
نئی دہلی، 17 مئی (ہ س)۔
وزارت ریلوے نے ترواننت پورم-حضرت نظام الدین راجدھانی ایکسپریس میں آگ لگنے کے واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزارت کے مطابق، تحقیقات میں آگ لگنے کی وجوہات، حفاظتی معیارات اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔
یہ واقعہ اتوار کی صبح مدھیہ پردیش کے کوٹہ ریلوے ڈویژن میں لونی رچا اور وکرم گڑھ الوٹ اسٹیشنوں کے درمیان پیش آیا۔ راجدھانی ایکسپریس نمبر 12431 کی بی ون کوچ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ابتدائی معلومات کے مطابق متاثرہ کوچ ایس ایل آر کوچ کے قریب تھی۔
مبینہ طور پر تقریباً 5:15 بجے کوچ سے دھواں اور آگ کے شعلے اٹھتے دیکھے گئے۔ اطلاع ملنے پر ٹرین کو فوری طور پر روک دیا گیا اور مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔بی-1 کوچ میں تقریباً 68 مسافر سوار تھے۔
ریلوے ملازمین اور ٹرین کے عملے کی بروقت کارروائی سے تمام مسافروں کو تقریباً 15 منٹ میں باہر نکال لیا گیا۔ واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ تاہم آگ لگنے سے کوچ کو مکمل نقصان پہنچا۔
واقعے کے بعد امدادی اور راحت ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ احتیاط کے طور پر، دہلی-ممبئی ریلوے روٹ پر ٹرین آپریشن کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔ متاثرہ کوچ ٹرین سے الگ ہوگئی اور بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی۔
وزارت ریلوے نے کہا کہ سینئر حکام تکنیکی اور آپریشنل پہلوو ¿ں کی چھان بین کریں گے۔ راجدھانی ایکسپریس اتوار کی صبح رتلام جنکشن سے روانہ ہوئی تھی اور یہ واقعہ کوٹہ پہنچنے سے پہلے پیش آیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ

