
واشنگٹن،17مئی (ہ س)۔حالیہ برسوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں امریکی پالیسی میں تیزی سے تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں کیونکہ اسرائیل کی حمایت پر بحث اب صرف ڈیموکریٹک پارٹی تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکی نیوز ویب سائٹ پولیٹیکو کی جانب سے سامنے لائے گئے حالیہ رائے عامہ کے سروے کے نتائج اور سیاسی تجزیوں کے مطابق یہ بحث ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی واضح طور پر ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہے۔
اسرائیل ہمیشہ سے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک متنازع مسئلہ رہا ہے جہاں کچھ ڈیموکریٹس نے غزہ کے بارے میں سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی پالیسی کو 2024 کے انتخابات میں وائٹ ہاو ¿س ہارنے کی ذمہ داری کا حصہ ٹھہرایا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نائب صدر کملا ہیریس کو ووٹ دینے والے 35 فیصد ووٹرز کا خیال ہے کہ غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کے آغاز میں اسرائیل کے پاس جائز وجوہات تھیں لیکن بعد میں وہ قابلِ قبول حد سے تجاوز کر گیا۔ 27 فیصد نے کہا کہ فوجی مہم شروع ہی سے جائز نہیں تھی جبکہ 28 فیصد نے اس معاملے پر کسی واضح رائے کا اظہار نہیں کیا۔
کملا ہیریس کے ووٹرز میں سے صرف 10 فیصد کا خیال ہے کہ اسرائیل کا جنگ جاری رکھنا اب بھی جائز ہے۔ یہ سروے ڈیموکریٹک بیس کے اندر ایک ایسی مہم کے لیے حمایت میں شدید کمی کی عکاسی کرتا ہے جسے پہلے بائیڈن انتظامیہ کی واضح تائید حاصل تھی۔سات اکتوبر کے حملے کے بعد ریپبلکن اسرائیل کے پیچھے مضبوطی سے متحد نظر آئے لیکن ایران کے ساتھ جنگ بڑھنے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیرونی مداخلتوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے ساتھ اسرائیل کے لیے حمایت پارٹی کے کچھ دھڑوں کے اندر متزلزل ہونے لگی ہے۔ خاص طور پر " امریکہ کو پھر سے عظیم بناو ¿ " (ما گا) کے نعرے سے الگ رہنے والوں اور نوجوان قدامت پسندوں کے درمیان تشویش بڑھی ہے۔پبلک فرسٹ آرگنائزیشن کے کرائے گئے ایک سروے سے پتہ چلا ہے کہ ٹرمپ کے سب سے زیادہ وفادار حامیوں کے مقابلے میں ماگا تحریک سے وابستہ نہ ہونے والے ریپبلکنز میں یہ ماننے کا رجحان 10 فیصد زیادہ ہے کہ اسرائیلی حکومت امریکی خارجہ پالیسی پر حد سے زیادہ اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ یہ اختلافات اس وقت عوامی سطح پر سامنے آئے جب ٹاکر کارلسن جیسے معروف قدامت پسند میڈیا پرسن، سابق نمائندہ مارجوری ٹیلر گرین اور سیاست دان سٹیو بینن جیسی ممتاز ریپبلکن شخصیات نے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان قریبی تعلقات کی نوعیت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ خاص طور پر ایران کے ساتھ تنازع کے پھیلنے کے بعد یہ تنقید زیادہ کی گئی۔دوسری طرف کانگریس میں زیادہ تر ریپبلکنز اور بین شاپیرو اور لورا لومر سمیت متعدد قدامت پسند بااثر افراد نے اسرائیل کی حمایت اور ٹرمپ کی پالیسیوں کا دفاع کرنے والے موقف کو برقرار رکھا ہے۔
تاہم بہت سے ماہرینِ تعلیم کا خیال ہے کہ امریکہ فرسٹ کا نعرہ ریپبلکن پارٹی کے اندر ایک بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جو بیرونی تنازعات سے پیچھے ہٹنے اور اندرونی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ سروے سے پتہ چلا ہے کہ 2024 کے انتخابات میں ٹرمپ کے 29 فیصد ووٹرز کا خیال ہے کہ صدر نے اندرونی مسائل کے بجائے بین الاقوامی امور پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کی۔ جہاں صرف 19 فیصد ماگا حامیوں نے اس تشویش کا اظہار کیا۔ یہ شرح " میک امیرکہ گریٹ اگین۔ ماگا " تحریک سے وابستہ نہ ہونے والے ریپبلکنز میں بڑھ کر 40 فیصد ہو گئی جو ریپبلکن اتحاد کے اندر ایک واضح سیاسی خلیج کو ظاہر کر رہی ہے۔یہ تقسیم صرف اسرائیل کے معاملے تک محدود نہیں ہے بلکہ تارکینِ وطن کی ملک بدری کی پالیسیوں، ایران کے ساتھ جنگ اور اقتصادی مسائل کے انتظام پر ریپبلکنز کے موقف میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔سروے کے نتائج اسرائیل کے بارے میں نظریات میں ریپبلکن پارٹی کے اندر ایک شدید عمر کے فرق کو ظاہر کرتے ہیں کیونکہ 35 سال سے کم عمر کے ٹرمپ کے 32 فیصد ووٹرز کا خیال ہے کہ امریکہ اسرائیلی حکومت کے بہت زیادہ قریب ہے۔ 55 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں یہ شرح صرف 11 فیصد ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا واشنگٹن کو اسرائیل سے دوری اختیار کرنی چاہیے تو 18 سے 34 سال کی عمر کے تقریباً نصف ریپبلکنز نے کہا کہ تعلقات کو زیادہ معتدل ہونا چاہیے۔ اس کے مقابلے میں بڑی عمر کے ووٹرز میں یہ شرح صرف 13 فیصد تھی۔کچھ ابھرتے ہوئے ریپبلکن سیاست دانوں کا خیال ہے کہ پارٹی اسرائیل کے بارے میں اپنے موقف پر ایک بڑی نظرِ ثانی کی طرف بڑھ رہی ہے جس کے اثرات آئندہ ابتدائی انتخابات میں ظاہر ہونا شروع ہو سکتے ہیں اور 2028 کی صدارتی دوڑ تک پھیل سکتے ہیں۔یہ تقسیم ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی اسی طرح کے ایک رجحان کی عکاسی کرتی ہے جہاں دونوں جماعتوں کے نوجوان ووٹرز اسرائیل پر زیادہ تنقید کرنے والے موقف اپنانے کی طرف مائل ہیں۔ اس کی وجہ ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور غزہ میں جاری انسانی بحران ہے۔
اسرائیل نواز لابی گروپس، جن میں سب سے نمایاں امریکن اسرائیلی پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) ہے، کا کردار دونوں جماعتوں کے اندر ایک اضافی تنازع کا نقطہ بن گیا ہے۔ جہاں اس تنظیم کو نیو جرسی اور الینوائے جیسی ریاستوں میں ڈیموکریٹک پرائمری انتخابات میں مداخلت کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، وہیں سروے کے نتائج ریپبلکنز کے اندر بھی اسی طرح کی تقسیم کے آغاز کی طرف اشارہ کرتے ہیں کیونکہ ماگا کے حامیوں نے تنظیم کی سیاسی مداخلتوں کے لیے 14 پوائنٹس کے فرق سے زیادہ حمایت دکھائی۔ " ماگا " تحریک سے وابستہ نہ ہونے والے ریپبلکنز اس کی انتخابی سرگرمیوں کی مخالفت کرنے کی طرف 11 پوائنٹس کے فرق سے زیادہ مائل تھے۔یہ منظر نامہ امریکی سیاست میں ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جہاں اسرائیل کا مسئلہ اب پارٹی اتحاد کا عنصر نہیں رہا جیسا کہ دہائیوں سے تھا بلکہ دونوں بڑی جماعتوں کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم کا محور بن گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan

