Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
آر جی کر معاملے میں بڑا قدم، سندیپ گھوش کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت

آر جی کر معاملے میں بڑا قدم، سندیپ گھوش کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت

۔ وزیراعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے کہا۔ سچ کو دبایا نہیں جا سکتا

کولکاتا، 19 مئی (ہ س)۔ آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر-طالبہ کی مبینہ عصمت دری اور قتل کے معاملے میں ریاستی حکومت نے اسپتال کے سابق پرنسپل سندیپ گھوش کے خلاف قانونی کارروائی (پراسیکیوشن) چلانے کی اجازت انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے پیر کی رات ''ایکس'' پر اس کی جانکاری دیتے ہوئے اسے ''انصاف کی سمت میں ایک اہم اور مثبت قدم'' قرار دیا۔ وزیراعلیٰ نے اپنی پوسٹ پر محکمۂ صحت اور خاندانی بہبود کے اسپیشل سکریٹری کے ذریعے جاری کردہ آرڈر کی کاپی بھی شیئر کی۔ چونکہ سندیپ گھوش سرکاری ملازم ہیں، اس لیے ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کے لیے ریاستی حکومت کی اجازت لازمی تھی۔

وزیراعلیٰ ادھیکاری نے لکھا کہ آر جی کر اسپتال میں 9 اگست 2024 کو ہونے والے ڈاکٹر-طالبہ کے ''بے رحمانہ قتل اور عصمت دری'' کے واقعے میں اس وقت کے پرنسپل سندیپ گھوش کے خلاف قانونی عمل کے تحت ای ڈی کو کارروائی کی اجازت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابقہ ترنمول حکومت نے اس معاملے کی جانچ کے عمل کو طویل عرصے تک روکے رکھا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت کا ماننا ہے کہ ''قانون سے اوپر کوئی نہیں ہے اور سچ کو ہمیشہ دبا کر نہیں رکھا جا سکتا۔''

آرڈر میں کہا گیا ہے کہ گورنر اور مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش کی گئی دستاویزات اور شواہد کی تفصیلی جانچ کے بعد بظاہر یہ پایا گیا کہ اس وقت کے پرنسپل سندیپ گھوش کی مجرمانہ سرگرمیاں اور فرائض میں لاپرواہی بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 120 بی کے ساتھ پڑھی جانے والی دفعہ 420 اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ، 1988 کی دفعہ 7 کے تحت قابلِ سزا جرم کے زمرے میں آتی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی منی لانڈرنگ روک تھام ایکٹ، 2002 کے تحت بھی معاملہ درج کیے جانے کے قابل پایا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر سندیپ گھوش کے ساتھ ساتھ ''ماں تارا ٹریڈرز''، ''ایشان کیفے'' اور ''کھاما لوہا'' کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی جانچ شروع کی گئی ہے۔ سرکاری آرڈر کی کاپی ریاست کے چیف سکریٹری، محکمۂ صحت کے پرنسپل سکریٹری، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور دیگر متعلقہ افسران کو بھی بھیج دی گئی ہے۔

دوسری طرف، متاثرہ کی ماں، جو حال ہی میں پانی ہاٹی سے بی جے پی کی رکن اسمبلی منتخب ہوئی ہیں، نے وزیراعلیٰ کو خط بھیج کر براہِ راست اور بالواسطہ طور پر شامل دیگر افراد کو بھی جانچ کے دائرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرہ کے والدین مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ اس واقعے میں صرف قصوروار قرار دیا گیا سنجے رائے ہی شامل نہیں تھا، بلکہ کئی دوسرے لوگ بھی اس میں ملوث تھے۔

اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ لاش کی جلد بازی میں آخری رسومات ادا کر کے ثبوت مٹانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں پانی ہاٹی کے سابق رکن اسمبلی نرمل گھوش، چیئرمین سومناتھ دے اور پڑوسی سنجیو مکھوپادھیائے کے کردار پر بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu