوال

بھوپال، 16 مئی (ہ س)۔

مرکزی وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے کہا کہ ملک کے عدالتی نظام میں آج کا دن تاریخی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک ٹرانسفارم، ریفارم اور پرفارم کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اب مشین لرننگ، اے آئی اور ڈیجیٹل پرنٹنگ ہماری طرزِ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ مدھیہ پردیش ایز آف لیونگ اور ایز آف جسٹس کی سمت میں تیزی سے گامزن ہے۔

مرکزی وزیر میگھوال ہفتہ کو مدھیہ پردیش کے جبل پور میں منعقدہ ''فریگمنٹیشن آف فیوژن: ایمپاورنگ جسٹس وایا-یونائیٹڈ ڈیجیٹل پلیٹ فارم انٹیگریشن'' پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش سنگھاسن بتیسی کی سرزمین ہے، سمراٹ وکرمادتیہ کا تخت زمین میں دب کر بھی انصاف کرتا تھا۔ مدھیہ پردیش سی سی ٹی این ایس اور گونگے بہرے افراد کے لیے ایپلی کیشن شروع کرنے والی ایک جدید ریاست ہے۔ جبل پور سے فوجی ساز و سامان کی تیاری میں بھی مدھیہ پردیش پیش پیش ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن کا مطلب صرف اسکین کرنا نہیں ہے بلکہ کئی عمل کو یکجا (انٹیگریٹ) کرتے ہوئے نظام کو بااختیار بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش نے پورے ملک کی ہائی کورٹس کو عدالتی عمل کی مضبوطی کی راہ دکھائی ہے۔ تکنیکی انضمام سے عدالتی عمل میں تیزی آئے گی۔ ان تمام اختراعات کے لیے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ مبارکباد کی مستحق ہے۔ ان سے شہریوں میں انصاف کے تئیں اعتماد بڑھے گا۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ٹیکنالوجی کے ساتھ انصاف تک رسائی کا راستہ آسان بنایا ہے۔ اب ٹیکنالوجی صرف ایک سہولت نہیں بلکہ انصاف کا داخلہ راستہ ہے۔

پروگرام کا آغاز ہندوستان کے چیف جسٹس، جسٹس سوریا کانت کی صدارت اور مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی موجودگی میں وندے ماترم اور جن گن من کے ساتھ ہوا۔ گلدستے اور یادگاری نشانات پیش کر کے مہمانوں کا استقبال کیا گیا۔

اس موقع پر ہائی کورٹ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی لانچنگ کی گئی۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے لائیو ویڈیو اسٹریمنگ کے لیے اپنا نیا ''کلاس'' (کورٹ روم لائیو آڈیو-ویژول اسٹریمنگ سسٹم) لانچ کیا۔ یہ ایک او ٹی ٹی اسٹائل میں تیار کردہ ڈیجیٹل سسٹم ہے، جس سے تھرڈ پارٹی سسٹم پر انحصار ختم ہوگا اور لائیو اسٹریمنگ کا پورا کنٹرول ہائی کورٹ اتھارٹی کے پاس رہے گا۔

پروگرام میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا نیا پورٹل بھی لانچ کیا گیا۔ یہاں ججوں، وکلاء اور فریادیوں کے لیے عدالت کے احکامات، ضمانت کی درخواستوں سمیت دیگر ضروری دستاویزات آسانی سے دستیاب ہوں گے۔ یہ مستقبل کے لیے تیار عدالتی نظام کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ڈیجیٹل ڈیٹا مینجمنٹ سسٹم ''پرتھم'' بھی لانچ کیا ہے۔ یہ سسٹم آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے لیس ہے۔ یہ شفافیت اور طریقہ کار کو سادہ بنانے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس موقع پر ہائی کورٹ کے ڈیجیٹل انقلاب کے تحت ''کاپیئنگ آٹومیشن اینڈ جوڈیشل انفارمیشن ڈس ایمینیشن سسٹم'' کا آغاز بھی کیا گیا۔ اس سے فریادیوں، وکلاء اور ججوں کو آسانی سے عدالتی احکامات کی تصدیق شدہ کاپیاں مل سکیں گی۔ اس کے ساتھ ہی قیدیوں کی رہائی کے لیے آن لائن کرمنل جسٹس سسٹم کا آغاز کیا گیا۔

اس موقع پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی سالانہ رپورٹ 2025 کا اجرا کیا گیا۔ مدھیہ پردیش پولیس کے تعاون سے وارڈ سطح پر قائم ''سنکیت سمادھان'' ثالثی مراکز کا افتتاح کیا گیا۔ سی جے آئی نے گونگے اور بہرے شہریوں کی مدد کے لیے موبائل ایپلی کیشن ''سنکیت وانی'' بھی لانچ کی۔ مدھیہ پردیش جوڈیشل اکیڈمی کے تیار کردہ ''جیوتی جرنل 2.0'' سافٹ ویئر کی لانچنگ بھی کی گئی۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ عدالتی نظام کے ڈیجیٹل طور پر بااختیار ہونے سے طریقہ کار شفاف ہوگا، جس کا براہِ راست نتیجہ عام شہری کو فوری انصاف ملنے کی صورت میں سامنے آئے گا۔ ٹیکنالوجی کا یہ تال میل ہمارے عدالتی نظام کو مزید قابلِ بھروسہ بنائے گا۔ موجودہ دور ٹیکنالوجی اور جدت کا ہے۔ سائنس نے ہماری زندگی کو آسان بنانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ جب زندگی کے ہر شعبے میں تبدیلی آ رہی ہے، تب ہمارے عدالتی نظام کا بھی ڈیجیٹل طور پر فعال ہونا بیحد ضروری ہے۔ ''فریگمنٹیشن آف فیوژن: ایمپاورنگ جسٹس وایا یونائیٹڈ ڈیجیٹل پلیٹ فارم انٹیگریشن'' پروگرام عدالتی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے، عدالتی عمل کو رفتار فراہم کرنے اور پورے نظام کو عوام دوست بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم کاغذی فائلوں کے طویل عمل اور پیچیدگی کو ختم کر کے فائلوں کے فوری تصفیہ اور بہتر انتظام کی راہ ہموار کرے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مدھیہ پردیش گڈ گورننس (سُشاسن) کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ریاستی حکومت نے ٹیکنالوجی کو گڈ گورننس کے بنیادی اصول کے ساتھ جوڑا ہے۔ ریاست میں سائبر تحصیلیں قائم ہو چکی ہیں۔ پیپر لیس عمل کی طرف بڑھتے ہوئے کابینہ کی کارروائی ڈیجیٹل کی جا چکی ہے۔ ریاست میں سی ایم ہیلپ لائن شہریوں کے مسائل کا فوری حل یقینی بنا رہی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانے کی سمت میں ریاستی حکومت مسلسل کام کر رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے دیوی اہلیہ بائی ہولکر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے محدود وسائل میں بہترین نظام قائم کیا اور ملک کے اہم مذہبی مقامات پر فلاحی سرگرمیاں بھی چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپنی اختراعات کے ذریعے نظام کو آسان بنایا ہے۔ ریاست میں گونگے بہروں کے لیے موبائل ایپلی کیشن سے انصاف، فائلوں کا فوری تصفیہ اور عدالتی احکامات کی ڈیجیٹل سرٹیفیکیشن ان اختراعات کی مثالیں ہیں۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں انصاف کا عمل سمراٹ وکرمادتیہ اور بیتال کے قصوں سے جڑتا ہے۔ سمراٹ وکرمادتیہ کا گڈ گورننس اور شفاف عدالتی نظام آج بھی ہمارے لیے مثال ہے۔ انہوں نے ہندوستانی روایات کے ذریعے قدیم ہندوستان کے مالامال عدالتی نظام پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سمراٹ وکرمادتیہ نے ہمیشہ شہریوں کے لیے انصاف پر مبنی طرزِ حکومت چلایا۔ ہندوستانی طرزِ زندگی سے وراثت میں ملنے والی انصاف کی یہ قدریں ہماری روزمرہ کی زندگی میں رچی بسی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu