Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ٹرمپ انتظامیہ کا ایران پر دباؤ بڑھانے کا عندیہ، محدود کارروائی یا پابندیوں کا امکان

ٹرمپ انتظامیہ کا ایران پر دباؤ بڑھانے کا عندیہ، محدود کارروائی یا پابندیوں کا امکان

واشنگٹن،17مئی (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین سے بظاہر ایران کے ساتھ جاری پسِ پردہ مذاکرات میں کسی بڑی پیش رفت کا امکان پیدا نہیں ہوا۔باخبر ذرائع کے مطابق اگرچہ چینی صدر شی جن پنگ نے سفارتی کوششوں کی حمایت اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی ضرورت پر زور دیا، تاہم ایران سے متعلق کسی عملی پیش رفت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔امریکی انتظامیہ کے متعدد اہلکاروں نے بتایا کہ وہ ٹرمپ اور شی کے درمیان بات چیت کے نتائج کے منتظر تھے تاکہ ایران کے بارے میں آئندہ حکمتِ عملی طے کی جا سکے۔

تاہم اب ان کے مطابق ٹرمپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا ایران کے خلاف مزید حملے مسئلے کے حل کے لیے بہتر آپشن ہیں یا نہیں، جیسا کہ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے رپورٹ کیا ہے۔باخبر ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ کے اندر ایران کے حوالے سے آگے بڑھنے کے طریقہ کار پر واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔کچھ اہلکار جن میں پینٹاگون کے بعض حکام بھی شامل ہیں، سخت رویے کے حامی ہیں اور ان کا مو ¿قف ہے کہ محدود حملوں کے ذریعے ایران پر دباو ¿ بڑھا کر اسے رعایتوں پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔اس کے برعکس دیگر حکام کا کہنا ہے کہ توجہ سفارت کاری پر ہی مرکوز رہنی چاہیے۔ خود ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ ہفتوں میں اسی مو ¿قف کی طرف مائل رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ براہ راست مذاکرات اور معاشی دباو ¿ ایران کو کسی معاہدے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔

تاہم ایران نے اپریل میں ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد اپنی شرائط میں زیادہ تبدیلی نہیں کی، جس سے امریکی صدر کی بے صبری میں اضافہ ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق ٹرمپ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش پر سخت ناراض ہیں، جبکہ ان کے نزدیک ایرانی قیادت کے اندرونی اختلافات نے مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ایران کے حالیہ ردعمل اور بعض ایرانی حکام کے بیانات کے بعد امریکی انتظامیہ کے کئی اہلکاروں کو شک ہے کہ تہران واقعی کسی معاہدے تک پہنچنے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔دوسری جانب وائٹ ہاو ¿س کی ترجمان آنا کیلی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں، تاہم ان کی ترجیح ہمیشہ سفارت کاری ہی رہتی ہے۔

دوسری جانب ایران نے اپنی فوجی تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایک ایرانی فوجی عہدیدار کے مطابق تہران نے اپنی تمام آپریشنل سطحوں کو ایک جامع منصوبے سے آگاہ کر دیا ہے، جس کے تحت جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں فوری ردعمل دیا جائے گا، جیسا کہ ایرانی خبر رساں ایجنسی ''نور نیوز'' نے رپورٹ کیا ہے۔

عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ کی جانب سے کوئی ''غلط حسابی فیصلہ ''کیا گیا تو اس کے جواب میں خطے میں موجود امریکی مفادات اور تنصیبات پر وسیع اور بیک وقت حملے کیے جا سکتے ہیں۔ان کے مطابق گزشتہ جنگ میں اہداف کے انتخاب پر جو پابندیاں تھیں، اب انہیں نرم کر دیا گیا ہے اور ممکنہ ردعمل کے دائرے میں ایسے مقامات بھی شامل ہیں جو پہلے ہدف نہیں تھے۔ادھر امریکی صدر نے آج اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک نیا انتباہ جاری کیا اور طوفان سے پہلے کی خاموشی کے الفاظ لکھے، ساتھ ہی سمندر میں ایرانی کشتیوں کی تصویر بھی شیئر کی۔ٹرمپ نے پہلے بھی کہا تھا کہ ایران کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ معاہدہ کر لے، ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب پاکستان جو کئی ماہ سے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔اسلام آباد نے گزشتہ روز اپنے وزیر داخلہ کو تہران بھیجا۔ باخبر پاکستانی ذرائع کے مطابق پاکستان دونوں فریقوں کو مذاکرات میں لچک دکھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ثالثی کا عمل سنجیدگی سے جاری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu