
- فوجی تعاون، دفاعی صنعت میں شراکت داری، اور ہند-بحرالکاہل خطے میں امن پر توجہ دی جائے گی
نئی دہلی، 18 مئی (ہ س)۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پیر کو ویتنام اور جنوبی کوریا کے سرکاری دورے پر روانہ ہوئے۔ وزیر دفاع نے امید ظاہر کی کہ ان دونوں ایشیائی ممالک کے دورے سے دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کا بنیادی مقصد اسٹریٹجک فوجی تعاون، دفاعی صنعت میں شراکت داری اور سمندری تعاون کو مضبوط بنانا ہے تاکہ ہند-بحرالکاہل خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ 18 سے 19 مئی تک ویتنام کا دورہ کریں گے، اس کے بعد 19 سے 21 مئی تک جنوبی کوریا کا دورہ کریں گے۔ وزیر دفاع کا ویتنام کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے 10 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہے۔ اس جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو 5 سے 7 مئی تک ویتنام کے صدر کے دورہ ہند کے دوران جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی اعلی سطح پرلے جایا گیا تھا۔ راجناتھ سنگھ ویتنام کے قومی دفاع کے وزیر جنرل فان وان گیانگ کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کریں گے۔
اس سے قبل وزیر دفاع نے 8-10 جون 2022 کے دوران ویتنام کا دورہ کیا تھا ،جس میں ہندوستان-ویتنام دفاعی شراکت داری پر 2030 تک ایک مشترکہ وژن بیان پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ وژن دوطرفہ دفاعی تعاون کے لیے واضح اور متعین راستے کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ دونوں جمہوری ممالک خطے کے امن اور خوشحالی میں مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ راج ناتھ سنگھ کا یہ دورہ سابق ویتنام کے صدر ہو چی منہ کے 136ویں یوم پیدائش (19 مئی) کے موقع پر ہو رہا ہے۔ اس لیے وزیر دفاع ہو چی منہ کو ان کی یادگار پر گلہائے عقیدت پیش کریں گے۔
جنوبی کوریا کے اپنے دورے کے دوران راج ناتھ سنگھ جمہوریہ کوریا کے وزیر دفاع این گیو بیک کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کریں گے۔ دونوں وزراء دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا جائزہ لیں گے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے اقدامات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ وہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ وزیر دفاع ڈیفنس ایکوزیشن پروگرام ایڈمنسٹریشن (ڈی اے پی اے ) کے وزیر لی یونگ چیول سے بھی ملاقات کریں گے اور ہندوستان-کوریا بزنس راو ¿نڈ ٹیبل کی صدارت کریں گے۔
شہید فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے 21 مئی کو جنوبی کوریا میں ہندوستانی جنگی یادگار کا مشترکہ افتتاح کیا جائے گا جس میں جنوبی کوریا کے وزیر کوون اوہ-یول بھی شرکت کریں گے۔ ہندوستان کی 'ایکٹ ایسٹ پالیسی' اور جنوبی کوریا کی 'انڈو پیسیفک اسٹریٹجی' کے درمیان قدرتی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ ہند-بحرالکاہل خطے میں مشترکہ اقدار نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ کوریائی جنگ میں ہندوستان کا تعاون تاریخ کے سب سے اہم بابوں میں سے ایک ہے، جو عالمی امن اور استحکام کے لیے اس کی غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
ہندوستانی فوج کی 60 پیراشوٹ فیلڈ ایمبولینس کی جنوبی کوریا میں تعیناتی کا مقصد جنگ زدہ ملک میں امن اور ہم آہنگی لانا تھا۔ تین سال سے زائد عرصے تک خدمات انجام دیتے ہوئے، یونٹ نے دو لاکھ سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا اور تقریباً 2500 آپریشن کیے، ساتھ ہی بہت سے شہریوں کا علاج کیا۔ ہندوستان کی دوسری بڑی شراکت غیر جانبدار اقوام وطن واپسی کمیشن کی سربراہی تھی، جو ہندوستان کی طرف سے اقوام متحدہ میں ایک تجویز تھی جسے اکثریت سے منظور کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق، ہندوستانی فوج کی کسٹوڈین فورس، جس میں 5,230 فوجی شامل تھے، نے جنگ کے بعد کے مرحلے میں تقریباً 2,000 جنگی قیدیوں کو پرامن طریقے سے وطن واپس بھیجا ہے ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد

