
ستنا، 18 مئی (ہ س)۔ ستنا کو مدھیہ پردیش کے مذہبی شہر چترکوٹ سے جوڑنے والی قومی شاہراہ پر اسفالٹنگ کے کام میں بے قاعدگیوں اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ تقریباً 79 کلومیٹر طویل اس روٹ پر بی ٹی کی رینیول کے کام کے معیار پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کی کٹنی یونٹ نے پروجیکٹ کی لاگت کا تخمینہ 20.64 کروڑ لگایا تھا، لیکن یہ ٹھیکہ ریوا میں قائم کمپنی آرادھیا شریرام پرائیویٹ لمیٹڈ کو 12.52 کروڑ میں دیا گیا، جو کہ تقریباً 42 فیصد کم شرح ہے۔ یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ لاگت میں نمایاں کمی کا اثر اب تعمیر کے معیار پر محسوس کیا جا رہا ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ سڑک کی اسفالٹنگ میں طے شدہ تکنیکی معیارات پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔ ہنومان دھارا اور منداکنی کے محکم گڑھ پل کے درمیان ڈی بی ایم اور بٹومینس کنکریٹ کے کام میں سنگین لاپروائی کا انکشاف ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق پرانی، تباہ شدہ سڑک کی تہہ کو ہٹا کر 60 ملی میٹر موٹی ڈی بی ایم کی تہہ بچھائی جانی چاہیے تھی، اس کے بعد بٹومینس کنکریٹ کی آخری 40 ملی میٹر تہہ ڈالی جانی چاہیے تھی، لیکن سائٹ پر ایسا نہیں کیا گیا۔
مقامی لوگوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر پرانی کنکریٹ کی سڑکوں پر سیدھا اسفالٹ ڈال دیا گیا ہے۔ نئی تعمیر شدہ سڑک پر خستہ حال اسفالٹ اور پیچ ورک کے مقامات ناقص تعمیر کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہ بھی الزامات ہیں کہ مجوزہ سڑک کی چوڑائی، اصل میں 10 میٹر تھی،اس کو کم کر کے 7 میٹر کر دیا گیا ہے، جس سے سڑک کی حفاظت متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سائیڈ شولڈرز پر رکھی گئی مٹی بارش سے بہہ سکتی ہے جس سے پھسلن اور سڑک حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ستنا-چترکوٹ سڑک مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کو جوڑنے والی ایک اہم قومی شاہراہ ہے، جس پر ہر روز بڑی تعداد میں عقیدت مند اور مسافر سفر کرتے ہیں۔
اس دوران کٹنی این ایچ اے آئی کے سائٹ انجینئر ہمانشو سنگھ نے کہا کہ ٹھیکیدار کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کام کو ہٹا کر سڑک کو دوبارہ تعمیر کرے جہاں اسے نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کوالٹی کنٹرول کے لیے مسلسل مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سڑک کو 7 میٹر تک چوڑا کرنا پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی

