Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ناگپور میٹرو بنی چلتا پھرتا پاور ہاؤس ، ٹریک پر شمسی توانائی پیدا کرنے والی ملک کی پہلی میٹرو

ناگپور میٹرو بنی چلتا پھرتا پاور ہاؤس ، ٹریک پر شمسی توانائی پیدا کرنے والی ملک کی پہلی میٹرو

ناگپور، 17 مئی (ہ س) ۔ مہاراشٹر میٹرو ریل کارپوریشن یعنی ناگپور میٹرو نے ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں ایک منفرد قدم اٹھاتے ہوئے میٹرو کو ''چلتا پھرتا پاور ہاؤس'' میں تبدیل کر دیا ہے۔ میٹرو ٹریک کے درمیان خالی جگہ اور ستونوں پر شمسی پینل نصب کر کے بجلی پیدا کرنے والی ناگپور میٹرو مہاراشٹر کی پہلی میٹرو سروس بن گئی ہے۔ناگپور میٹرو کے سینئر نائب جنرل منیجر برائے کارپوریٹ مواصلات اکھلیش ہلوے کے مطابق اس منصوبے سے ماحولیات کے تحفظ کو نمایاں فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے بتایا کہ صرف 50 کلو واٹ پیک صلاحیت والے شمسی منصوبے کے ذریعے ہر سال تقریباً 64 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئے گی، جو تقریباً 2961 مکمل نشوونما یافتہ درختوں کے برابر سمجھی جا رہی ہے۔بھارت کے دیگر میٹرو منصوبوں میں عموماً اسٹیشنوں کی چھتوں پر شمسی پینل نصب کیے جاتے ہیں، لیکن ریلوے ٹریک کے درمیان کی جگہ کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے والی ناگپور میٹرو ملک کا پہلا منصوبہ بن گئی ہے۔ اگرچہ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن نے اپنے اسٹیشنوں اور ڈپو پر شمسی توانائی کے منصوبے قائم کیے ہیں، تاہم ''ٹریک ماونٹڈ سولر سسٹم'' کو کامیابی سے نافذ کرنے میں ناگپور نے سبقت حاصل کی ہے۔ میٹرو انتظامیہ کے دعوے کے مطابق ٹریک کے درمیان شمسی پینل نصب کر کے میٹرو چلانے والا یہ دنیا کا پہلا نظام ہے۔اس منصوبے کو ''انڈو جرمن سولر تعاون'' کے تحت جرمنی سے تقریباً 200 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے، جس کے باعث ناگپور میٹرو کو اپنی جانب سے کوئی سرمایہ خرچ نہیں کرنا پڑا۔ اسی وجہ سے اس منصوبے کو ''زیرو انویسٹمنٹ ماڈل'' کے طور پر بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ میٹرو انتظامیہ نے اپنی مجموعی بجلی ضرورت کا 50 سے 65 فیصد حصہ شمسی توانائی سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ کھاپری، نیو ایئرپورٹ اور ایئرپورٹ ساؤتھ میٹرو اسٹیشنوں پر پیدا ہونے والی اضافی بجلی مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ یعنی مہاوترن کو فراہم کی جا رہی ہے، جس سے میٹرو کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔اس منصوبے کے باعث میٹرو کے آپریشنل اخراجات میں کمی آئے گی، جس کا براہِ راست فائدہ مسافروں کو ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ مستقبل میں کرایوں میں اضافے کو محدود رکھنے میں بھی یہ منصوبہ مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ''آتم نربھر بھارت'' اور ''پائیدار ترقی'' کے تصور کو مضبوط کرنے والا یہ منصوبہ بھارتی انجینئرنگ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا بہترین نمونہ قرار دیا جا رہا ہے۔ناگپور میٹرو کے اس کامیاب تجربے کے بعد اب پونے میٹرو میں بھی ٹریک پر شمسی پینل نصب کرنے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ ناگپور کا یہ ''گرین میٹرو'' ماڈل اب ملک کے دیگر شہروں کے لیے بھی پائیدار ترقی کی نئی مثال بنتا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت سالانہ تقریباً 70 ہزار یونٹ بجلی پیدا کی جائے گی، جبکہ منصوبے کی صلاحیت 50 کلو واٹ پیک رکھی گئی ہے۔ ایک کروڑ روپے کی متوقع لاگت والے اس منصوبے کی سرمایہ واپسی مدت چار سال بتائی گئی ہے۔ منصوبے کی دیکھ بھال ماہ میں دو مرتبہ کی جائے گی، جبکہ اس کے ذریعے ہر سال 64 ٹن کاربن اخراج میں کمی متوقع ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu