
لکھنو ، 17 مئی (ہ س)۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کے بعد، لکھنو¿ میونسپل کارپوریشن نے اتوار کو ڈسٹرکٹ کورٹ اور کلکٹریٹ کے قریب تقریبا 240 غیر قانونی چیمبروں اور دکانوں کو بلڈوز کرنا شروع کیا۔ لکھنو¿ میونسپل کارپوریشن کی ایک ٹیم پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچی اور ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل میں انہدام کی کارروائی شروع کی۔کارروائی شروع ہوتے ہی وکلا کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہوگئی اور احتجاج اور نعرے بازی شروع کردی۔ اس دوران وکلا اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ پولیس نے ہجوم کو کنٹرول کیا اور وکلاءاور دکانداروں کو ہٹا دیا۔ فی الحال جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری اور انتظامی اہلکار تعینات ہیں۔پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وکلاءنے چیمبرز بنانے کے لیے سڑکوں، فٹ پاتھوں اور نالیوں پر تجاوزات کر رکھی تھیں۔
فوٹو کاپی کی دکانیں کھل چکی تھیں۔ عدالت نے ناجائز تجاوزات گرانے کا حکم دے دیا۔ اس کے بعد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا۔ کچھ لوگوں نے اپنے طور پر تجاوزات کو ہٹایا لیکن بڑی تعداد میں تجاوزات برقرار رہیں جس کے باعث یہ کارروائی عمل میں آئی۔وکیل جیوتسنا سنگھ کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ نے 72 چیمبرز کو گرانے کا حکم دیا تھا لیکن جن چیمبروں کو گرانے کا حکم دیا گیا تھا ان پر بلڈوزر استعمال نہیں کیے گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
اس دوران لکھنو ¿ کے ڈی سی پی (مغربی) کملیش دکشت نے کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم کے تحت غیر قانونی تعمیرات کو ہٹایا جا رہا ہے اور صورتحال قابو میں ہے۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ کارروائی ضابطے کے مطابق کی جا رہی ہے اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب پولیس فورس موقع پر موجود ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

