
نئی دہلی، 17 مئی (ہ س)۔ انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سکریٹری (مواصلات) جئے رام رمیش نے مرکزی حکومت کے گریٹ نکوبار جزیرہ منصوبے کے سلسلے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کو خط تحریر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو قومی سلامتی کے نام پر جائز قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اس کی موجودہ شکل سے بڑے پیمانے پر ماحولیاتی نقصان کا خدشہ ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ وہ اس سے قبل 10 مئی کو مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی اور 13 مئی کو مرکزی وزیر برائے قبائلی امور کو بھی خط لکھ چکے ہیں، جس میں انہوں نے منصوبے سے متعلق ماحولیاتی اور جنگلاتی حقوق کے قانون سے جڑے مسائل اٹھائے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور بھارت کی تزویراتی طاقت کو مؤثر انداز میں ظاہر کرنے کی ضرورت پر کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا، لیکن اس کے نام پر ایسا منصوبہ آگے بڑھانا مناسب نہیں جس سے وسیع ماحولیاتی تباہی ہو۔
خط میں جئے رام رمیش نے کہا کہ گریٹ نکوبار جزیرے کے کیمپبیل بے میں واقع آئی این ایس باز کو جولائی 2012 میں کمیشن کیا گیا تھا، لیکن موجودہ رن وے کی لمبائی کو تین گنا بڑھانے اور بحریہ کے لیے جیٹی تعمیر کرنے کے منصوبے گزشتہ تقریباً پانچ برسوں سے منظوری کے منتظر ہیں۔ ان منصوبوں کے ماحولیاتی اثرات بھی موجودہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ کے مقابلے میں کافی کم ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انڈمان و نکوبار کمانڈ کے کئی موجودہ فوجی اثاثوں کو بھی نسبتاً کم ماحولیاتی نقصان کے ساتھ وسعت دی جا سکتی ہے۔ ان میں آئی این ایس کاردیپ، آئی این ایس کوہاسا، آئی این ایس اتکروش، آئی این ایس جراوا اور کار نکوبار فضائیہ اسٹیشن شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گریٹ نکوبار منصوبے کے تحت مجوزہ ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ اور ٹاؤن شپ ملک کی فوجی صلاحیت میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کرتے، لیکن اب انہیں قومی سلامتی کی بنیاد پر درست قرار دیا جا رہا ہے۔
جئے رام رمیش نے کہا کہ گریٹ نکوبار منصوبہ اپنی موجودہ شکل میں ماحولیاتی تباہی کا نسخہ ہے۔ انہوں نے وزیرِ دفاع سے اپیل کی کہ وہ ان متبادل تجاویز پر سنجیدگی سے غور کریں، جن کا مشورہ بعض ممتاز بحری افسران نے بھی اپنے مضامین اور تجزیوں میں دیا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ مرکزی حکومت کے گریٹ نکوبار جزیرہ منصوبے میں ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ، ہوائی اڈہ، توانائی پلانٹ اور ٹاؤن شپ سمیت کئی بڑے بنیادی ڈھانچے کے ترقیاتی کام شامل ہیں۔ اس منصوبے پر ماہرینِ ماحولیات، سماجی تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مسلسل اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد

