
ترواننت پورم، 18 مئی (ہ س)۔
کیرالہ میں وزیراعلیٰ وی ڈی۔ ستیشن کی قیادت والی نئی حکومت نے پیر کو کابینہ کی اپنی پہلی میٹنگ میں کئی اہم عوامی فلاحی فیصلوں کو منظوری دی۔ حکومت نے خواتین، بزرگ شہریوں، آشا اور آنگن واڑی کارکنان سمیت مختلف طبقوں کے لیے کئی امدادی اسکیموں کا اعلان کرکے اپنی ترجیحات کو واضح کردیا۔ ان فیصلوں کو یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کے انتخابی وعدوں پر عمل درآمد میں تیزی لانے کی جانب ایک بڑے قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پیر کو کیرالہ میں ایک نئے سیاسی باب کا آغاز ہوا۔ دس سال کے بعد، کانگریس کی قیادت والی یو ڈی ایف اتحاد ریاست میں اقتدار میں واپس آیا۔ وی ڈی ستیشن نے وزیر اعلی کے طور پر حلف لینے کے بعد اپنی پہلی کابینہ میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ستیشن نے کہا کہ کابینہ نے اندرا گارنٹی پروگرام کے تحت کیرالہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (کے ایس آر ٹی سی) کی بسوں میں خواتین کے لیے مفت سفر متعارف کرانے کی تجویز کو منظوری دی ہے۔ حکومت اسے 15 جون سے نافذ کرے گی۔ اہلیت، آپریشنل طریقہ کار، اور دیگر رہنما خطوط کے بارے میں تفصیلی معلومات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ وی ڈی ستیشن نے کہا کہ یہ فیصلہ خواتین کی معاشی شراکت کو فروغ دینے اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ پر مفت سفر لاکھوں خواتین کو براہ راست مالی ریلیف فراہم کرے گا، جس سے وہ تعلیم، روزگار اور دیگر ضروری مقاصد کے لیے زیادہ آسانی سے سفر کر سکیں گی۔ حکومت کا خیال ہے کہ یہ اسکیم خواتین کو بااختیار بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ کابینہ نے بزرگ شہریوں کے لیے علیحدہ خصوصی محکمہ قائم کرنے کی تجویز کی بھی منظوری دی ہے۔ یہ اقدام ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ ستیشن نے کہا کہ ریاستی حکومت بزرگوں کی فلاح و بہبود کے لیے بین الاقوامی ماڈلز کا مطالعہ کرے گی، خاص طور پر جاپان کے بزرگوں کے دیکھ بھال کے نظام پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی شناخت اس بات سے طے ہوتی ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ ان کی حکومت بزرگ شہریوں کے لیے ایک باعزت، محفوظ اور جامع ماحول پیدا کرنے کے لیے تندہی سے کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صحت، سماجی تحفظ اور بزرگوں کی دیکھ بھال سے متعلق مسائل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کابینہ نے مختلف زمروں کے ملازمین کے لیے اعزازیہ اور فلاحی ادائیگیوں میں اضافہ کرنے کی تجاویز کو بھی منظوری دی ہے، جس میں آشا کارکنوں کے لیے اضافی 3,000 روپے اور آنگن واڑی کارکنوں کے ماہانہ اعزازیہ میں 1,000 روپے کا اضافہ شامل ہے۔ مزید برآں، مڈ ڈے میل کے باورچیوں، آیااور پری پرائمری اساتذہ کے لیے ہر ایک میں 1000 روپے کے اضافے کا اعلان کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کی معاشی صورتحال بہتر ہوتی ہے تو حکومت مستقبل میں مزید فلاحی پروگراموں کو نافذ کرنے پر غور کرے گی ۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ حکومت معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند طبقوں کے لیے اضافی پروگرام نافذ کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس نے نوکیرل یاترا کے دوران پولیس کی زیادتیوں کے الزامات کی خصوصی تحقیقات کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ اگر شکایات کی غیر جانبدارانہ چھان بین کے بعد کوئی بے ضابطگی پائی گئی تو قصورواروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔
ریاستی حکومت نے کابینہ کی میٹنگ میں کئی اہم انتظامی تقرریوں کو بھی منظوری دی۔ سینئر ایم ایل اے جی سدھاکرن کو عارضی اسپیکر مقرر کیا گیا ہے۔ جیاجو بابو کو ایڈوکیٹ جنرل اور ٹی آصف علی کو پراسیکیوشن کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ ان تقرریوں کو نئی حکومت کی انتظامی حکمت عملی کا کلیدی حصہ سمجھا جارہا ہے۔
اس سے پہلے آج صبح، وی ڈی ستیشن نے ترواننت پورم کے سنٹرل اسٹیڈیم میں منعقدہ ایک تقریب میں کیرالہ کے وزیر اعلی کے طور پر حلف لیا۔ گورنر راجندر وشواناتھ آرلیکر نے عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ ان کے ساتھ 20 رکنی کابینہ نے بھی حلف لیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکومت نے اپنے پہلے ہی دن جن عوامی فلاحی منصوبوں کا اعلان کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نئی حکومت عوام سے کیے گئے وعدوں پر جلد عمل درآمد کر کے اپنا فعال اور فلاحی امیج قائم کرنا چاہتی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی

