
جموں, 19 مئی (ہ س)۔
جموں و کشمیر کے وزیر جنگلات جاوید احمد رانا نے جموں کے مضافاتی علاقے رائکہ باندی میں انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران کی گئی کارروائی پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے محکمہ جنگلات کے کردار کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، جبکہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔منگل کو رائکہ باندی کے متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے جاوید احمد رانا نے کہا کہ پولیس نے کارروائی کے دوران حد سے تجاوز کیا اور لوگوں کو نماز ادا کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی سفارش کریں گے۔واضح رہے کہ پولیس اور محکمہ جنگلات کی مشترکہ ٹیموں نے جموں شہر کے مضافاتی علاقے رائکہ باندی کے جنگلاتی خطے میں بڑے پیمانے پر انسدادِ تجاوزات مہم چلائی، جس کے دوران 30 سے زائد ڈھانچوں کو منہدم کیا گیا اور تقریباً 60 کنال جنگلاتی اراضی واگزار کرائی گئی۔
جاوید احمد رانا نے کہا کہ وہ پیر پنچال کے دورے سے واپس آتے ہی محکمہ جنگلات کے کردار کی تحقیقات کا حکم دے چکے ہیں۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو سماج کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے برسوں سے قربانیاں دی ہیں اور ان کے جذبات سے کھیلنا مناسب نہیں۔وزیر نے عوام سے امن و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا کہ متاثرین کی بازآبادکاری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور جن لوگوں نے زیادتی کی ہے، ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی امور کا محکمہ متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کے لیے قدم اٹھائے گا۔انہوں نے اس واقعے کو افسوسناک اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیوں کی مہذب معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔ جاوید احمد رانا نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ لوگ گزشتہ پچاس برسوں سے اس علاقے میں آباد ہیں اور ان کے پاس موجود ریونیو ریکارڈ کے مطابق زمین ان کی ملکیت ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر

