Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
خواتین کی تعلیم، خودمختاری اور سماجی شمولیت مسلم معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری : مولانا جمیل احمد قاسمی

خواتین کی تعلیم، خودمختاری اور سماجی شمولیت مسلم معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری : مولانا جمیل احمد قاسمی

علی گڑھ, 18 مئی (ہ س).

خواتین کا فعال کردار اور حج کی عالمگیر اہمیت''کے عنوان سے منعقدہ ایک مذاکرہ میں خطاب کرتے ہوئے معروف اسلامی اسکالر مولانا جمیل احمد قاسمی نے کہا کہ اسلام ایک ایسا جامع دین ہے جو عدل، مساوات اور انسانی وقار کی تعلیم دیتا ہے اور خواتین کو وہ حقوق عطا کرتا ہے جو ان کی عزت، خودمختاری اور سماجی مقام کو مضبوط بناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرے کی ترقی خواتین کی فعال شمولیت کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ معاشرے کی نصف آبادی کو محدود کر دینا ترقی کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت معاشرے میں استحکام اور بیداری پیدا کر رہی ہے۔مولانا جمیل احمد قاسمی نے کہا کہ اسلام میں انسانی فضیلت کا معیار جنس نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔ انہوں نے حج کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مناسکِ حج مرد و عورت دونوں کے لیے مساوی روحانی پیغام رکھتے ہیں، جبکہ صفا و مروہ کی سعی حضرت ہاجرہؑ کی عظیم جدوجہد کی یادگار ہے، جو اسلام میں خواتین کے مقام اور کردار کی واضح دلیل ہے۔مولانا جمیل نے کہا کہ خواتین کی بااختیاری کے لیے تعلیم، معاشی خودکفالت اور فیصلہ سازی میں شمولیت بنیادی عناصر ہیں۔ حضرت خدیجہؓ اور حضرت ام سلمہؓ کی مثالیں پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی تاریخ خواتین کے مؤثر کردار سے روشن ہے۔حج کے موجودہ تناظر پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا جمیل احمد قاسمی نے کہا کہ حالیہ برسوں میں خواتین کو بغیر محرم حج کی اجازت اور جدید سفری سہولیات نے ایک مثبت تبدیلی کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر سیکیورٹی اور سفری انتظامات کے باعث خواتین اعتماد کے ساتھ حج کی ادائیگی کر رہی ہیں، جو ان کی خود اعتمادی اور سماجی شعور کی علامت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلام نے خواتین کو وراثت، ملکیت، تعلیم اور اظہارِ رائے کا حق دیا ہے، اس لیے معاشرے کو چاہیے کہ وہ ثقافتی پابندیوں اور دینی تعلیمات میں فرق کو سمجھے اور خواتین کو ان کا جائز مقام فراہم کرے۔مذاکرہ کے اختتام پر مولانا جمیل احمد قاسمی نے کہا کہ ایک بااختیار خاتون نہ صرف اپنی زندگی بلکہ آنے والی نسلوں کی تعمیر و تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، اور مسلم معاشرے کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب خواتین کو ہر میدان میں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔اس موقع پر شہر اور یونیورسٹی کے معززین موجود رہے ۔۔۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu