Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
مغربی بنگال میں سڑکوں کے پروجیکٹوں کو ملی رفتار، سات قومی شاہراہوں کو مرکز کے حوالے کرنے کی منظوری۔

مغربی بنگال میں سڑکوں کے پروجیکٹوں کو ملی رفتار، سات قومی شاہراہوں کو مرکز کے حوالے کرنے کی منظوری۔

کولکاتہ، 17 مئی (ہ س)۔

مغربی بنگال حکومت نے ریاست کے اندر قومی شاہراہوں کے سات اہم پروجیکٹوں کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) اور نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (این ایچ آئی ڈی سی ایل) کے حوالے کرنے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے سے سڑکوں کے ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے جو طویل عرصے سے تعطل کا شکار تھے۔

ہفتہ کی رات چیف سکریٹری کے دفتر سے جاری ایک پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ان راستوں پر ترقیاتی کام باضابطہ منتقلی نہ ہونے کی وجہ سے رک گئے تھے۔ اب جب کہ منظوری مل گئی ہے، مرکزی ایجنسیاں بغیر کسی تاخیر کے ان منصوبوں پر کام شروع کر سکیں گی۔

جن اہم راستوں کی ذمہ داری نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو سونپی گئی ہے ان میں نیشنل ہائی وے-312 کا 329.6 کلومیٹر طویل حصہ ہے۔ یہ راستہ جنگی پور، عمر پور، کرشن نگر، بونگاو¿ں، اور بشیرہاٹ سے ہوتا ہوا گھوجا ڈانگا میں ہندوستان-بنگلہ دیش سرحد تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، بہار-مغربی بنگال کی سرحد سے مالدہ کے گازول تک پھیلی ہوئی قومی شاہراہ 31 کے پروجیکٹ کے ساتھ ساتھ قومی شاہراہ 33 کے پروجیکٹ فرکہکو بھی اتھارٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اس دوران، چار دیگر اہم شاہراہ نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (این ایچ آئی ڈی سی ایل) کو سونپے گئے ہیں۔ ان میں نیشنل ہائی وے -10 شامل ہے، جو سیووک آرمی چھاونی سے کورونیشن پل تک اور کلمپونگ سے ہوتی ہوئی سکم سرحد تک جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہاسیمارا سے جے گاوں تک ہندوستان بھوٹان سرحدی سڑک کو جوڑتی ہے۔ساتھ ہی بارادیگھی سے میناگوڑی اور چنگراباندھا کے راستے بنگلہ دیش کی سرحد تک پھیلا ہوا راستہ اور سلی گوڑی، کرسیونگ اور دارجلنگ کو جوڑنے والا پہاڑی روڈ نیٹ ورک بھی کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں رہے گا۔

ریاستی حکومت کے مطابق، ان پروجیکٹوں کی تکمیل سے شمالی بنگال کے دوآرس کے علاقے، بہار-مغربی بنگال کے سرحدی علاقوں اور پڑوسی ممالک - بھوٹان اور بنگلہ دیش کے ساتھ رابطے کو نمایاں طور پر تقویت ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، مالدہ اور مرشد آباد کے راستے بہار کو جوڑنے والا ٹرانسپورٹ نیٹ ورک بھی ہموار اور زیادہ موثر ثابت ہوگا۔

ایک حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ، اس فیصلے کے بعد، تمام سات پروجیکٹوں میں ترقیاتی کام تیز رفتاری سے آگے بڑھ سکتے ہیں، اس طرح ریاست کے اندر قومی سطح کے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں میں نئی رفتار پیدا ہوگی۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu