
ممبئی ، 19 مئی (ہ س)۔ نیٹ پیپر لیک معاملے میں بی جے پی پر الزامات لگانے والے شیو سینا یو بی ٹی لیڈر سنجے راؤت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی چیف ترجمان نوناتھ بن نے کہا کہ لاتور سے گرفتار کیے گئے شیوراج موٹےگاؤکر کے بارے میں کانگریس رکن اسمبلی امت دیشمکھ سے سوال کیوں نہیں پوچھے جا رہے ہیں۔
منگل کو بی جے پی ریاستی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوناتھ بن نے کہا کہ ''ہم نے دیشمکھ کا کُنکو لگایا ہے'' جیسا بیان دینے والے اور انتخابی مہم کے دوران کانگریس کی حمایت کرنے والے موٹےگاؤکر ہی اس معاملے کے اصل سرغنہ ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ موٹےگاؤکر کی گرفتاری پر سنجے راؤت خاموش کیوں ہیں۔
نوناتھ بن نے مطالبہ کیا کہ اس بات کی بھی جانچ ہونی چاہیے کہ موٹےگاؤکر کی پشت پناہی کس نے کی اور پیپر لیک جیسے معاملے کے لیے اسے کس نے حوصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ پیپر لیک معاملے میں قصورواروں کے خلاف کارروائی سی بی آئی اور مرکزی حکومت کے ذریعے جاری ہے اور حکومت کسی کو بھی بچانے والی نہیں ہے۔
نوناتھ بن نے کہا کہ بی جے پی نوجوانوں اور طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ طلبہ کا نقصان نہ ہو، اس لیے نیٹ امتحان منسوخ کر کے دوبارہ امتحان لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چاہے کوئی کسی کے کتنا ہی قریب کیوں نہ ہو، اسے بخشا نہیں جائے گا۔ امت دیشمکھ کے قریب کون لوگ ہیں اور کانگریس کے رابطے کہاں تک ہیں، اس بارے میں سنجے راؤت کو بولنا چاہیے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض مقامات پر کانگریس اور نیٹ پیپر لیک کے براہِ راست روابط سامنے آ رہے ہیں، اس لیے پہلے اس پر سوال کیے جائیں اور بعد میں بی جے پی کو نشانہ بنایا جائے۔
نوناتھ بن نے وزیر اعظم نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مودی بیرونِ ملک ''لندن یاترا'' کے لیے نہیں جاتے بلکہ ملک کی حکمت عملی مضبوط کرنے کے لیے دورے کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان دوروں سے عالمی سطح پر ہندوستان کی قیادت مضبوط ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی نہ تو تصاویر کھنچوانے جاتے ہیں اور نہ خاندان کے ساتھ وقت گزارنے، بلکہ قومی پالیسیوں اور حکمت عملی کے لیے غیر ملکی دورے کرتے ہیں۔
نوناتھ بن نے شیو سینا یو بی ٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پہلگام حملے کے وقت ادھو ٹھاکرے لندن میں ''ٹھنڈی ہوا کھا رہے تھے''۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب سنجے راؤت کو ملک کی عدالتوں، سپریم کورٹ، بین الاقوامی عدالتوں اور امریکہ کی عدالتوں پر بھی اعتماد نہیں رہا۔ نوناتھ بن نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اب سنجے راؤت کے پاس صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ وہ خلا باز بن کر خلا کی عدالت میں جائیں، شاید وہاں انہیں انصاف مل جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف راؤت کہتے ہیں کہ مودی امریکہ کے غلام ہیں اور دوسری طرف الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے امریکہ جا کر مقدمہ ''منیج'' کیا۔ نوناتھ بن نے سوال کیا کہ آخر حقیقت کیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام پہلے ہی سنجے راؤت کو سیاسی طور پر مسترد کر چکی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے

