
ملک کے چیف جسٹس، جسٹس سوریا کانت نے ریاست کی پہل کو سراہا
ڈیجیٹل بااختیاری سے حکومتی طریقۂ کار کو مزید شفاف بنانے میں مدد ملے گی
بھوپال، 17 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی ہدایت پر ریاست میں پیپر لیس کام کاج کے کلچر کو مسلسل فروغ دیا جا رہا ہے۔ شہریوں کے لیے ''ایم پی ای-سیوا پورٹل'' اور موبائل ایپ پر حکومت کے 56 محکموں کی 1700 خدمات ایک ہی پورٹل پر دستیاب ہیں۔ ریاست میں سائبر تحصیلیں قائم ہو چکی ہیں اور اس اختراع کو وزیراعظم ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ بھوپال میں ملک کے پہلے سائبر رجسٹریشن آفس کا آغاز کیا گیا ہے، جبکہ ریاست میں ''ای-زیرو ایف آئی آر'' کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ کابینہ کی کارروائی مکمل طور پر پیپر لیس ہو چکی ہے، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوئی ہے بلکہ انتظامی شفافیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ریاست میں گڈ گورننس کے ساتھ ساتھ ''گرین گورننس'' کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ ان اقدامات سے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں اور عام آدمی سے وابستہ خدمات تک رسائی کو آسان، سادہ اور باسہولت بنایا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس سوریا کانت نے جبل پور کے ایک پروگرام میں ریاست میں پیپر لیس طریقۂ کار کی حوصلہ افزائی کے لیے جاری سرگرمیوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش مکمل طور پر پیپر لیس بننے کی سمت میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے، جس سے ماحولیات کو بھی تقویت ملے گی۔
وزیراعظم مودی کے گڈ گورننس کے منتر کو اپناتے ہوئے ''کم سے کم حکومت - زیادہ سے زیادہ حکمرانی'' کے اصول کے ساتھ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو ریاست میں گڈ گورننس کے نئے ابعاد قائم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے دفاتر میں فائلوں کی نگرانی، بروقت تصفیہ اور جوابدہی یقینی بنائی گئی ہے۔ اس سے بدعنوانی میں کمی، شفافیت میں اضافہ اور انتظامی عمل میں تیزی آئی ہے۔ لوک سیوا کیندروں کے ذریعے شہریوں کو مقررہ وقت میں خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ سی ایم ہیلپ لائن شہریوں کے مسائل کا فوری حل یقینی بنا رہی ہے۔ ''سمپدا 2.0'' سافٹ ویئر سسٹم کے ذریعے ریاست میں رجسٹری کی سہولت اب لوگوں کے لیے آسان ہو گئی ہے اور شہری اب گھر بیٹھے دستاویزات کی رجسٹریشن کروا رہے ہیں۔ وارنٹ اور سمن کی تعمیل کے لیے ای-ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے، اور مدھیہ پردیش ایسا کرنے والی ملک کی پہلی ریاست ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کا ماننا ہے کہ شفافیت اور جوابدہی، گڈ گورننس کے دو مضبوط ستون ہیں اور ایک دوسرے کے ضمیمہ بھی۔ شفافیت سے جوابدہی مضبوط ہوتی ہے اور جوابدہی خود شفافیت کا باعث بنتی ہے۔ وزیراعظم مودی کی قیادت میں ڈیجیٹل انقلاب نے ملک میں سروس ڈیلیوری اور نظام کی جوابدہی کو مضبوطی دی ہے۔ ٹیکنالوجی آج سماجی تبدیلی کے ساتھ ساتھ نظام میں تبدیلی کا بھی ایک بڑا عنصر بن گئی ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس بدلتے دور میں ریاست کی عدالتیں تیزی سے بدل رہی ہیں۔ برسوں تک عدالتی عمل کاغذی ریکارڈ پر مبنی رہا؛ ایف آئی آر سے لے کر چارج شیٹ، کیس ڈائری، میڈیکل رپورٹ، فارنسک رپورٹ، سمن، وارنٹ اور حتمی فیصلے تک ہر مرحلے پر طبعی دستاویزات کا تبادلہ ہوتا تھا۔ اب ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے ذریعے ہم ''اینڈ-ٹو-اینڈ ای-پروسیڈنگ'' کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ای-فائلنگ، ای-سمن، ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹم اور الیکٹرانک ڈاکومنٹ مینجمنٹ سسٹم جیسے انتظامات عدالتی انتظامیہ کو مزید موثر بنا رہے ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل کے دفتر میں بھی پیپر لیس نظام قائم کرنے کی سمت میں مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔ کیس مینجمنٹ، ڈیجیٹل ریکارڈ، آن لائن کیس ٹریکنگ اور محکمانہ ہم آہنگی کے لیے جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو کا ماننا ہے کہ ہر شخص کے لیے اپنے حقوق کو جاننا ضروری ہے۔ کمزور طبقات، خواتین اور بزرگوں میں قانونی بیداری بڑھانا ریاستی حکومت کی ترجیح ہے۔ قانون کی زبان ایسی ہونی چاہیے جو انصاف کے طلبگار شخص کو آسانی سے سمجھ آ جائے۔ ریاستی حکومت عام لوگوں میں قانونی بیداری بڑھانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ ڈیجیٹل دور میں قانونی عمل کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے سے نظامِ عدل کو مزید شفاف اور صارف دوست بنانے میں مدد ملے گی، جو جمہوری نظام کو مزید طاقتور اور متحرک بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن

