
واشنگٹن/تہران/ابوظہبی، 18 مئی (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز تہران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر جلد امن معاہدہ نہ ہوا تو ایران میں کچھ نہیں بچے گا۔ انہوں کانے کہا"ایران کے لیے گھڑی کی سوئیاں ٹک-ٹک کر رہی ہے، اگر ایرانی رہنماجلد کوئی قدم نہیں اٹھاتے تو ان کا کچھ بھی نہیں بچے گا۔" صدر ٹرمپ نے یہ دھمکی اپنے ٹروتھ سوشل پر دی۔ اس پوسٹ کے اسکرین شاٹس کا وائٹ ہاؤس کے آفیشل ایکس ہینڈل پراشتراک کیا گیا ہے۔ ایران نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ امریکہ کے سامنے نہیں جھکے گا، پوری طاقت سے اس کا مقابلہ کرے گا۔
سی بی ایس نیوز اور الجزیرہ کی رپورٹوں کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا نہیں بلکہ امریکہ کا کنٹرول ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ نے ایران کی فوج کو تقریباً مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد، تہران کی ایکسپیڈینسی کونسل کے رکن اور سپاہ پاسداران اسلامی انقلابی (آئی آر جی سی ) کے سابق کمانڈر محسن رضائی نے امریکہ کو خبردار کیا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کی اپنی ناکہ بندی ختم کر دے۔ ایرانی فوج جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی نہ ہٹائی گئی تو بحیرہ عمان قبرستان بن جائے گا
رضائی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا، "ہم امریکی فوج کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ محاصرہ ختم کر دے، اس سے پہلے کہ بحیرہ عمان اس کا قبرستان بن جائے۔ انہوں نے کہا کہ "وہ ایران کی بحری ناکہ بندی کو جتنا لمبا کھینچیں گے، دنیا بھر کے ممالک کو اتنا ہی زیادہ نقصان ہو گا۔" رضائی نے کہا، "اب امریکہ کو خود کو ثابت کرنا ہوگا۔ ہماری فوج کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔"
امریکی فوجی ناکہ بندی 13 اپریل کو شروع ہوئی تھی۔ ٹرمپ کئی بارکہہ چکے ہیں کہ یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران ان کی شرائط پر امن معاہدے پر رضامند نہیں ہو جاتا۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ اس کی فوج لڑنے کے لیے تیار ہے۔ دریں اثنا، ایران نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جغرافیائی لحاظ سے اس اہم راستے سے گزرنے کے لیے ایرانی فریق، اس کی فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ساتھ رابطہ ضروری ہے۔ آئی آر جی سی نیوی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول بڑھا رہی ہے۔
آئی آر جی سی کا ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ
آئی آر جی سی نے یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ فوجی جہازوں اور کشتیوں کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ دوست ممالک کے جہاز اور کشتیاں مستثنیٰ ہوں گی۔ دریں اثنا، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں براکہ جوہری پاور پلانٹ پر ڈرون حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حملے کے بعد پلانٹ میں آگ لگ گئی۔ ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ ایران اور اس کے اتحادیوں پر حملے کا شبہ ہے۔
ڈرون نے پلانٹ کے اندرونی حفاظتی دائرے سے باہر واقع ایک برقی جنریٹر کو نشانہ بنایا۔ متحدہ عرب امارات کی فیڈرل نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (ایف ا ے این آر ) اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے ) نے حملے کی تصدیق کی ہے۔ گلف نیوز کے مطابق ایف اے این آر نے کہا کہ ایمرجنسی ٹیموں نے حملے کے فوری بعد آگ پر کامیابی سے قابو پالیا۔ایف اے این آر اور آئی اے ای اے نے ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے پلانٹ کے مین سسٹم یا سکیورٹی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ تابکاری کی سطح بالکل نارمل ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد

