Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
دہلی میں کروڑوں کے نقلی بیئرنگ کا کھیل اجاگر، کرائم برانچ نے دو فیکٹریوں کا پردہ فاش کیا

دہلی میں کروڑوں کے نقلی بیئرنگ کا کھیل اجاگر، کرائم برانچ نے دو فیکٹریوں کا پردہ فاش کیا

نئی دہلی، 18 مئی (ہ س)۔ راجدھانی دہلی میں نقلی آٹو پارٹس اور مشینری کی اشیاءکے ایک بڑے کاروبار کا پردہ فاش کرتے ہوئے، کرائم برانچ نے فراش خانہ علاقے میں کام کرنے والی دو غیر قانونی ورکشاپ پر چھاپہ مارکر نقلی بیرنگ بنانے والے ایک گروہ کا پردہ فاش کیا۔ پولیس نے موقع سے 5067 نقلی بیرنگ، چار اسٹیمپنگ اور اینگریونگ مشین، ایک پیکنگ مشین اور بھاری مقدار میں پیکنگ اور پرنٹنگ میٹریل برآمد کیا۔ اس معاملے میں دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جو سستی غیر ملکی بیرنگ پر معروف کمپنیوں کے نقلی ٹریڈ مارک لگا کر انہیں اصلی ہونے کا دعویٰ کر کے فروخت کر رہے تھے۔

پولیس نے اس معاملے میں 50 سالہ عامر خان اور 40 سالہ محمد انس کو گرفتار کیا ہے۔ عامر خان پرانی دہلی کے لال کنواں علاقے کےارہنے والا اور پانچویں جماعت پاس ہے۔پوچھ گچھ کے دوران اس نے اعتراف کیا کہ وہ پرانے اور استعمال شدہ بیرنگ خریدکر ان کی مرمت کرتا تھا۔

تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عامر خان پہلے بھی اسی طرح کے ایک معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے خلاف 2006 میں کملا مارکیٹ پولیس اسٹیشن میں فراڈ اور کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ دوسرا ملزم محمد انس لکشمی نگر کا رہنے والا ہے اور 12ویں جماعت پاس ہے۔ وہ بھی پرانے بیرنگ بھی خریدکر ان کی مرمت اور انہیں فروخت کرنے کا کام کرتا تھا۔ پولیس کے مطابق انس کا پہلے سے کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔

کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس سنجیو یادو نے پیر کو بتایا کہ انسداد ڈکیتی اور اسنیچنگ سیل (اے آر ایس سی) دارالحکومت میں مسلسل جعلی اور نقلی مصنوعات کے خلاف مسلسل مہم چلا رہا ہے۔ اس دوران پولیس کو اطلاع ملی کہ پرانی دہلی کے فراش خانہ علاقہ میر مداری گلی میں کچھ لوگ غیر قانونی طور پر نقلی بیرنگ تیار کر کے بازار میں سپلائی کر رہے ہیں۔ اطلاع کے بعد انسپکٹر کے کے شرما کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ٹیم میں متعدد پولیس افسران کے ساتھ متعلقہ کمپنیوں کے مجاز نمائندے بھی شامل کیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے مطابق، 16 مئی کو پولیس کی ایک ٹیم نے میر مداری گلی میں دو الگ الگ ورکشاپس پر چھاپہ مارا۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ملزمان نے کفایتی اور کم معیار کے غیر ملکی ساختہ بیرنگ خریدے۔ اس کے بعد انہوں نے ان پر معروف کمپنیوں کے نقلی ٹریڈ مارک پرنٹ کرکے ، انہیں حقیقی مصنوعات کے طور پر پیک کیا اور پھر انہیں مہنگے داموں مارکیٹ میں سپلائی کیا جاتا تھا۔

پہلی ورکشاپ سے، پولیس نے ایچ سی ایچ برانڈ کے نقلی ٹریڈمارک لگی 4,959 بیرنگ برآمد کیے۔ اس کے علاوہ تین اسٹیمپنگ اور اینگریونگ مشینیں، ایک پیکنگ مشین اور بڑی مقدار میں پرنٹنگ اور پیکنگ کا سامان بھی ملا۔ دوسری ورکشاپ سے این بی سی برانڈ کے 108 نقلی بیرنگ، ایک اسٹیمپنگ مشین اور پیکنگ کا سامان ضبط کیا گیا۔ کارروائی کے بعد دونوں ورکشاپس کو سیل کر دیا گیا۔

مشینوں کے ذریعے نقلی ٹریڈ مارک کندہ کیے جاتے تھے

پولیس حکام کے مطابق، ملزمین خصوصی مشینوں کی مدد سے بیرنگز پر ایچ سی ایچ اور این بی سی کے ٹریڈ مارک کندہ کرتے تھے ، جس سے وہ صارفین کو حقیقی دکھائی دیتے تھے۔ پیکیجنگ کو بھی اصل کمپنیوں کی مصنوعات سے مشابہت کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ نقلی بیرنگ دہلی اور آس پاس کی ریاستوں میں سپلائی کیے جا رہے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مشینری اور گاڑیوں میں اس طرح کے نقلی بیرنگ استعمال کرنے سے بڑے حادثات کا خطرہ ہوتا ہے، کیونکہ یہ کم معیار کی مصنوعات جلد خراب اور تکنیکی نقصان کا باعث بنتی ہیں۔

سپلائی چین اور نیٹ ورک کی تفتیش جاری

کرائم برانچ نے ملزمین کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ اور تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس اب پورے نیٹ ورک کی چھان بین کر رہی ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ نقلی بیرنگ کہاں سے درآمد کیے جا رہے تھے، وہ کن مارکیٹوں میں سپلائی کیے جا رہے تھے اور اس دھندے میں اور کون ملوث ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu