
بہرائچ، 17 مئی (ہ س)۔ اتر پردیش کے ضلع بہرائچ سے ایک نہایت دل دہلا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں کوتوالی نانپارہ علاقے کے گرام پنچایت مہولی شیر خان میں ایک 5 سالہ معصوم بچے کی لاش پانی سے بھرے گڑھے میں ملنے سے پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، گاؤں کے رہنے والے راجو کا 5 سالہ بیٹا تاج الدین سنیچر کی دوپہر تقریباً 4 بجے گھر سے باہر کھیلنے نکلا تھا، لیکن کافی دیر تک واپس نہ آنے پر اہلِ خانہ پریشان ہو گئے۔ پوری رات گھر والوں اور گاؤں کے لوگوں نے بچے کی تلاش کی، مگر اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ آخرکار اہلِ خانہ نے کوتوالی پولیس کو اطلاع دی۔
لیکن اتوار کی صبح اس تلاش کا انجام انتہائی افسوسناک ثابت ہوا۔ صبح تقریباً 7 بجے گھر کے قریب ہی موجود 10 فٹ گہرے پانی کے گڑھے میں معصوم تاج الدین کے پیر دکھائی دئے۔ لاش ملتے ہی گھر میں کہرام مچ گیا۔
معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب بچے کے والد راجو نے اپنے ہی بیٹے کے قتل کا شبہ ظاہر کیا۔ والد کا کہنا ہے کہ سنیچر کی رات انہوں نے خود اسی گڑھے میں بچے کو تلاش کیا تھا، لیکن اُس وقت وہاں کچھ نہیں تھا۔ ان کا الزام ہے کہ کسی نے ان کے بچے کو قتل کیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس فورس موقع پر پہنچ گئی اور لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ اس معاملے پر نانپارہ کوتوالی کے انچارج راجناتھ سنگھ نے بتایا کہ بچے کی لاش قریب کے گڑھے سے برآمد ہوئی ہے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے اور پولیس ہر پہلو کو مدِنظر رکھتے ہوئے معاملے کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے۔
معصوم تاج الدین کی موت ایک حادثہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی خوفناک سازش، اس کا پتہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور پولیس کی تحقیقات کے بعد ہی چل سکے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد

