Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے

ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے

واشنگٹن،17مئی (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک نئی دھمکی دیتے ہوئے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس کے ساتھ ایک تصویر بھی ہے جس پر لکھا ہے طوفان سے پہلے کی خاموشی اور اس میں سمندر میں ایرانی جہاز دکھائے گئے ہیں۔علاوہ ازیں فرانسیسی چینل بی ایف ایم سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ہے کہ آیا ایران کوئی معاہدہ کرے گا یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ ایسا کر لے تاکہ اسے بہت برے وقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ٹرمپ نے گذشتہ روز تہران کو سخت لہجے میں خبردار کیا۔ انہوں نے واشنگٹن کے 'صبر کے خاتمے' پر زور دیا اور ایک فیصلہ کن امریکی چینی اتفاقِ رائے کا انکشاف کیا جو تہران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کو مسترد کرتا ہے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کی شرط رکھتا ہے۔

دوسری جانب ایک اسرائیلی عہدے دار نے چینل 13 کو تصدیق کی ہے کہ اسرائیل میں ایران کے خلاف دوبارہ لڑائی شروع کرنے کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور اسرائیل میں امریکی موجودگی بلند ترین سطح پر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہونے کی صورت میں مقصد انہیں کمزور کرنا اور مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے... اور اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اسرائیل ایران میں گیس، بجلی، تیل کے بنیادی ڈھانچے اور اسٹریٹجک تنصیبات سمیت باقی ماندہ اہداف کو نشانہ بنائے گا۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی سرکاری ٹیلی ویڑن نے اعلان کیا ہے کہ یورپی ممالک تہران کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ آبنائے سے اپنے جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنا سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چین، جاپان اور پاکستان سمیت مشرقی ایشیائی ممالک کے جہازوں کے گزرنے کے بعد پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ساتھ مذاکرات شروع ہوئے، تاہم ان مذاکرات میں شامل یورپی ممالک کے ناموں کی وضاحت نہیں کی گئی۔

دوسری طرف امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام نے ایران پر عائد سمندری محاصرے کے اقدامات کے تحت 78 تجارتی جہازوں کا رخ موڑنے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی افواج نے تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے چار جہازوں کو روکا، جبکہ فوج کے ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی جہازوں کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ پیش رفت ایک جاری جنگ کے تناظر میں سامنے آئی ہے جو 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی تھی، جس کے جواب میں تہران نے ایسے اقدامات کیے جن میں زیادہ تر بحری ٹریفک کے لیے آبنائے ہرمز کی عملی بندش شامل تھی۔ اس کے نتیجے میں سپلائی چینز میں بڑے پیمانے پر رکاوٹ پیدا ہوئی اور تیل کی قیمتیں تقریباً 3 فی صد بڑھ کر 109 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئیں۔ٹرمپ نے بیان دیتے ہوئے کہا ہم نہیں چاہتے کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوں اور ہم چاہتے ہیں کہ آبنائے (ہرمز) کھلی رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ان کا ملک اضافی اقدامات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا، جو کہ پابندیوں اور سمندری محاصرے کے ساتھ ساتھ دباو ¿ کے ایک موجودہ آلے کے طور پر فوجی آپشن کے تسلسل کی طرف اشارہ ہے۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو کہا کہ تہران کو امریکہ سے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جو اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن بات چیت اور رابطے جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔تہران اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ اپنی جوہری تحقیق کو ختم کرنے یا افزودہ یورینیم کے اپنے ذخائر کو چھوڑنے سے انکار کرتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu