Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ایڈاپڈی پلانی سوامی نے اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ضلع سکریٹریوں کے ساتھ میٹنگ کی۔

ایڈاپڈی پلانی سوامی نے اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ضلع سکریٹریوں کے ساتھ میٹنگ کی۔

چنئی، 19 مئی (ہ س)۔

تمل ناڈو کی مرکزی اپوزیشن پارٹی کے اندر جاری اندرونی گروپ بندی کے درمیان، آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزگم (اے آئی اے ڈی ایم کے)، پارٹی کے جنرل سکریٹری ایڈاپڈی کے پلانی سوامی (ای پی ایس) نے منگل کو چنئی میں پارٹی ہیڈکوارٹررائے پیٹہ میں ضلعی سکریٹریوں اور سینئر عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کی۔ اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد پہلی بار پلانی سوامی کا پارٹی ہیڈکوارٹر کا دورہ انتہائی اہم مانا جا رہا ہے۔

جیسے ہی ایڈاپڈی پلانی سوامی صبح 9 بجے کے قریب پارٹی ہیڈکوارٹر پہنچے، پارٹی کارکنوں اور حامیوں کی طرف سے ان کا استقبال کیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اے آئی اے ڈی ایم کے کے بانی اور سابق وزیر اعلیٰ ایم جی رامچندرن اور آنجہانی وزیر اعلیٰ جے جے للیتاکے مجسموں پرگلہائے عقیدت پیش کیا۔

ابتدائی طور پر یہ میٹنگ اڈیار میں گرین ویز روڈ پر واقع پلانی سوامی کی رہائش گاہ پر ہونا تھی، لیکن بعد میں اسے اچانک پارٹی ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا گیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ پارٹی تنظیم پر اپنی مضبوط گرفت اور پارٹی کارکنوں میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

اجلاس میں پارٹی کے کئی سرکردہ رہنماﺅں نے شرکت کی جن میں سینئر رہنما کے پی مونوسامی، آر بی ادے کمار، او ایس مانین اور اگری کرشنامورتی شامل ہیں۔ تاہم، مخالف گروپ کے کسی بھی اہم ایم ایل اے یا عہدیداروں نے شرکت نہیں کی۔ صرف ای پی ایس کی حمایت کرنے والے ایم ایل اے اور عہدیدار موجود تھے۔

سیاسی ذرائع کے مطابق، میٹنگ میں پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی گروپ بندی، ناراض ایم ایل اے کی سرگرمیوں اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسمبلی میں الگ گروپ کے طور پر پہچان حاصل کرنے کے لیے اے آئی اے ڈی ایم کے کے 47 ایم ایل اے میں سے کم از کم 32 کی حمایت درکار ہے،لیکن ایس پی ویلومنی گروپ کو صرف 25 ایم ایل اے کی حمایت حاصل ہے۔ چنانچہ اس وقت مخالف گروپ کے لیے الگ سیاسی پہچان حاصل کرنا مشکل سمجھا جارہا ہے۔

میٹنگ میں منحرف ایم ایل اے کے خلاف انسداد انحراف قانون کے تحت کارروائی کرنے کے امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر 25 ایم ایل اے کو نااہل قرار دینے کے آپشن پر غور کیا گیا۔ اس حوالے سے ایک میمورنڈم اسمبلی اسپیکر کو پیش کیا جا چکا ہے لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں لیتے ہیں تو ایڈاپڈی پلانی سوامی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اجلاس میں اس قانونی آپشن اور آئندہ کی حکمت عملی پر بھی خصوصی طور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید پارٹی کو دوبارہ مضبوط کرنے، تنظیم کو فعال کرنے اور اختلاف رائے رکھنے والے رہنماو¿ں کو بات چیت کے ذریعے واپس لانے کے امکانات پرگفتگو ہوئی۔ میٹنگ کے بعد پلانی سوامی نے ریاستی سطح کے عہدیداروں کے ساتھ الگ الگ بات چیت کی۔ بتایا جارہاہے کہ اس میٹنگ میں ایس پی ویلومنی گروپ کے خلاف مزید حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس دوران مخالف گروپ بھی سرگرم نظر آیا۔ اپوزیشن گروپ کا الگ اجلاس چنئی کے ایم آر سی نگر میں واقع سی وی شانموگم کے دفتر میں ہوا۔اس میں ایس پی ویلومنی اور سی وجے بھاسکر سمیت کئی لیڈروں نے شرکت کی۔ وہ اس میٹنگ کے بعد اے آئی اے ڈی ایم کے ہیڈکوارٹر بھی جا سکتے ہیں۔

پارٹی کے دوگروپوں میں تقسیم ہونے کے پیش نظر رائےپیٹہ میں اے آئی اے ڈی ایم کے کے ہیڈکوارٹر میں بھاری پولیس کو تعینات کیا گیا تھا۔ سیکورٹی ایجنسیاں پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے تھیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اے آئی اے ڈی ایم کے کی اندرونی سیاست مزید تیز ہو سکتی ہے اور اس کا اثر تمل ناڈو کی سیاست پر پڑے گا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: Hindusthan Samachar Urdu