
کولکاتا، 18 مئی (ہ س)۔ مغربی بنگال میں پیر کو ریاستی سکریٹریٹنوانّ میں وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری کی صدارت میں نو تشکیل شدہ کابینہ کی دوسری میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ کے بعد، ریاستی حکومت نے خواتین کی بہبود، سرکاری ملازمین، ٹرانسپورٹیشن اور او بی سی تحفظات سے متعلق کئی اہم فیصلوں کا اعلان کیا۔
میٹنگ کے بعد ،وزیر اگنی مترا پال نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ خواتین اور بچوں کی ترقی اور سماجی بہبود کے محکمے کے تحت "انّ پورنا یوجنا" کو پالیسی ساز منظوری دے دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "لکشمی بھنڈار" اسکیم کی موجودہ خواتینمستفیدین کے نام خود بخود "انّ پورنا بھنڈار" اسکیم میں منتقل ہو جائیں گے۔ اسکیم کے فنڈز براہ راست مستفیدین کے بینک کھاتوں میں منتقل کیے جائیں گے، جبکہ نئے درخواست دہندگان کے لیے جلد ہی ایک آن لائن پورٹل کھولا جائے گا۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے تحت یا ٹریبونل میں درخواست دینے والے لوگوں کو بھی اس اسکیم کا فائدہ دیا جائے گا۔کابینہ نے ریاستی سرکاری ملازمین کے تنخواہ کے ڈھانچے پر نظر ثانی کے لیے ساتویں ریاستی پے کمیشن کی تشکیل کو بھی منظوری دی۔ تاہم میٹنگ میں مہنگائی الاو¿نس (ڈی اے ) کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل ڈی اے میں اضافے کے حوالے سے سرکاری ملازمین میں بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں۔
ریاستی حکومت نے یکم جون سے تمام سرکاری بسوں میں خواتین کے لیے مفت سفر نافذ کرنے کی تجویز کو بھی منظوری دے دی ہے۔ تاہم ابھی تک بسوں کی تعداد بڑھانے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں نئی الیکٹرک بسوں کی خریداری کی تجویز پیش کی جا سکتی ہے۔
حکومت نے او بی سی لسٹ اور ریزرویشن سسٹم کو لے کر بھی بڑا فیصلہ لیا ہے۔ کابینہ نے او بی سی کی فہرست کا جائزہ لینے، ذیلی زمرہ بندی کو ختم کرنے اور ریزرویشن فیصد پر دوبارہ غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اگنی مترا پال نے کہا کہ ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق نئی تحقیقات کی جائیں گی اور اس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ، محکمہ اطلاعات و ثقافت اور محکمہ اقلیتی امور اور مدرسہ تعلیم کے تحت چلنے والی مذہبی درجہ بندی کی امدادی اسکیموں کو آئندہ ماہ سے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت جلد ہی اس حوالے سے تفصیلی نوٹیفکیشن جاری کرے گی۔
میٹنگ میں وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری کے علاوہ کئی سینئر عہدیدار بشمول وزرا دلیپ گھوش، نشیتھ پرمانک، اشوک کیرتانیہ اور خودی رام توڈو موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد

