سرینگر 17 مئ( ہ س)سابق خاتون وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے تجارت اور نوجوانوں کے لیے مواقع بڑھانے کے لیے جموں و کشمیر کو پاکستان، چین، ایران اور وسطی ایشیا سے ملانے والے راستوں کو دوبارہ کھولنے پر زور دیا۔ تفصیلات کے مطابق سرینگر میں اس نے مرکز سے جموں و کشمیر کے پاور پروجیکٹس کو بحال کرنے اور پبلک سیفٹی ایکٹ کو منسوخ کرنے پر بھی زور دیا، یہ کہتے ہوئے کہ حکومت میں بیٹھے لوگ خود دعوی کرتے ہیں کہ صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ محبوبہ مفتی نے اعتماد سازی کے پہلے اقدام کے طور پر عید سے قبل قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حریت اور پاکستان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بڑی کوئی تعلیم نہیں ہے جو لوگوں کو سننے اور ہمارے نچلی سطح سے جڑنے سے حاصل ہوتی ہے۔ آپ میں سے بہت سے لوگوں کو پارٹی کے جلسے میں دیکھ کر خوشی ہوئی۔ سری نگر کے شیرِ کشمیر پارک میں پی ڈی پی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے عید سے قبل کشمیری قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا، اسے امن کے لیے بڑی اعتماد پیدا کرنے کا پہلا حقیقی اقدام قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ بات چیت، روایتی تجارتی راستوں کو دوبارہ کھولنے اور مقامی وسائل کی بحالی کی وکالت کی۔ مفتی نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ عید سے قبل سیاسی قیدیوں اور نظربندوں کو رہا کرے تاکہ خطے میں مفاہمت کو فروغ دیا جا سکے اور تناؤ کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے آر ایس ایس کی قیادت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے حق میں حالیہ ریمارکس کا خیرمقدم کیا، اور کہا کہ اس سے ان کی پارٹی کے دیرینہ موقف کی توثیق ہوئی ہے۔ علاقائی رابطوں کو بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے، انہوں نے پاکستان، چین، ایران اور وسطی ایشیا کے راستے دوبارہ کھولنے کی وکالت کی، جبکہ مرکز سے جموں و کشمیر کے پاور پروجیکٹس پر کنٹرول بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ جب کشمیر میں سال2016 میں پتھراؤ چل رہا تھا تب وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک وفد کو حریت کے ساتھ بات چیت کےلۓ سرینگر بھیجا تھا لیکن بدقسمتی سے انہوں نے اس وقت دروازے بند کر دۓ ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہماری بھی بہت ساری غلطیاں تھی جو ہم نے اس طرح کے مواقع گنوائے ہیں۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir
