Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
امریکہ-ایران کو منانے میں قطر، سعودی عرب، یو اے ای اور پاکستان مصروف، ٹرمپ نے حملہ ملتوی کیا

امریکہ-ایران کو منانے میں قطر، سعودی عرب، یو اے ای اور پاکستان مصروف، ٹرمپ نے حملہ ملتوی کیا

امریکہ-ایران کو منانے میں قطر، سعودی عرب، یو اے ای اور پاکستان مصروف، ٹرمپ نے حملہ ملتوی کیا

واشنگٹن/تہران/اسلام آباد، 19 مئی (ہ س)۔ دنیا کے اہم ترین تیل کے راستے آبنائے ہرمز پر کشیدگی کے درمیان قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور پاکستان ''امریکہ اور ایران'' کے درمیان امن معاہدہ کرانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ثالث کے کردار میں ناکامی کے باوجود پاکستان نے ہار نہیں مانی ہے۔ وہ اب بھی اپنے طور پر ایران کو منانے کی کوشش کر رہا ہے۔ قطر، سعودی عرب اور یو اے ای تینوں مل کر اس بحران کا حل نکالنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔ تینوں نے امریکی صدر کو اس بات کے لیے راضی کر لیا ہے کہ وہ فی الحال ایران پر حملے کے اپنے منصوبے کو ملتوی کر دیں۔

عربی چینل ''الجزیرہ''، امریکی چینل ''سی بی ایس نیوز'' اور پاکستان کے چینل ''دنیا نیوز'' کی رپورٹوں میں ایران-امریکہ کے درمیان چھڑے تنازعہ کی سرخیوں کو تفصیل سے اہمیت دی گئی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر ایران پر ہونے والے طے شدہ حملے کو ٹال دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ''اس وقت امن معاہدے کو لے کر سنجیدہ بات چیت چل رہی ہے۔'' ٹرمپ نے پیر کی دوپہر وائٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب، قطر اور یو اے ای جلد ہی امن معاہدہ کرانے کے لیے کسی سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے۔

امریکی صدر نے ایک بار پھر اپنی اہم شرط پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو ہر حال میں اپنا ایٹمی پروگرام چھوڑنا ہوگا۔ ساتھ ہی کچھ نرمی دکھاتے ہوئے کہا کہ اگر مغربی ایشیا کے اتحادی ملک مطمئن ہو جاتے ہیں تو امریکہ کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس لیے امریکہ اب منگل کو ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کے مطابق، یہ معاہدہ امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں کے لیے قابلِ قبول ہوگا۔

صدر ٹرمپ کے اس اعلان سے پہلے ایران نے کہا تھا کہ اس نے ممکنہ امن معاہدے کے لیے شرائط کا ایک اور ترمیمی مسودہ بھیجا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ مسودہ پاکستان کے ذریعے بھیجا گیا ہے۔ ٹرمپ کے بیان پر ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے کہا، ''یہ دھیان میں رکھا جائے کہ بات چیت کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں ہے۔ تہران وقار، استحقاق اور قوم کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ اس چیت میں شامل ہونے کے لیے تیار ہوا ہے۔''

دوسری طرف، پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی تہران پہنچ کر ایران اور امریکہ کے درمیان رکی ہوئی امن بات چیت کو پٹری پر لانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ تہران میں 16 مئی سے موجود نقوی نے گزشتہ روز سینئر رہنماوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ وہ ایرانی صدر، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات کر چکے ہیں۔ ایران کے صدر نے کہا کہ اسلامی ملکوں کے درمیان تال میل اور اتحاد ہی پائیدار امن اور استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu