
نئی دہلی، 18 مئی (ہ س)۔ نیٹ پیپر لیک معاملے میں گرفتار رینوکائی کیریئر سینٹر کے بانی شیوراج رگھوناتھ موٹیگاونکر کو راو¿ز ایونیو کورٹ کے خصوصی جج اجے گپتا نے نو دن کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی حراست میں بھیج دیا ہے۔
سی بی آئی نے 17 مئی کو مہاراشٹر کے لاتور سے موٹیگاونکر کو گرفتار کیا تھا۔ تحقیقات کے دوران موٹیگاونکرکے موبائل فون سے لیک ہونے والا سوالنامہ برآمد ہوا ہے۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ موٹیگاونکر منظم نیٹ پیپر لیک ریکیٹ کا سرگرم رکن تھا۔ اس نے لیک ہونے والے نیٹ کے سوالیہ پرچے کو گردش کرنے اور کوچنگ مراکز کے ذریعے اس کے جوابات حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے ذاتی طور پر متعدد طلباءکو سوالیہ پرچہ بھی فراہم کیا۔
اس سے پہلے، 17 مئی کو، عدالت نے اس معاملے کی نویں ملزم منیشا مندھارے کو 14 دن کی سی بی آئی حراست میں بھیج دیا تھا۔ منیشا مندھارے اس پینل میں شامل تھیں جس نے این ٹی اے کے لیے سوالیہ پرچہ ترتیب دیا تھا۔ اسے متھرا کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا۔ منیشا مندھارے پر الزام ہے کہ اس نے کیمسٹری کے اساتذہ پی وی راو ¿ اور منیشا واگھمارے کے ساتھ مل کر نیٹ امتحان کا پرچہ لیک کرنے کی سازش کی تھی۔ پی وی راو ¿ اور منیشا واگھمارے کو 16 مئی کو عدالت نے 10 دن کے لیے سی بی آئی کی حراست میں بھیج دیا تھا۔
اس سے پہلے 15 مئی کو عدالت نے دھننجے لوکھنڈے کو چھ دن کی سی بی آئی حراست میں بھیج دیا تھا۔ یہ الزام ہے کہ منیشا واگھمارے نے دھننجے لوکھنڈے کو نیٹ کے سوالیہ پرچے فراہم کیے تھے۔ بعد ازاں دھننجے لوکھنڈے نے شبھم کھیروار کو سوالیہ پرچہ فراہم کیا۔ 14 مئی کو عدالت نے ناسک کے شبھم کھیروار، مانگی لال بیول، وکاس بیول، جے پور کے دنیش بیول اور گروگرام کے یش یادو کو سات دن کی سی بی آئی حراست میں بھیج دیا تھا۔ شبھم کھیروار کو 13 مئی کو ممبئی سے گرفتار کیا گیا تھا، جہاں سے اسے دو دن کے ٹرانزٹ ریمانڈ پر دہلی لایا گیا تھا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی

