
نئی دہلی، 18 مئی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے فی الحال خاتون ریسلر وینیش پھوگاٹ کو کوئی بھی راحت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے ونیش پھوگاٹ کو ہدایت کی کہ وہ ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کی جانب سے جاری شوکاز نوٹس کا تفصیلی جواب جمع کرائیں۔ جسٹس پروشندر کمار کور کی سربراہی والی بنچ نے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کو 6 جولائی تک نوٹس پر حتمی فیصلہ کرنے کی ہدایت دی۔ کیس کی اگلی سماعت 6 جولائی کو ہوگی۔
ونیش پھوگاٹ نے ایک عرضی دائر کی ہے جس میں انڈین ریسلنگ فیڈریشن کے انہیں ایشین گیمز کے سلیکشن ٹرائلز سے باہر کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ونیش پھوگاٹ کے وکیل راج شیکھر راو نے کہا کہ اس کیس میں سب کچھ ویسا نہیں ہے جیسا کہ لگتا ہے۔ راو ¿ نے عدالت سے درخواست کی کہ ونیش پھوگاٹ کو سلیکشن ٹرائلز میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے، جو 30 مئی کو شروع ہونے والے ہیں۔ عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھارتی ریسلنگ فیڈریشن کی جانب سے جاری نوٹس کا جواب دیں۔ اس دوران ہندوستانی ریسلنگ فیڈریشن کو اس معاملے پر 6 جولائی تک کوئی حتمی فیصلہ کرنا چاہیے۔
ونیش پھوگاٹ کو سلیکشن ٹرائلز میں حصہ لینے کی اجازت سے انکار کر دیا گیا ہے۔ ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا نے کہا کہ یہ سلیکشن ٹرائلز صرف 2025 سینئر نیشنل چیمپئن شپ، 2026 فیڈریشن کپ اور انڈر 20 نیشنل چیمپئن شپ کے فاتحین کے لیے ہیں۔ پھوگاٹ نے ان تینوں مقابلوں میں سے کوئی بھی نہیں جیتا تھا۔ فوگاٹ نے 2024 کے اولمپکس کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ بعد میں وہ دسمبر 2025 میں ریسلنگ میں واپس آگئیں۔
ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا نے فوگاٹ کو ڈسپلن، اینٹی ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی اور ریٹائرمنٹ کے بعد مقابلے میں واپسی کے لیے ضروری قوانین پر عمل نہ کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔ ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا نے کہا کہ واپسی سے پہلے چھ ماہ کا نوٹس درکار ہے جس پر پھوگاٹ عمل کرنے میں ناکام رہی۔ ہندوستانی ریسلنگ فیڈریشن نے 2024 میں زیادہ وزن کی وجہ سے پھوگاٹ کی نااہلی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا تھاکہ اس سے ملک کو شرمندگی ہوئی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی

