
نئی دہلی،16مئی (ہ س)۔تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی، مہارتوں کے پیچیدہ تقاضے اور مسابقتی ماحول میں تنظیمی جدّتیں اس بات کی بڑھتی ہوئی عکاسی کرتی ہیں کہ معیشت میں علم کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں یہ ضروری ہو گیا ہے کہ معیشت میں علم کے کردار اور اس کے حصے کا جائزہ لیا جائے اور ایسی پالیسی تجاویز پیش کی جائیں جو اس کے بدلتے ہوئے رجحانات کو مو¿ثر انداز میں ظاہر کر سکیں۔اسی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے شماریات و پروگرام عمل درآمد کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) ہندوستانی معیشت میں علم اور علمی مصنوعات کے حصے کی پیمائش کے لیے ایک جامع خاکہ کار تیار کرنے کی مشق کر رہی ہے۔ چونکہ اس نوعیت کی کوئی قابلِ موازنہ مثال موجود نہیں ہے، اس لیے یہ اقدام اپنی نوعیت کا ایک نیا اور منفرد قدم ہے، جس کے لیے ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں کی شمولیت ناگزیر ہے۔
فروری 2025 میں حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے کمار سود کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس کی سفارشات کی بنیاد پر اس مقصد کے لیے ایک تکنیکی مشاورتی گروپ (ٹی اے جی) تشکیل دیا گیا۔ اس گروپ کی صدارت ڈاکٹر آر بالاسبرامانیم نے کی، جو ا ±س وقت صلاحیت سازی کمیشن کے رکن تھے۔ اس گروپ میں تھنک ٹینکس، صنعتی اداروں، جامعات اور مرکزی حکومت کی وزارتوں کے نمائندے شامل تھے۔ستمبر 2025 میں ایک فکری و مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں علمی مصنوعات کی درجہ بندی تیار کرنے اور مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) میں ان کے حصے کی پیمائش کے لیے ممکنہ مقداری اشاریوں اور اعداد و شمار کے ذرائع کی نشاندہی پر غور کیا گیا۔تکنیکی مشاورتی گروپ کی سفارشات، مشاورتی نشست میں پیش کی گئی تجاویز اور مختلف ماہرین کے ساتھ بعد ازاں ہونے والی تفصیلی گفتگو کی بنیاد پر، وزارت نے "ہندوستانی معیشت میں علم اور علمی مصنوعات کے حصے کی پیمائش کے خاکہ کار" کے عنوان سے ایک بنیادی دستاویز تیار کی ہے۔
پہلا باب علم کی مختلف جہات، اس کی تخلیق، اس کی حرکیات اور معیشت پر اس کے اثرات سے متعلق حالیہ مباحث پر تصوری گفتگو پیش کرتا ہے۔دوسرا باب تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی)، دانشورانہ املاک کے حقوق، ڈیجیٹل معیشت اور علمی پیداوار کے جائزے کے لیے دستیاب طریقہ ہائے کار کو بیان کرتا ہے اور علم کے ان اجزاءکی قدر متعین کرنے کے لیے چند پیمانے بھی پیش کرتا ہے۔تیسرا باب ہندوستانی معیشت میں روایتی علم کے پھیلاو ¿ اور مختلف سرگرمیوں میں اس کے کردار کا جائزہ لیتا ہے۔ اس میں روایتی علم کے تحفظ، دستاویزی اندراج اور درجہ بندی سے متعلق مطالعات اور اقدامات کا مطالعہ کیا گیا ہے، نیز اس سے متعلق پیمانے بھی پیش کیے گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

