
دی ہیگ، 17 مئی (ہ س)۔ ہندوستان اور نیدرلینڈز نے اپنے دو طرفہ تعلقات کو ''تزویراتی شراکت داری'' (اسٹریٹجک پارٹنرشپ) کے طور پر اپ گریڈ کیا ہے۔ نیدرلینڈز کے وزیراعظم روب جیٹن اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ہیگ میں ہوئی دو طرفہ گفتگو کے بعد تزویراتی شراکت داری روڈ میپ (2030-2026) پر مہر لگی۔ اس کا مقصد تجارت، تکنیکی اور سلامتی کے تعاون کو مضبوط کرنا ہے۔ اس تاریخی مشترکہ اعلامیہ میں کئی اہم شعبوں پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔
ہندوستان اور نیدرلینڈز کے درمیان پیشہ ور افراد اور طلبہ کی سہل آمد و رفت کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم ہجرت (مائگریشن) معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
دھولیرا میں سیمی کنڈکٹر فیب کی ترقی کے لیے ٹاٹا الیکٹرانکس اور اے ایس ایم ایل کے درمیان شراکت داری ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی کریٹیکل منرلز (اہم معدنیات) کے تبادلے کے لیے وزارتِ معدنیات نے بھی معاہدہ کیا ہے۔
ہندوستان اور نیدرلینڈز نے ''سبز ہائیڈروجن کی ترقی کے لیے ہندوستان-نیدرلینڈز روڈ میپ'' لانچ کیا۔ یہ قابلِ تجدید توانائی کی منتقلی میں تعاون کو رفتار دے گا۔
نیدرلینڈز نے چول خاندان کے تاریخی تانبے کے پتر (کتبے) ہندوستان کو واپس سونپے۔ اس کے ساتھ ہی سمندری وراثت کے تحفظ کے لیے لوتھل (گجرات) میں واقع نیشنل میری ٹائم ہیریٹیج کمپلیکس سے متعلق معاہدہ بھی ہوا۔
وزیراعظم مودی کا دورۂ نیدرلینڈز ہندوستان کے لیے کئی معنوں میں اہم ثابت ہوا۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ نیدرلینڈز ہندوستان کے سرفہرست پانچ سرمایہ کاروں میں شامل ہے اور دونوں ملکوں کے رشتے گزشتہ 10 سال میں تیزی سے مضبوط ہوئے ہیں۔
وزیراعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے کی سمت میں ہو رہی پیش رفت سے دونوں ملکوں کے رشتوں کو مزید مضبوطی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور نیدرلینڈز مل کر اختراع، ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی کے شعبے میں نئے امکانات پیدا کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم مودی کے دورۂ نیدرلینڈز کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان 17 بڑے معاہدے ہوئے۔ ان کا اثر صرف تجارت تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ ٹیکنالوجی، تعلیم، توانائی، زراعت، صحت، ڈیری، آبی بندوبست اور ثقافتی وراثت جیسے شعبوں میں بھی بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔ دونوں ملکوں نے کہا کہ یہ فیصلے آنے والے وقت میں ترقی، روزگار، سرمایہ کاری اور عالمی تعاون کو نئی سمت دیں گے۔ اس سے ہندوستان کو نئی ٹیکنالوجی، روزگار اور عالمی مارکیٹ تک رسائی ملے گی۔ دفاع، سائبر سیکیورٹی اور سپلائی چین پر بھی دونوں ملک مل کر کام کریں گے۔
ہندوستان اور نیدرلینڈز کے درمیان ویزہ کا عمل آسان بنانے پر اتفاق ہوا۔ اس سے بھارتی طلبہ، پروفیشنلز اور کارکنوں کو پڑھائی اور نوکری کے بہتر مواقع ملیں گے۔ انٹرنشپ اور طویل مدتی ویزہ میں بھی سہولت ملے گی۔
نالندہ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف گروننگن کے درمیان شراکت داری بھی ہوئی ہے۔ دونوں ملکوں کی یونیورسٹیاں اب مشترکہ تحقیق اور ڈگری پروگرام چلا سکیں گی۔ بھارتی طلبہ اور اساتذہ کو ڈچ یونیورسٹیوں میں پڑھائی اور تحقیق کے نئے مواقع ملیں گے۔
کریٹیکل منرلز میں تعاون پر ہوئے معاہدے سے الیکٹرک وہیکل، بیٹری اور ہائی ٹیک صنعتوں کے لیے ضروری معدنیات کی سپلائی مضبوط ہوگی۔ اس سے ہندوستان کی صنعتی طاقت بڑھے گی۔ یہی نہیں، ہندوستان اور نیدرلینڈز سبز ہائیڈروجن کی پیداوار اور برآمد میں مل کر کام کریں گے۔ اس سے صاف توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور روزگار بڑھیں گے۔ ہندوستان یورپ کی گرین انرجی مارکیٹ میں مضبوط جگہ بنا سکے گا۔ دونوں ملک شمسی اور بادی توانائی کے منصوبوں میں ٹیکنالوجی اور مہارت کا تبادلہ کریں گے۔
ہندوستان کے نیتی آیوگ کے تعاون سے توانائی کی سلامتی، سبز توانائی اور نئی ٹیکنالوجی پر مشترکہ منصوبے چلائے جائیں گے۔ اس سے سرمایہ کاری اور صنعتوں کو فائدہ پہنچے گا۔ نیدرلینڈز ہندوستان کے گجرات کے بڑے آبی منصوبے میں تکنیکی مدد دے گا۔ اس سے پینے کے پانی، آبپاشی اور صنعتوں کے لیے پانی کی دستیابی بڑھ سکتی ہے۔
فلاور سینٹر آف ایکسی لینس، تریپورہ میں نیدرلینڈز تعاون کرے گا۔ اس سے پھولوں کی کھیتی کو جدید ٹیکنالوجی ملے گی۔ اس سے کسانوں کی آمدنی بڑھے گی اور برآمدات کو فروغ ملے گا۔ بنگلورو میں انڈو-ڈچ ڈیری سینٹر کی مدد کرنے کا بھی نیدرلینڈز نے وعدہ کیا ہے۔ اس سے ڈیری کسانوں اور مویشی پروری کے شعبے کو نئی ٹیکنالوجی اور تربیت ملے گی۔ اس سے دودھ کی پیداوار اور معیار میں بہتری آئے گی۔ یہی نہیں ہندوستانی مویشی پروری کے شعبے کو بہتر صحت کے نظام، بیماریوں کے کنٹرول اور اسکل ٹریننگ کا فائدہ ملے گا۔
دونوں ملک صحت کے شعبے میں تعاون کریں گے۔ اعلامیہ میں عوامی صحت، طبی تحقیق اور سائنسی معلومات کے تبادلے پر زور دیا گیا ہے۔ مستقبل کے صحت کے چیلنجوں سے نمٹنے میں یہ تعاون مدد کرے گا۔
تجارت اور درآمد و برآمد کے عمل کو محفوظ اور شفاف بنانے کے لیے اہم معاہدہ ہوا ہے۔ اس سے کاروباریوں کو راحت ملے گی۔ دونوں ملکوں نے سرمایہ کاری، سبز ترقی، غذائی تحفظ، آبی بندوبست اور عوامی صحت جیسے شعبوں میں طویل مدتی شراکت داری بڑھانے پر اتفاق کیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ ہندوستان اور نیدرلینڈز دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر ایک مضبوط اور مشترکہ موقف رکھتے ہیں۔ دونوں ملک دہشت گردی کی کسی بھی شکل کی حمایت نہ کرنے، اس کی مالی اعانت (فنڈنگ) کو روکنے اور دہشت گردی سے نمٹنے میں کسی بھی قسم کے ''دوہرے معیار'' کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ ہندوستان اور نیدرلینڈز نے تمام ملکوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کریں اور دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کی مالی اعانت کے ذرائع کو درہم برہم کریں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن

